• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اِس و قت ایک کم سے کم بجٹ کی ہالی وڈ فلم بھی اربوں روپے میں بنتی ہے۔ بالی وڈ فلمیں دو سو کروڑ کو چھورہی ہیں۔ کیسا لگے گا اگر گھر بیٹھے چندہزار میں طوفانی فلم تیار ہوجائے۔ تھوڑے دن اور انتظار کیجئے۔ چائنا کی ٹک ٹاک کمپنی نے ’سی ڈانس‘ کی آزمائشی وڈیوز جاری کر دی ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی مائی کا لعل یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اے آئی نے بنائی ہیں۔ بہترین ساؤنڈ ایفکٹ، لاجواب سینماٹوگرافی اور ناقابل یقین آڈیو۔یعنی اگر کوئی ٹائی ٹینک جیسی فلم بنانا چاہے تو چند کمانڈز کی مدد سے اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھ کر چپس کھاتے ہوئے بنا سکتاہے۔یہ ہونے کو ہے اور جیسے ہی ہوگا سینما ختم، ڈرامہ ختم، ڈائریکٹر، پروڈیوسر، کیمرہ مین ختم، سیٹ ڈیزائنر، وڈیو ایڈیٹر، آڈیوانجینئر،اسٹوڈیو، وارڈروب،میک اپ حتیٰ کہ ایکٹر ز بھی ختم۔فی الحال رائٹرکاکام ابھی باقی ہے لیکن جس دن اے آئی نے اِس کی خامیاں بھی دور کرلیں رائٹر بھی ختم۔کیابنے گا پروڈکشن ہاؤسز کا؟ وڈیوکیمرے کون خریدے گا؟ اسٹوڈیو کے سامان کی کس کو ضرورت ہوگی؟ وی ایف ایکس ایفکٹ ٹائپ سافٹ ویئر ٹکے ٹوکری ہونے والے ہیں۔ٹی وی ڈرامہ بھی ہٹ لسٹ پر ہے۔اپنی پسندکے ایکٹر زتخلیق کرلیں اور بغیر پیسوں کے بہترین ایکٹنگ کروا لیں۔جوایکٹراس وقت ا سٹارزہیں اگر ان کی شکلیں استعمال کرنی ہیں تو اُنہیں پیسے دینے ہوں گے، وہ گھر بیٹھے صرف اجازت دیں گے، کسی شوٹنگ میں آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ہالی وڈ، بالی وڈ، لالی وڈ، خالی وڈ سب ختم سمجھیں۔اے آئی کی دُنیا آنے کو ہے۔ پروپیگنڈے کا طوفان مزید بڑھنے کو ہے۔ اے آئی سے بنی مذہبی تاریخ پرمبنی فلمیں بھی آنے کوہیں جن میں ہرکوئی خود کو فلم کی شکل میں صحیح ثابت کرتا نظر آئے گا۔میڈیاپروڈکشن سے متعلقہ احباب کو آج ہی سے متبادل روزگار کے بارے میں سوچنا چاہیے ورنہ جس دن یہ بم پھٹا، کچھ باقی نہیں رہے گا کیونکہ ٹیکنالوجی کاراستہ تو نہیں رکنے کا۔

٭ ٭ ٭

اللہ نہ کرے اگرکسی کا کوئی عزیز اسپتال میں وفات پاجائے اور تعلق کسی دور کے شہر سے ہو تو پرائیویٹ ایمبولینس اس کی بوٹیاں نوچ لینےکیلئےتیار کھڑی ہوتی ہے۔آپ نے اکثر اسپتالوں کے باہر ایمبولینس کی قطار لگی دیکھی ہوگی۔ان میں زیادہ تر پرائیویٹ ہوتی ہیں اور وہ بھی ہوتی ہیں جن میں مریض پورا بھی نہیں آسکتا۔ ان میں سے اکثر کے پاس ایمبولینس میں موجود رہنے والے ضروری آلات بھی نہیں ہوتے لہٰذا یہ صرف مردہ جسموں کو منتقلی کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک بزنس ہے اور ابھی تک بڑی کامیابی سے جاری ہے۔سستی ترین ڈبہ گاڑیوں کو ایمبولینس کا نام دے کر ان کے کارندے مرنے والے کے لواحقین پر گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں کہ ہمیں خدمت کا موقع دیں۔ غم کی گھڑی میں کوئی ان سے بحث کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے دوسرے شہر میں میت کی منتقلی کیلئے پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مفت ایمبولینس سروس کاا علان کیا ہے۔یہ بہت ہی اچھا اقدام ہے۔جن لوگوں کو میت کی منتقلی کا تجربہ ہوچکا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پرائیویٹ ایمبولینس والے کس کس طرح سے اُن کی جیب نوچتے ہیں۔بظاہرایسی اکثر ایمبولینس پر کسی ویلفیئر تنظیم کا نام تحریر ہوتا ہے جس سے خدا ترسی کا تاثر ابھرتاہے لیکن جب یہ معاملہ کرنے پر آتے ہیں تو دیہاڑی سے بڑھ کر کچھ نہیں سوچتے۔زندہ انسان دوسرے شہر بہت کم پیسوں میں سفر کر سکتاہے لیکن مرنے کے بعد اس کاکرایہ سو گنا زیادہ ہوجاتاہے۔سفر آخرت سے پہلے کا یہ سفر آسان ہوگیاتولوگ دعائیں دیں گے۔

٭ ٭ ٭

جوشادیاں سردیوں سے بچ گئی ہیں وہ اب رمضان کے بعد ہونے کی تیاریاں ہیں۔احتیاطاً بتاتا چلوں کہ پچھلے دنوں ایک شادی میں شرکت کے دوران ایک نئی چیز دیکھنے کو ملی۔ جو لڑکے دولہا بننے جارہے ہیں انہیں اس بات پر خاص دھیان دینا چاہیے کیونکہ جوتا چھپائی کی رسم اب پرانی ہوچکی ہے اب سالیوں نے نیا اور جدید طریقہ سیکھ لیا ہے جس کے بعد دولہے کو منہ مانگے پیسے دینے ہی پڑتے ہیں۔ ہوا یوں کہ ایک دوست کے بیٹے کی شادی پر ہم سب بیٹھے ہوئے تھے۔ اسٹیج پر جوتا چھپائی کی رسم چل رہی تھی۔اچانک دولہا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ کچھ دیر موصوف اپنی سالیوں کی منتیں کرتے رہے۔دوربیٹھے ہوئے ہم لوگوں کو لگا کہ وہ جوتا واپس مانگ رہے ہیں۔چونکہ اسٹیج پر بہت رش ہوچکا تھا اس لیے سین بھی واضح نظر نہیں آرہا تھا۔ اسی دوران میرے پاس بیٹھے ہوئے ایک صاحب کی اہلیہ ہنستی ہوئی اسٹیج کی طرف سے اُن کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ دولہا کواب ہرصورت پیسے دینے ہوں گے۔ شوہر نے حیرت سے پوچھا کہ کیا جوتی بہت قیمتی تھی؟ جواب میں اُن کی اہلیہ نے پہلے نفی میں سرہلایا پھر ہنستے ہوئے اُن کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر شوہر صاحب ہکا بکا رہ گئے۔ اہلیہ واپس گئیں تو میں نے شوہر صاحب سے پوچھا کہ کیاہوا۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ سن کر سب انگشت بدنداں رہ گئے۔موصوف نے انکشاف کیا کہ سالیوں نے جوتے کی بجائے دولہا بھائی کا موبائل چھپا لیا ہے۔صورتحال انتہائی دلچسپ بن گئی۔ سالیوں کی طرف سے پچاس ہزار کا تقاضا کیا جارہا تھا جو حیرت انگیز طو رپر دولہا نے پانچ منٹ کی منت سماجت کے بعد فوری طور مان لیا۔ میرا خیال ہے پیسے کم مانگے گئے تھے، اس کام کیلئے تو دولہاشائد پچاس لاکھ بھی دینے کو تیار ہوجاتا۔یہ جدید طریقہ کامیابی سے ہمکنار ہوچکا ہے اور کوئی پتا نہیں کہ عنقریب یہی رواج چل پڑے لہٰذا جو حضرات مستقبل میں دولہا بننے جارہے ہیں انہیں ’چتاؤنی‘ دی جاتی ہے کہ یاتوموبائل ساتھ نہ لے کر جائیں یا ’چھیاں چھیاں‘ والا لے جائیں تاکہ بلیک میلنگ سے محفوظ رہ سکیں۔مجھے لگتاہے عنقریب رشتے بھی ہونے ہوں گے تولڑکی والے کہیں گے ہمیں لڑکا نہیں دیکھنا، صرف ا سکا موبائل دِکھا دیں۔

تازہ ترین