متحدہ عرب امارات کی اوپیک (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹ کنٹریز) سے علیحدگی کا فیصلہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔
اوپیک کے تیسرے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک امارات نے حال ہی میں تقریباََ 60 سال کے بعد گروپ کو چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔
متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام تیل کے پیداواری کوٹے پر سعودی عرب کے ساتھ برسوں کے اختلاف کے بعد اٹھایا ہے۔
سعودی عرب نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل کی پیداوار میں کمی کی حمایت کی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے اقتصادی منصوبوں اور توانائی کی منتقلی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے تیل کی پیداوار بڑھانے پر زور دیا ہے۔
امارات کی جانب سے ایسے وقت میں اوپیک سے علیحدگی اختیار کرنے کے اعلان نے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی ترسیل میں دشواری کا سامنا ہے جو کہ تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
اس فیصلے کو زیادہ تر لوگ عالمی توانائی کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ 65 سال سے جنگوں اور بحرانوں کے دوران ٹوٹنے سے بچ جانے والے اوپیک کو اب شاید ایران جنگ سے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
یہ ایک سنجیدہ پیشرفت ہے اور اس فیصلے سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور قیمتیں متاثر ہوں گی۔