غزہ پر اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے بنائے گئے مصری ڈرامہ ’صاحب الأرض‘ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھوڑ دی۔
رمضان کے موقع پر عرب ٹی وی پر نشر ہونے والے فیملی ڈراموں اور تھرلرز کے بیچ، مصری ڈرامہ صحاب الارض (Owners of the Land) نے گزشتہ ہفتے اپنے ٹریلر کے بعد آن لائن شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔
یہ 15 اقساط پر مشتمل سیریز ایک مصری طبی وفد کے غزہ جانے اور وہاں اسرائیل کی بمباری کے دوران فلسطینی عوام کے ساتھ پیش آنے والے المیوں کو دکھاتی ہے۔
مرکزی کرداروں میں مصری اداکارہ مینا شلابی ایک ایمرجنسی ڈاکٹر سلمیٰ کا کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ اردنی اداکار ایاد نصر فلسطینی نوجوان نصر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ٹریلر میں بمباری، اسپتال کے مناظر، اسرائیلی فوجیوں کے دروازے توڑنے کے مناظر، فلسطینی صحافی اور مصری امدادی قافلے دکھائے گئے ہیں۔
ڈرامے کے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ردعمل شدت اختیار کر گیا، کئی افراد نے اسے ’وقت سے پہلے‘ اور نامناسب قرار دیا، کیونکہ غزہ میں اسرائیلی بمباری اور انسانی نقصان اب بھی جاری ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ڈرامہ المیے کو ’’پروموشنل مواد‘‘ میں تبدیل کر رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’غزہ کسی اسکرپٹ کے لیے نہیں ہے اور اس کا خون تشہیری مواد نہیں ہے۔‘‘
کچھ تنقید نگاروں نے اداکاروں پر بھی نکتہ چینی کی کہ وہ گزشتہ دو سال میں فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند نہیں کر سکے، اور اب المیے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم کچھ لوگ اس سیریز کو اہم سمجھتے ہیں اور اس کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک فیس بک صارف نے کہا کہ ’خوشی ہے کہ ہم نے اب کچھ معنی خیز کیا اور فلسطینی کاز کو زندہ کیا بجائے ان فضول اور مذاق کی چیزوں کے جو ہر سال مصری ٹی وی دکھاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ڈرامہ جذبات اور شعور کی تحریک کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر درست طریقے سے بنایا جائے تو یہ نسلوں تک لوگوں کے ذہنوں میں رہ سکتا ہے اور فلسطینی عوام کی موجودہ مشکلات کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکتا ہے۔