ہمارے ایم اے کے کورس میں ایک ڈاکومینٹری بنانا بھی شامل تھا، یہ دستاویزی فلم ’’آنر کلنگ‘‘ کے موضوع پر بنائی گئی، پراجیکٹ فلم بند کرنے کیلئے لندن سے پاکستان آنا ہوا، حقیقی کردار چنے گئے، قاتل (لڑکی کا ماموں) مقتولہ کی ماں، وکلاء وغیرہ کے انٹرویو کئے گئے، طبع زاد موسیقی ترتیب دی گئی، بورن متھ یونی ورسٹی کے ایڈیٹنگ روم میں لگ بھگ ایک مہینہ کام کیا گیا، اور "غیرت کے نام پر" ڈاکومینٹری تیار ہو گئی۔ روایت کے مطابق یونی ورسٹی کے آخری دن ایک بڑے ہال میں سب طلباء کی فلموں اور ڈاکومینٹریز کی سکرینگ ہوئی۔ ہماری ڈاکومینٹری کے بعد ’’لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے‘‘ والا منظر تھا۔ ’’غیرت کے نام پر‘‘ نے نمبروں کے اعتبار سے یونی ورسٹی کا آل ٹائم ریکارڈ توڑ دیا۔ڈاکومینٹری تو شاید اوسط درجے کی ہی تھی مگر مغربی معاشرے کیلئے کلچرل شاک شدید تھا، اور اسی نقطہء نظر سے موضوع کا انتخاب کیا گیا تھا۔ دو بالغ افراد کے بہ رضا تعلق کے ردِعمل میں انہیں قتل بھی کیا جا سکتا ہے؟ یہ خیال مغربی ذہن کیلئے قریباً ناقابلِ فہم تھا، ہماری کلاس میں دو چار ایسے افئیرز چل رہے تھے، مغربی معاشرے کیلئے یہ روز مرہ تھا، ایک عام سی بات، جس پر قتل تو کُجا کوئی بھوں بھی نہیں اچکاتا تھا۔ آج کل جیفری ایپسٹین کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں، دنیا بھر میں شور ہے، بالخصوص امریکا میں، ایپسٹین کوذہنی بیمار سے جانور تک کئی القاب دیے جا رہے ہیں۔ ایپسٹین فائلز (وڈیوز، آڈیوز، ای میلز) سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ صاحب سینکڑوں نابالغ بچیوں سے پیسوں کے عوض تعلقات قائم کرتے تھے۔ اس قضیے میں قانونی اور اخلاقی طور پر ’’نابالغوں‘‘ کا استحصال بنیادی جرم ہے، کیوں کہ نابالغوں کی رضا کو قانون تسلیم نہیں کرتا۔ یعنی وہ معاشرہ جو کامل جنسی آزادی پر یقین رکھتا ہے، نابالغوں کے بارے میں اس قدر حساس ہے۔ایپسٹین کی عبرت انگیز کہانی سے منسلک بہت سے سوال ہیں، ایسے درندے کی طرف حکومتوں کا، قانون کا، طاقت ور اشرافیہ کا رویہ اتنا محبوبانہ کیوں رہا؟ ایپسٹین 2009ء میں انہی جنسی جرائم پر، درجنوں بچیوں کی گواہی پر پکڑا گیا، مگر اسے ایک سال بعد چھوڑ دیا گیا، اسلئے کہ حکومت نے اُس کے ساتھ پلی بارگین کر لی تھی۔ ایپسٹین اگلے دس سال بھی انہی حرکتوں میں ملوث رہا، اور آخر 2019ء میں انہی الزامات پر دوبارہ گرفتار ہو گیا، اور اس سے پہلے کہ اس پر مقدمہ چلتا، ایک دن اپنے جیل سیل میں مردہ پایا گیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین نے خود کُشی کر لی ہے۔ لوگ نہیں مانتے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ایپسٹین کا مقدمہ چلتا تو امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے بیسیوں طاقت ور لوگ بے نقاب ہو جاتے، جو اس نابالغ جنسی نیٹ ورک کا حصہ رہے تھے۔ ایپسٹین کے ملنے والوں میں ڈونلڈ ٹرمپ، بل کلنٹن، ایلون مسک، بل گیٹس، برطانوی شہزادہ اینڈریو، نوم چومسکی اور ووڈی ایلن سے لے کر بین الاقوامی اشرافیہ کے درجنوں افراد شامل تھے۔ایپسٹین ایک جزیرے کا مالک تھا، جو حسن بن صباح کی جنت سے مشابہ تھا، یہاں عالمی اشرافیہ عیاشی کی غرض سے آتی تھی، شیخ الجبل جیفری ایپسٹین نے جزیرے کے چپے چپے پر، حتیٰ کہ ہر غسل خانے اور خواب گاہ میں خفیہ کیمرے لگا رکھے تھے، جن کی ریکارڈنگز ایپسٹین فائلز کا حصہ ہیں۔ ایپسٹین ارب پتی تھا، اسکےذرائع آمدن مشکوک تھے، وہ بہ ظاہر امراء کو سرمایہ کاری کے مشورے دیا کرتا تھا۔
ہمارے یہاں تو ہر دوسری چیز کو یہود و ہنود کی سازش قرار دے دیا جاتا ہے لیکن ایپسٹین کے بارے امریکا میں بہت سے سنجیدہ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ ایپسٹین صیہونیت کیلئے کام کرتا تھا۔ جے پی مارگن سے بارکلے بینک تک، اور عالمی یہودی بینکار روتھ چائلڈ خاندان سے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود بارک تک، ایپسٹین کے گہرے معاشی اور سماجی تعلقات تھے۔ ثبوت موجود ہیں کہ ایپسٹین عالمی اشرافیہ سے انکے ملکوں کی خفیہ دستاویز تک رسائی حاصل کیا کرتا تھا۔ یہ دستاویز اسکے کس کام کی تھیں؟ بہت سے سوال ہیں جو ابھی جواب طلب ہیں، اندیشہ بھی ہے اور امید بھی کہ اگر ایپسٹین فائلز کا سارا ریکارڈ بغیر ترمیم و تحریف کے مشتہر کر دیا جائے تو عالمی سیاسی و معاشی اشرافیہ کے بیسیوں ’’شرفاء‘‘ برہنہ ہو جائیں گے۔
اس سارے قصے میں ’’قانون کی حکم رانی‘‘ کا خوب مضحکہ اڑا ہے، ہم قریباً 250 سو سالہ امریکی جمہوریت کے بہت سے روشن پہلوؤں سے آگاہ ہیں، ابھی ابھی امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف والے فیصلے کو رد کیا ہے، مگر ایپسٹین کا معاملہ اپنے پیچھے درجنوں سوال چھوڑ گیا ہے۔ لگ بھگ بیس سال سے ریاست ایپسٹین کے مکروہ دھندے کو اچھی طرح جانتی تھی، مگر اسے تحفظ دیا جا رہا تھا، اسلئے کہ وہ فیصلہ سازوں کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں تھا۔ طاقت ور کہیں کے بھی ہوں قانون سے کد رکھتے ہیں، قانون پر عمل کرنے سے اشرافیہ کی انا کو صدمہ پہنچتا ہے۔ کیا قانون فقط عوام کیلئے ہوتا ہے؟ عالمی اشرافیہ کی عمومی اخلاقی حالت پر تبصرے کی ضرورت نہیں ہے، ’’جو بھی ہو تم پہ معترض اس کو یہی جواب دو...آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا۔‘‘ ایک بات سے خوشی ہوئی، جتنے سیاست دانوں کے ایپسٹین فائلز میں نام آئے ہیں انکے حواری اپنےلیڈر کے دفاع میں مختلف دلائل پیش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی کو یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ یہ میرے لیڈر کی ’’نجی زندگی‘‘ کا معاملہ ہے۔