بھکاریوں پر میں نے بہت سے کالم لکھے ہیں لیکن کتنی زیادتی کی بات ہے کہ بھکاریوں نے آج تک مجھ پر ایک کالم بھی نہیں لکھا۔لوگ لکھ لکھ کر تھک گئے ہیں کہ بھکاریوں پر پابندی لگنی چاہیے، لیکن مجال ہے جو آج تک کسی کے کانوں پر جوں تک بھی رینگی ہو لہٰذا کافی غوروفکر کے بعد میں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا ہے کہ بھکاریوں کی بجائے بھیک دینے والوں پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ جو شخص بھی بھیک دیتا ہوا نظر آئے اسے 72 گھنٹوں کیلئے حوالات میں بند کر دیا جائے۔ سوچتا ہوں اگر واقعی ایسا ہوگیا تو کیسا منظر ہوگا... پھر اخبارات میں کچھ اس طرح کی خبریں شائع ہوا کریں گی۔انارکلی پولیس نے چھاپہ مار کر بھیک دیتے ہوئے چار ملزم گرفتار کر لیے، بھیک پر لگی ہوئی رقم قبضے میں لے لی گئی۔سی آئی اے نے پانچ نوجوانوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جو عید کے موقع پر بھکاریوں میں بھیک تقسیم کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔مال روڈ کے ایک پلازہ میں چھاپہ، بھیک سے بھرے دو تھیلے برآمد۔بھکاری کی رپورٹ پر سیٹھ چینی والا کے خلاف بھیک دینے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔شریف گھرانے کے دو نوجوان بھیک دیتے ہوئے موقع پر گرفتار۔ سی سی پی او کی جانب سے پولیس کیلئے انعامات کا اعلان۔تھانہ سمن آباد نے بھیک دینے والے ایک گروہ کو گرفتار کیا ہے جس نے دوران تفتیش بھکاریوں کے علاوہ ناداروں اور بیواؤں کو بھی بھیک دینے کا اعتراف کیا ہے۔کچھ بھکاری عجیب و غریب قسم کے ہوتے ہیں، ماڈل ٹاؤن فلیٹس کے قریب ایک مجہول سا شخص ہاتھ میں اینٹ لئے آنے جانیوالوں کو اینٹ سے ڈرا کر بھیک مانگتا ہے، اس کی رال ٹپک رہی ہوتی ہے، ننگے پاؤں،پھٹے ہوئے کپڑے اور الجھے ہوئے بالوں کے ساتھ یہ ہر ایک سے ”دس روپے“ کی ڈیمانڈ کرتاہے۔ دس روپے سے کم نہیں لیتا اور اگر کوئی نہ دے تو اینٹ بلند کر لیتا ہے۔ایسے لوگ خود بھکاری نہیں ہوتے بلکہ انہیں خاص طور پر بھکاری ”تعینات“ کیا جاتا ہے ورنہ جسے لباس، جوتی اور اپنے آپ کی فکر نہیں اسے بھلا دس روپے کس لیے چاہئیں؟
٭ ٭ ٭
میرے ایک کولیگ ’مایوس پوری‘ کے نام سے مشہور ہیں۔قبلہ ہر خوشی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہیں، ہنستے ہوئے لوگ انہیں قہر لگتے ہیں، گھر میں بھی انہوں نے ہر قسم کی ہنسی پر پابندی لگا رکھی ہے۔ سنا ہے پچھلا مکان انہوں نے اس لیے بیچ دیا تھا کیونکہ ہمسائے سے ہنسی کی آوازیں آتی تھیں جو انہیں دل پر آری کی طرح چلتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔موصوف کامیابی کو بھی خوشی کی ہی ایک صنف سمجھتے ہیں لہٰذا پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہر وہ کام کیا جائے جس میں ناکامی کے سو فی صد چانسز ہوں۔میں نے ایک دفعہ ”مایوس پوری“ صاحب سے پوچھا کہ عالی جاہ! آپ اتنے موت پسند کیوں ہیں؟ جواب میں گہرا سانس لے کر بولے”یہ زندگی بہت جلد ختم ہونے والی ہے، ہنسنے والے بہت جلد روئیں گے، جو دُکھی نہیں وہ منافق ہے اور منافق کا ٹھکانہ جہنم ہے“۔ یہ سنتے ہی میری روح فنا ہوگئی، میں نے گھگھیاتے ہوئے کہا”لیکن مرشد! میں تو مزاح نگار بھی ہوں، مسکراتی تحریریں لکھنا میرا شوق بھی ہے اور روٹی روزی کا ذریعہ بھی“ گھور کر بولے”بدبخت انسان غم اوردُکھ میں گھری مخلوق ِ خدا کی دندیاں نکلواتے ہو، دیکھنا تمہاری لاش کو کیڑے اور بجو کھائیں گے۔“ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی، میری آواز بیٹھ گئی تھی ،میں نے بمشکل صرف اتنا کہا کہ”خدا کے بندوں کو خوش رکھنا اچھی بات نہیں؟“۔یہ سنتے ہی ”مایوس پوری“ کی آنکھوں میں شعلے جل اٹھے، دانت پیس کر بولے ”دُکھ سے بڑی خوشی کوئی نہیں ہوسکتی دُکھ ایک سچائی ہے اور خوشی ایک دھوکا بلکہ فراڈ بلکہ سراسر واہیاتی۔“ میں نے آہستہ سے پوچھا”عالی جاہ! آپ کبھی زندگی میں خوش نہیں ہوئے؟“۔ چلا کر بولے”میں لعنت بھیجتا ہوں خوش ہونے پر میں نے تو شادی کی پہلی رات بیوی کو بھی تحفے میں ”موت کا منظر“ گفٹ کی تھی۔
٭ ٭ ٭
اماں جیراں اکثر کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر میرے پاس آتی رہتی ہے، اس بار بھی وہ منہ بنائے بیٹھی تھی، پتا چلا کہ اس کی بیٹی نبیلہ پھر ساتویں جماعت کے امتحان میں فیل ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ نبیلہ نے پانچویں دفعہ یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ اماں نے پہلے تو نبیلہ کو کوسا پھر مجھے کہنے لگی ”بیٹا! کچھ کر کرا کے پاس نہیں ہوسکتی؟“
میں نے سرہلایا”بالکل ہوسکتی ہے...ایک طریقہ ہے“۔اماں خوشی سے اچھل پڑی”وہ کیا؟“”وہ یہ کہ تمہاری بیٹی دوبارہ سے امتحان دے“ میں نے اطمینان سے کہا۔
اماں کا پھر منہ بن گیا”وہ سو دفعہ بھی امتحان دے لے تو پاس نہیں ہوگی،نکمی کہیں کی...“ اماں نے جلی کٹی سنادیں اور برقع سنبھال کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ایک ہفتے بعد میری دوبارہ اماں سے ملاقات ہوئی میں نے پوچھا”سناؤ اماں! نبیلہ کا کیا بنا؟دوبارہ امتحان دیا؟“”نہیں پُتر! اس کے ابے نے اسے اسکول سے ہی اٹھوا لیا ہے، وہ کہتا ہے پڑھائی اِس کے نصیب میں ہی نہیں ...“میں نے افسوس کیا”اماں یہ ظلم نہ کرو،کچھ پڑھ جائے گی تو کہیں نہ کہیں نوکری ہی مل جائے گی، چا ر پیسے آجایا کریں گے۔“
اما ں خوش ہوکر بولی”نوکری تو اسے مل بھی گئی۔“میں حیرت سے اچھل پڑا”نوکری بھی مل گئی...لیکن کہاں؟“اماں اطمینان سے بولی”الحمد للہ اگلی گلی والے انگلش میڈیم اسکول میں ساڑھے سات ہزار پر استانی لگ گئی ہے اورآٹھویں جماعت کو پڑھا رہی ہے۔“