رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نہ صرف روحانیت اور عبادت کا موسم بہار ہے بلکہ یہ انسانی ہمدردی اور خیرات کی اعلیٰ اقدار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کے دلوں میں اللّٰہ کی رضا کے حصول کا جذبہ بڑھ جاتا ہے، جو عملی طور پر چیریٹی اور خدمتِ خلق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ مخیر حضرات غریبوں، مستحقین اور بیواؤں یتیموں کی امداد کیلئے آگے بڑھتے ہیں۔ راشن کی تقسیم، افطاریوں کا اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی اس مہینے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ تاہم اس نیکی کے عمل میں بعض ایسے عناصر بھی شامل ہو جاتےہیں جو چیریٹی کی اصل روح کو مجروح کر دیتے ہیں۔رمضان میں چیریٹی کا بڑھ جانا ایک فطری امر ہے۔ مسلمان اللّٰہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکرگزاری کے طور پر ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔ وطن اور وطن سے دور بسنے والے مخیر افراد راشن پیکجز تیار کرتے ہیں جن میں آٹا، چاول، دالیں، تیل اور دیگر بنیادی اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ یہ پیکیجز غریب مسکین لوگوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، جو ہزاروں خاندانوں کی رمضان کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح افطاریوں کا اہتمام بھی ایک خوبصورت روایت ہے۔ مساجد، کمیونٹی سینٹرز بلکہ سڑکوں پر بھی دسترخوان سجائے جاتے ہیں جہاں روزہ دار بلا تفریق افطار کرتے ہیں۔ یہ عمل سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے اسے روزہ دار کے برابر اَجر ملے گا۔ یہ تعلیم مسلمانوں کو خدمت اور سخاوت کی طرف مائل کرتی ہے۔بدقسمتی سے اس مقدس جذبے میں بعض منفی رجحانات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ بعض افراد اور ادارے سال بھر عوام اور مریضوں کے نام پر چندہ جمع کرتے ہیں مگر شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔ جذباتی اپیلوں کے ذریعے زکوٰۃ اور صدقات جمع کیے جاتے ہیں، لیکن جمع شدہ فنڈز کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات یا ذاتی مفادات پر صرف ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عطیہ دہندگان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اداروں کی ساکھ، مالی شفافیت اور عملی کارکردگی کا جائزہ لیں اور جہاں ممکن ہو براہِ راست مستحقین تک امداد پہنچائیں۔بہت سےمعتبر فلاحی ادارے انتہائی دیانت داری سے خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ بیت المال اور دوسرے حکومتی ادارے بھی مستحقین اور پرائیویٹ ویلفیئر اداروں کو اربوں روپے کی امداد دیتے ہیں ۔چیریٹی کا بنیادی اصول اخلاص ہے۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں بعض لوگ ذاتی و عوامی افطاریوں اور راشن کی تقسیم کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے اپنی تشہیر کرتے ہیں، جس سے غریبوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور یہ سب صدقہ خیرات کی روح کے منافی ہے۔ بہت سے مستحق سفید پوش خاندان خصوصاً مستحق خواتین اور بیوائیں عوامی تقسیم کے پروگراموں میں جانے سے گریز کرتے ہیں، ان کیلئے محلّہ یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے کر یا براہ راست غریب بستیوں میں امداد دی جانی چاہیے تاکہ ضرورت مندوں کی عزت نفس بھی برقرار رہے اور انکی مدد بھی ہو سکے۔روزہ صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:”اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بنو۔ “ (البقرہ: 183) یہ آیت روزے کے عالمگیر تصور کو واضح کرتی ہے اور اس کے روحانی مقصد کو بیان کرتی ہے۔ اسی تناظر میں روزے کی مذہبی ، رمضان کی چیریٹی، اور انسانی اخلاق و صحت کیلئے اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں پر متوازن انداز میں غور کرنا ضروری ہے۔ پروردگار سے قربت اور احکامات خداوندی پر عمل کے بعد روزے کا ایک اہم پہلو اس کے صحت کے حوالےسے فوائد ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق انٹرمٹنٹ فاسٹنگ جسم کی مرمت کا موقع دیتی ہے، انسولین کی حساسیت بہتر بناتی ہے اور دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرتی ہے۔ روزے کی حالت میں جسم چربی کو بطور توانائی استعمال کرتا ہے، تاہم بعض بیماریوں میں روزہ رکھنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے ۔ ہمارے معاشرے میں سحری اور افطار کے مواقع پر تلی ہوئی اور میٹھی اشیاء کا غیر متوازن استعمال اور بےتحاشا کھانا صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اگر افطار میں پھل، سبزیاں اور متوازن غذا شامل کی جائے اور ہلکی ورزش کو معمول بنایا جائے تو رمضان جسم اور روح دونوں کی پاکیزگی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان میں چیریٹی اور روزے دونوں کو شعور اور اخلاص کے ساتھ اپنایا جائے۔ چیریٹی کو وقتی جذبے یا نمائشی سرگرمی کے بجائے ایک مستقل سماجی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر امداد واقعی مستحقین تک عزت و احترام کے ساتھ پہنچے اور اس میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تو یہی عمل معاشرتی انصاف کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسی طرح روزہ کو محض بھوک اور پیاس تک محدود رکھنے کے بجائے اسے خود احتسابی، اخلاقی تطہیر اور کردار سازی کا ذریعہ بنایا جائے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ خواہشات پر قابو پانا حقیقی آزادی ہے اور دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنا اصل انسانیت۔اگر ہم اس مہینے کو صرف رسومات اور ظاہری سرگرمیوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی کا نقطۂ آغاز بنا لیں تو رمضان ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں حقیقی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سادگی، اعتدال، دیانت اور باہمی ہمدردی کا سبق بھی دیتا ہے۔ جب عبادت شعور سے جڑ جائے اور خیرات اخلاص سے، تو معاشرہ خود بخود اصلاح کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ تب رمضان محض ایک مہینہ نہیں رہتا بلکہ ایک تربیتی ورکشاپ بن جاتا ہے جو انسان کو بہتر فرد اور معاشرے کو بہتر سماج میں ڈھال دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی حقیقی روح کو سمجھنے، اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے اور اس کی برکتوںسے سال بھر فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
( صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)