وفاقی آئینی عدالت نے 29 سال سے قید سزائے موت کے مجرم کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست خارج کردی۔
دوران سماعت 80 سال کے مجرم کی سپریم کورٹ میں زیر التواء نظرثانی درخواست گم ہونے کا انکشاف ہوا، مجرم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل حکام کے مطابق نظرثانی درخواست 2005 میں دائر کی گئی تھی۔
وکیل کا کہنا تھا کہ جیل حکام نے 2020 میں سپریم کورٹ کو لکھا کہ نظرثانی کا اسٹیٹس بتایا جائے، سپریم کورٹ سے کوئی جواب ملا، نہ ہی نظرثانی درخواست کا کچھ پتہ چل رہا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2005 میں سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ اپیل 79 دن زائدالمیعاد ہے جبکہ نظرثانی زیر التواء ہے تو آئینی عدالت کیسے مداخلت کر سکتی ہے؟
جس پر وکیل بولے کہ سپریم کورٹ سے نظرثانی کا جواب نہ ملنے پر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست دی۔ پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ سزا برقرار رکھ چکی تو تبدیل کیسے کریں۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ مجرم جہانزیب 1997 میں قتل کے الزام پر مردان میں گرفتار ہوا تھا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ مناسب ہوگا کہ سپریم کورٹ میں زیر التواء نظرثانی کی پیروی کریں، وہاں سے ریلیف مل سکتا ہے۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین نے ریمارکس دیے کہ اپیل تاخیر سے دائر کرنے کی وجوہات زبانی کچھ اور بتا رہے ہیں اور درخواست میں کچھ اور لکھا ہے۔
جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ تاخیر سے دائر کرنے سے متعلق متفرق درخواست پہلے والے وکیل نے دائر کی تھی۔
چیف جسٹ وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ جو وجوہات درخواست میں لکھی ہیں ان پر تاخیر کو صرف نظر نہیں کرسکتے۔
خیال رہے کہ جہانزیب خان کو مردان کی ٹرائل کورٹ نے 2000ء میں سزائے موت دی تھی جسے اپیلوں میں برقرار رکھا گیا تھا۔