٭ عورت کو جتنی آزادی ملنی چاہیے تھی، وہ دینِ اسلام 1500 سال پہلے دے چُکا ہے، اب مزید جو چاہیے، وہ آزادی نہیں، بے حیائی ہے۔
٭ نیک عورت پر تہمت لگانے والا، ایک سو سال کی عبادت بھی لے کر آئے گا، تو اللہ تعالیٰ اُسے اُٹھا کر دوزخ میں پھینک دے گا۔
٭ اسلام نے عورت کو قید نہیں کیا بلکہ ہوس پرستوں کی نظروں سے محفوظ کیا ہے۔
٭ عورت پر حیا، چادر، چار دیواری اُسی طرح جچتی ہے، جیسے قرآن شریف پر غلاف۔
٭ کوئی بھی عورت دو ٹکے کی نہیں ہوتی، وہ ماں ہے تو جنّت، بیٹی ہے تو رحمت اور بیوی ہے تو نصف بہتر، ہم سفر۔
٭ ایمان والی عورت کا اصل زیور سونا، چاندی نہیں، حیا اور پردہ ہے۔
٭ مرد آنکھیں نیچی نہیں کرنا چاہتا، عورت پردے کو جہالت سمجھتی ہے اور خواہش دونوں کو عزت و احترام کی ہے۔
٭ حجاب، لڑکی کی شناخت چُھپاتا نہیں، بلکہ بتاتا ہے کہ وہ ایک مسلمان کے گھر پیدا ہونے والی باحیا ماں کی باحیا بیٹی ہے۔ (مہر منظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا)
ہنستے چہرے، بےبس لوگ
مَن میں جانے کتنے روگ
لب پر جھوٹی اِک مسکان
اندر درد کا ہے سنجوگ
دنیا دیکھے صرف ہنسی
کون سُنے گا، مَن کا سوگ
بستی بستی سنّاٹا ہے
نام کا ہے یہ میل، ملاپ
کس کو سُنائیں اپنی کتھا
اپنے دُکھ ہیں، اپنے بھوگ
دن بھر سب سے ملتے ہیں
تنہائی ہے ان کا جوگ
(عنبرینہ صابر، جہلم)