مبشّرہ خالد، کراچی
گرچہ اللہ تعالی نے خواتین کو یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف کام سرانجام دے سکتی ہیں، لیکن اکثر گھریلو اور پیشہ ورانہ امور کی مصروفیات کے سبب وہ اپنی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بالکل وقت نہیں نکال پاتیں۔ اَن گنت ذمّے داریوں کے سبب عام طور پر خواتین کادماغ24 گھنٹے ہی مختلف سوچوں، خیالات کی آماج گاہ بنا رہتا ہے، تو وہ ٹھیک سے اپنی نیند بھی پوری نہیں کرپاتیں۔
یہی وجہ ہے کہ خواتین میں ڈیپریشن کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس ضمن میں مختلف اوقات میں ہونے والی اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ اگر خواتین اپنی ذہنی و جسمانی صحت برقرار رکھنا اور ڈیپریشن پر قابو پانا چاہتی ہیں، تو اپنے پسندیدہ صحت مندانہ مشاغل ہرگز ترک نہ کریں اور مصروفیات کے باوجود ان کے لیے روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالیں، کیوں کہ اِس طرح نہ صرف ان کا ذہنی تناؤ کم ہوگا، بلکہ اُن کی مجموعی کارکردگی بھی بہتر ہوجائے گی۔
مثال کے طور پر کچھ لڑکیوں کو شادی سے پہلے مطالعہ کرنا بہت پسند ہوتا ہے، مگر شادی کے بعد مصروفیات بڑھ جانے کے باعث وہ مطالعے کے لیے بالکل بھی وقت نہیں نکال پاتیں۔ اِنھیں چاہیے کہ اگر وہ باقاعدہ کُتب کے مطالعے کے لیے وقت نہیں نکال سکتیں، تو کم از کم مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے والے مختصر افسانے، شاعری اور کالمز وغیرہ پڑھنے کے لیے روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور مخصوص کریں۔
اس عمل سےنہ صرف ذہنی تناؤ کم ہوگا، حالاتِ حاضرہ سے آگہی کے ساتھ نِت نئے آئیڈیاز بھی ملیں گے۔ جیسا کہ معروف پاکستانی اداکارہ، مرینہ خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں کُتّے، بلیاں پالنے کا بہت شوق ہے، تو اُنہوں نے شادی سے پہلے اپنے ہونے والے شوہر کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ وہ شادی کےبعد اپنے پالتو جانور ساتھ لے کرآئیں گی۔
اگر اُنہیں یہ بات منظور ہے، تو وہ اُن کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ سکتی ہیں۔ آپ سے میں بھی اگرکسی کو پالتوجانوروں کا شوق ہے، لیکن شوہر یا سُسرال کی روک ٹوک کے باعث ایسا کرنے سے قاصر ہیں، تو آپ اپنا دل بہلانے کے لیے اپنے کمرے میں ایک فِش ایکیوریم رکھ سکتی ہیں۔ اِس طرح آپ کا شوق بھی پورا ہوتا رہے گا اور فِش ایکیوریم کے ایک کمرے تک محدود رہنے کے سبب دیگر اہلِ خانہ کو کوئی اعتراض یا تکلیف بھی نہیں ہوگی۔
اِسی طرح باغ بانی بھی ایک بہترین مشغلہ ہے۔ اس سے نہ صرف خود کو ذہنی وجسمانی راحت و سکون کا احساس ہوتا ہےبلکہ اہلِ خانہ اور آس پڑوس کےلوگوں کی صحت پر بھی خاصے مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی قسم کے ڈیپریشن سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہیں، تو باغ بانی کیجیے، کیوں کہ یہ بات باقاعدہ تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ پودے ہماری باتیں سُنتےہیں اور جن پودوں سے باتیں کی جاتی ہیں، وہ ہمیشہ کِھلے کِھلے رہتے ہیں، تو آپ بھی اپنے دل کی بہت سی باتیں پودوں سے کرسکتی ہیں۔
کئی پریشانیاں فراموش کرکے اُن کے ساتھ بہت خوش گوار لمحات گزارسکتی ہیں۔ بعض خواتین اچھی موسیقی سُننے کی شوقین ہوتی ہیں۔ اُنھیں بھی ناحق اپنے شوق کا گلا نہیں گھونٹ لینا چاہیے بلکہ کچھ دیرکے لیے ایسی موسیقی سے ضرور لُطف اندوزہوں، جسےسُن کراُنھیں فوری راحت ملتی ہے اور وہ چند ہی لمحوں میں خُود کو ہلکا پُھلکا اورتوانا محسوس کرتی ہیں۔
علاوہ ازیں، ڈائری لکھنا بھی ایک اچھی،صحت بخش سرگرمی ہے۔ یہ عمل اپنے اندر کا غبار نکالنے میں بہت مدد فراہم کرتا ہے۔ اس لیے اگر کسی کو روزانہ ڈائری لکھنے کی عادت ہے، تو وہ بھی اپنی اس عادت کو ہرگز ترک نہ کریں۔ روزانہ کچھ وقت اپنے اس بہترین مشغلے کے لیے ضرور ہی نکالیں اور خُود کو پُرسکون محسوس کریں ۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ بات قابلِ اعتراض سمجھی جاتی ہے کہ کوئی لڑکی شادی کے بعد شوہر، بچّوں اور سُسرال والوں سے آگے بڑھ کر، اپنی ذات کے بارے میں بھی کچھ سوچے، مگرحقیقت یہ ہے کہ ایک عورت کا خود کو انسان سمجھنا اور اپنی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی اُتناہی اہم ہے، جتنا کسی اور کا خیال رکھنا بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ، کیوں کہ اگر وہ خُود کسی ڈیپریشن کا شکار ہے، تووہ بھلادوسروں کا بھی خیال کیسے رکھ سکتی ہے۔
سو، ہر عورت کو چاہیے کہ اپنے پسندیدہ مختلف صحت مندانہ مشاغل اپنا کر خُود کو ذہنی تناؤ سے حتی الامکان دُور رکھے، تاکہ خُود بھی خوش رہے اودوسروں کو بھی خوش رکھ سکے۔