• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عورت: مہر و محبت، اخلاص و وفا، ایثار و قربانی کا مرقع

روبینہ قریشی

جب اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات تخلیق فرمائی اور حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ کو زمین پر بھیجا، تو سب سے پہلے جو رشتہ وجود میں آیا، وہ زوجین کا تھا۔ حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ کی باہمی محبّت والفت اور ایک دوسرے سے گہری وابستگی کو خُود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے۔ ’’حوّا کو آدم کے لیے اس لیے پیدا کیا کہ وہ اِس سے سُکون پائے۔‘‘

اللہ پاک نے امّاں حوّاؑ کو حضرت آدمؑ کی بائیں پسلی سے تخلیق کیا اور روایات کے مطابق جب حضرت آدمؑ نے اُنہیں جنّت میں پہلی بار دیکھا، تو اُن کے دل میں فوری طور پر اُنس کے جذبات پیدا ہوئے۔ پھر جب اُن دونوں سے بُھول ہوئی اور اُنہیں جنّت سے نکلنے کا حُکم ملا، تو دونوں نے اکٹھے ہی توبہ کی۔ اس موقعے پر حضرت آدمؑ نے بی بی حوّاؑ پر الزام لگایا اور نہ امّاں حوّا نے ابوالبشرؑ پر۔ یعنی اس مشکل گھڑی میں دونوں ایک دوسرے کے لیے ڈھال بن گئے۔ 

​بعد ازاں، حضرت آدمؑ نے سیکڑوں برس تک اللہ تعالیٰ سے توبہ اور مغفرت طلب کرنے کے ساتھ زمین کے مختلف حصّوں پر نہایت بے قراری سے بی بی حوّاؑ کو بھی تلاش کیا۔ انسانِ اوّل کی یہ مسلسل تلاش اُن کی اپنے جیون ساتھی سے لگاؤ اور اُس کے لیے فکرمندی بھی ظاہر کرتی ہے۔ اور پھر جس مقام (میدانِ عرفات) پر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول فرما کر اُنہیں ایک دوسرے سے ملوایا، وہ جگہ آج بھی محبّت اور قربانی کی علامت ہے۔ روایات سے پتا چلتا ہے، دوبارہ ملاقات کے بعد حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ نے زندگی بَھر ایک دوسرے کو تنہا نہیں چھوڑا اور حضرت آدمؑ نے ہمیشہ ایک مثالی شوہر اور گھر کے سربراہ کی حیثیت سے بی بی حوّاؑ کا خاص خیال رکھا۔ 

نیز، حضرت آدمؑ نے اپنی اولاد کے لیے ایک محفوظ ٹھکانے کا انتظام کیا اور اللہ تعالیٰ کے حُکم سے خانۂ کعبہ کی بنیاد رکھی تاکہ خالقِ کائنات کی عبادت کی جاسکے۔ علاوہ ازیں، آپؑ نے اپنی رفیقۂ حیات اور اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت فرمائی، تاکہ وہ دُنیا میں ایک پاکیزہ زندگی گزارسکیں۔ حضرت آدمؑ اور بی بی حوّاؑ نے بہ حیثیتِ زوجین پوری انسانیت کو باہمی محبّت و اُلفت، صبرواستقامت، ایثار و قربانی اور غیر مشروط رفاقت و وفاداری کا درس دیا۔

تاہم، ظہورِ اسلام سے قبل خطۂ عرب میں جاہلیت اس نہج پر پہنچ چُکی تھی کہ وہاں عورت کو عموماً ذِلّت آمیز اور غلامانہ طرز کی زندگی گزارنا پڑتی تھی۔ اُسے تمام برُائیوں کا سبب اور قابلِ نفرت تصوّر کیا جاتا تھا۔ بیوہ ہونے کی صُورت میں عورت کو ایک سال تک تاریک حُجرے میں رہنا پڑتا، جہاں اُسے سال بَھر نہانے تک کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اِسی طرح مَرد ایک وقت میں متعدد عورتوں سے شادیاں کیا کرتے تھے اور ان کے مَرنے کے بعد اُن کے بیٹے ترکے میں ملنے والے مال ودولت کے ساتھ اُن عورتوں کو بھی آپس میں بانٹ لیا کرتے تھے۔

مزید برآں، عرب معاشرے میں عورت کو نہ صرف وراثت سے محروم رکھا جاتا بلکہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا وحشیانہ رواج بھی عام تھا۔ مختصراً یہ کہ جس عورت کو اللہ تعالیٰ نے محبّت و الفت کا پیکر بنا کر زمین پر اُتارا، اُس کا صدیوں تک عہد جاہلیت کے عرب معاشرے اور دُنیا کے دیگرحصّوں میں بُری طرح استحصال ہوتا رہا، جب کہ اس کے برعکس رحمۃ للّعالمین حضرت محمّد ﷺ نے عورت کو ایک ماتحت وجود یا زیرِ ملکیت شے کے مقام سے اُٹھا کر ایک خُود مختار فرد، معاشرے کی اہم رُکن اور قابلِ احترام ہستی کا مقام عطا کیا، جب کہ قرآنِ پاک میں بھی مَرد اور عورت کو مساوی بنیادی انسانی و روحانی حقوق عطا کیے گئے ہیں۔

یعنی مذہبی فرائض کی ادائی، اعمال اور آخرت میں سزا وجزا کے معاملے میں مَرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں۔ اس ضمن میں سورۃ النحل میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔’’جو کوئی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اُسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔‘‘ اِسی طرح اسلام نےمَرد وعورت دونوں کے لیے علم حاصل کرنے کو دینی فریضہ قرار دیا۔ اسلام نے عورت کو وہ معاشی و معاشرتی حقوق دیے کہ جن کا اُس وقت کی غالب تہذیبوں میں تصوّر تک موجود نہ تھا۔

مثال کے طور پر دینِ اسلام نے عورت کو جائیداد میں وراثت کا حق دیا اور وہ بیٹی، بیوی، بہن اور ماں کی حیثیت سے اپنے رشتے داروں کی وراثت میں حصّے دار ٹھہری۔ عورت کوذاتی طور پرجائیداد رکھنے، خریدنے، بیچنے اور اس کاانتظام سنبھالنے کا مکمل حق دیا گیا۔ یعنی وہ اپنی کمائی اور ملکیت کی خُود مالک ہے اور شوہر اُس پر کوئی حق نہیں رکھتا۔ اسی طرح اسلام نے شادی کے وقت شوہر کے لیے یہ لازم قرار دیا کہ وہ عورت کو بطور تحفہ (مہر) رقم یا جائیداد دے، جو اس کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے۔

​اسلامی شریعت کی رُو سے عورت کو کفالت سے مکمل آزادی دی گئی ہے۔ شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اُس کے نان نفقے (کھانا، لباس اور رہائش وغیرہ) کا ذمّے دار ہے۔ خواہ عورت خُود کتنی ہی مال دار کیوں نہ ہو، اُس کے اخراجات کے ذمّے دار اس سے متعلقہ مَرد ہی ہوں گے۔ اسلام نے عورت کو قانونی معاہدے کرنے، کاروبار چلانے اور گواہی دینے کا حق دیا۔ 

نیز، نکاح کے لیے عورت کی رضامندی کو شرط اور زبردستی کا نکاح باطل قرار دیا گیا۔ اِسی طرح اگرچہ طلاق دینے کا حق بنیادی طور پر مَرد کو حاصل ہے، لیکن عورت کو بھی شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے، جسے ’’خُلع‘‘ کہتے ہیں۔ اسلام نے بچّوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے اعتبار سے ماں کو سب سے زیادہ اہمیت دی اور اس ضمن میں نبی کریمﷺ کی حدیثِ مبارکہ ہے۔ ’’جنّت ماں کے قدموں تلے ہے۔‘‘ ماں کی فرماں برداری اور ادب و احترام کو باپ سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام نے نہ صرف عورت کو معاشرے میں ایک اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا، بلکہ اُسے قانونی اور مالی طور پر خُود مختار بھی بنایا۔

دوسری جانب اگر ہم آج کے دَور میں خواتین اور حقوقِ نسواں کا جائزہ لیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم ہر اعتبار سے عورت کا استحصال اور اپنی سیاہ کاریوں سے دینِ اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اسلام میں نکاح کی بنیادی شرط عورت کو حق مہر دینا ہے، جو اس کی اپنی ملکیت ہوتاہے، لیکن اس کے برعکس ہم ڈھیروں جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ہمارے دین نے عورت کو چند امور کا پابند کیا ہے، مثلاً پردہ، شوہر کی اطاعت، جائیداد کی تقسیم میں بہن کا بھائی سے کم حصّہ (کیوں کہ مَرد گھر میں موجود خواتین کا مکلّف بھی ہے) اور مطلّقہ یا بیوہ ہونےکی صُورت میں عدّت کی پابندی وغیرہ۔ تاہم، عورت کو کسی بھی اعتبار سے مَرد سے کم تر قرار نہیں دیا گیا۔ اِسی طرح کچھ پابندیاں مَرد پر بھی عائد کی گئی ہیں، جیسا کہ عورت کی کمائی میں مَرد کا حصّہ نہیں، جب کہ مَرد کی کمائی پر عورت کا حق ہے۔

مَرد پر جہاد فرض ہے، عورت پر نہیں۔ مَرد کے لیے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے، جب کہ عورت کو اُتنا ہی ثواب گھر میں نماز ادا کرنے پر ملتا ہے۔ عورت کی عظمت کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے نسلِ انسانی کو پروان چڑھانے کا عظیم فریضہ سونپا ہے، کیوں کہ ایک عورت مامتا، نرمی و گدازپن، ہم دردی وغم خواری، صبر و ایثار کے جذبات سے عبارت ہوتی ہے، جب کہ مَرد کو اللہ تعالیٰ نے سخت جان اور جفاکش بنایا اور اس میں برداشت کا مادّہ رکھا۔ آج میڈیا دن رات عورت کی مہر ووفا، ایثاروقناعت پسندی جیسی صفات ختم کرنے کےدر پے ہے۔ صنفِ نازک پر وہ ذمّے داریاں بھی عائد کی جا رہی ہیں، جن کی وہ مکلّف ہی نہیں ہے اور یہ اُس کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔

چُوں کہ صدیوں تک عورت پِستی رہی، اس کا نان نفقہ، جو مَرد کا فرض تھا، اُسے احسان کی طرح دیا گیا اور اس پر وہ فرائض بھی عائد کیے گئے کہ جو اُس کے تھے ہی نہیں، تو ان سب کے نتیجے میں آج خواتین کی ایک بڑی تعداد گھرداری سے دُور ہوچُکی ہے۔ نتیجتاً، ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس میں خُلع لینے کے واقعات کی تعداد تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔

یہ دُرست ہے، عورت بھی ایک باوقار زندگی گزارنے کا پورا حق رکھتی ہے اور اگر عورت کو معاشی طور پرخُود کفیل بنانا چاہتے ہیں، تو مَرد کو عورت کی عزّت بھی کرنی ہوگی۔ اور اس کے لیے شادی سے پہلے لڑکوں کو بیوی کی عزتِ نفس کا خیال رکھنے کی تعلیم دینا لازم ہے، تو ساتھ ہی لڑکیوں کو ایک بیوی کے طور پر صبرو شُکر اور قناعت پسندی کی اہمیت بھی بتانی ہوگی، نیز اُنہیں اس بات کی آگہی بھی دینی ہوگی کہ وہ اپنا علم اور وسائل اپنے بچّوں کی اعلیٰ تعلیم وتربیت پر بھی صَرف کرسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک باشعور معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصّہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

سنڈے میگزین سے مزید