• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عباس تابش کا خاکہ لکھنے بیٹھا ہوں اور پچھلے پون گھنٹے سے قلم (اور دل) تھامے کورے کاغذ کو گھور رہا ہُوں کہ آخر شروع کہاں سے کروں؟ کوئی بتلائے کہ محبّت کے دائرے کا نُقطۂ آغاز کون سا ہوتا ہے؟ کوئی سمجھائے کہ یومِ ازل کی تاریخ کیا تھی اور یومِ ابد دن کیا ہوگا؟ اس سطر تک آتے آتے شعر ہوا کہ ؎ مَیں راہ چُننے کے جھنجھٹ میں کیوں پڑوں، مِرے دوست… ہر ایک راہ تمہارے ہی گھر کو جاتی ہے۔ اس کائناتی تعلق یا تعلقاتی کائنات کا Big Bang کراچی ائیرپورٹ تھا۔

آغاز ہی میں بتاتا چلوں کہ آبروئے غزل، عباس تابش کے ساتھ میری نیازمندی میں ایک نام ایسا ہے جس کے بغیر کہانی ناتمام اور روانی خام رہے گی اور وہ نام ہے شکیل جاذب۔ یہاں کردار کہانی میں اور کہانی کرداروں میں یُوں گتھ متھ گئی ہے کہ وحدت الوجود بغیر دلیل اور بِنا وکیل کے ثابت ہے۔ خاکے کے آغاز میں جاذب کو فون کیا کہ ’’دُعا کرنا، عباس تابش کا خاکہ لکھنے والا ہوں۔‘‘ کہنے لگے۔ ’’یہ اُن کا خاکہ بھی ہے، تمہاری آپ بیتی بھی۔‘‘ توصاحبو! یہ بات ہے، دو ہزار چھے کی۔ ہم سول سروس میں آ چُکنے کے بعد کراچی میں زیرِتربیت تھے۔ 

کراچی ائیرپورٹ پر ان دو صاحبان سے ملاقات ہوئی کہ جن کے نام عباس تابش اور شکیل جاذب ہیں اور جنہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستانی شعر وادب کے درخشاں تر ستارے بننا تھا۔ دو تین ہی جُملوں کا تبادلہ ہوا کہ عباس شکیل سے بولے۔ ’’یار! اس لڑکے کو تو ہمارا دوست ہونا چاہیے۔‘‘لیجے۔ جُملے میں آفاق گیری قوت تھی، سو ایسی پیشین گوئی ثابت ہوا، جس نے خُود کو سچ کر دکھایا۔ 

شروع کی مُلاقاتوں ہی میں ناچیز کو اُس چیز پر مبارک دی گئی، جسے شعری امکان کہتے ہیں۔ کہا گیا کہ پہلی فرصت میں شمس الرحمان فاروقی کی ’’شعرِ شور انگیز‘‘ پڑھ ڈالیے۔ ہم ٹھہرے کتاب کے معاملے میں مہا لالچی، سو ساری جِلدیں یہاں تک کھنگال لیں کہ پرت در پرت ورق گردانی کےبعد میر کی اپنی جِلد نظر آنے لگی۔ نَو مشقی کا عالم تھا۔ اس کتاب نے میرا شعری نظریہ، غزل کی کیفیت اور کرافٹ کا تمام سانچا بدل دیا۔ 

رفتہ رفتہ عباس تابش سے نشستوں کی تعداد اور دورانیہ اس قدر بڑھ گیا کہ روز ملاقات ہونے لگی۔ ان محافل کی ایک بات یادگار تھی۔ اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پِھرتے، ہنستے گاتے، آتے جاتے سب کا مطمعِ نظر شعر اور محض شعر ہُوا کرتا تھا۔ کسی ایک شعر پر سیرحاصل گفتگو ہوتی۔ اُس کی شعری کیفیت، کرافٹ کا شجرہ اور مضمون کا سفر زیرِ بحث آتا۔

دلائل دیے بھی جاتے، رد بھی کیےجاتے۔ کلاسیک سے سند لائی جاتی اور معاصر شاعری میں متماثل ڈھونڈا جاتا۔ عباس تابش اس سب گفتگو کی سربراہی تو کرتے لیکن سب کی سُنتے بھی۔ کوئی طرح مصرع جاری کرتے، سب شوق سے غزلیں کہہ کرلاتے۔ ان محافل سے ناچیز سمیت بہت سوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اکثر آج بھی مانتے ہیں، بعضے خود اُستاد بن بیٹھے۔

لُطف کی بات یہ ہے، عباس تابش کے شعری سفرمیں ہرقبیل وقبیلہ کےہم راہی آئے۔ مصرعے میں ڈوبے گُم صُم شاعر، سیکھنے کی آگ میں دھڑدھڑ جلتےطالبِ ادب، مشاعروں کے حریص لکھاری، صُوفی کا رُوپ اوڑھے کُوفی، خبطِ عظمت کے شکار حاسدین، شہرت کی کلغی سر پرسجائے ڈیڑھ پھلجھڑی پر سال دو سال چمکتے نئے شاعر، مسلسل باوفا و مخلص جان چھڑکتے دوست۔ 

ناچیز کا ایک شعر ہے۔ ؎ فارس! اک روز اِسی عِطر سے مہکے گا وہ شخص…آپ چُپ چاپ فقط جان چھڑکتے جاویں۔ وقت سے بڑا پارکھ اور چھلنی کوئی نہیں۔ سو مُخلص اور باادب ہی رہ گئے اور بقیہ حسد کے زرد گھاٹ اُترگئے یا بےادبی کی تاریک بستی کونکل گئے۔ یاد پڑتا ہے، ایک دو سرسری ملاقاتیں عباس تابش سے تب بھی رہیں، جب یہ الرزاق پبلی کیشنز کے مہتمم و منتظم تھے۔

اُن کے مصرعے کی خوشبو تب تک مُلک بھر میں پھیل چُکی تھی اور اُن کے سُخن کا الگ رچاؤ سُبھاؤ نظر آنے لگا تھا۔ اُس دَورمیں معروف شاعر وصی شاہ کی کتاب ’’کنگن‘‘ انہی کے اشاعتی ادارے سے چھپ کر مقبول ہو چکی تھی۔ مُلک کے معروف فلم ہدایت کار سیّد نور کی مرحومہ اہلیہ رُخسانہ نُور کے دفتر ’’آرٹ اینڈ ویژن‘‘ میں بھی اُن کا آنا جانا تھا۔ تبھی سے مصرعے پر گفتگو کے دوران تابش کا بہتر سے بہتر لفظ کی مسلسل کھوج میں رہنامجھے تجسّس میں مُبتلا کرتا تھا۔

مصرعے کو مسلسل سنوارتے رہنے، غزل کی کیفیت میں شب وروز سانس لیتے رہنے اور سچّے سُخن کی مسلسل دُعا مانگتے رہنے کی عادت تابش کی تبھی سےہےاور اُن کے لاکھوں قدردانوں سمیت مَیں عینی گواہ ہُوں کہ وہ اس ریاضت اور دُعا میں حد درجہ کام یاب ہیں۔ شعری حوالے سے عباس تابش کے فن پر بات کرنا سُورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ 

وہ بلاشبہ عصرِ حاضر میں آبروئے غزل ہیں۔ اُردو زبان جہاں جہاں پڑھی، لکھی، بولی، سُنی، سمجھی، چاہی اور سراہی جاتی ہے، دیوانگانِ تابش موجود ہیں۔ ناچیز کو اُن کے ساتھ متعدد ممالک کے شعری دورےکرنے کا اتفاق ہُوا ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ مشاعرہ گاہ میں سامعین عُمر اور کیفیت کےجس بھی قبیلے سے ہوں، تابش داد و تحسین لینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ہم مشرقِ وُسطیٰ میں بھی اکٹھے سفر کر چُکے ہیں اور امریکا بھی۔ مُلکوں مُلکوں مشاعرہ گاہوں میں یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ نوجوانوں کو بھی ان کے اشعار ازبر ہیں، بزرگوں کو بھی۔

تابش میں ایک انتہائی انوکھی بات ایسی بھی ہے، جو آج کل خال خال ہے۔ شیئر کرنے کا حوصلہ۔ دہائیوں کے دوران سیکھا علمِ شعری ہو یا برسوں سےکمایا حلقۂ احباب، اپنے اثاثہ جات دوستوں کے ساتھ شئیر کرنے کے معاملے میں فیّاض اور دریا دل ہیں۔ اُنہی دِنوں کی بات ہے،ماہ نامہ ’’بیاض‘‘ کے طرحی مشاعروں میں اللہ بخشے خالد احمد سے یاد اللہ ہوئی۔ 

نادرِ روزگار شخصیت تھے۔ عباس تابش کے مستندو معتبر ہونے کے حوالے سے اُن کی گواہی خُوب تھی۔ یادش بخیر، خالد احمد سے میری اوّلین ملاقات سرما کی ایک خاموش شام میں الحمرا آرٹس کونسل، لاہور کی سُرخ سیڑھیوں پر ہوئی تھی۔ ایک ہاتھ کی انگلیوں میں دبا ادھ سُلگا سگریٹ، موجود ومیسر سے یک سر لاتعلق اُلجھے سُلجھے بال، ہوا میں کہیں دُور، دیدہ و شُنیدہ کے پار نادیدہ و ناشُنیدہ کو کھوجتی نظر، زیرِ لب کچھ سرگوشی نُما آواز۔ 

شاید بلکہ یقیناً کسی مصرعے سے گپ شپ کررہے تھے۔ مَیں ٹھہرا ایک بےصبرا مُبتدی سو، کارِسرکار میں مُخل ہُوا۔ سلام کیا۔ جواب ملا۔ ہلکی سی مسکراہٹ اور سر کی اُتنی ہی ہلکی جُنبش۔ اُس دن کے بعد سے مُسلسل اُن سے ملاقاتیں رہنے لگیں۔ مَیں عموماً مختلف احباب کے ہم راہ اُن کے ہاں وارد ہوتا اور چُپکا بیٹھا انفس و آفاق کا احاطہ کرتی اُن کی گفتگو سُنتا اور سر دُھنتا۔ 

ایک روز مَیں مُرشد عباس تابش کے ساتھ ’’بیاض‘‘ کے ایک مشاعرے میں داخل ہُوا تو دُور سے لپک کر داخلی دروازے تک آئے اور اپنی خاص مُسکراہٹ چمکا کر بولے۔ ’’ہُن تُوں ٹھیک ہتھّاں وچ آگیا ایں۔‘‘ اُسی دن سے مَیں نے اُنہیں ’’دادا مُرشد‘‘ کہنا اور انہوں نے اس اندازِتخاطب پر معصوم سی خوشی کا اظہار کرنا شروع کیا۔ 

اُس دَورمیں عباس تابش لاہور میں مختلف جگہوں پرقیام پذیر رہے۔ وحدت روڈ پر بھی اُن کی رہائش رہی اور گلبرگ کالج قذافی اسٹیڈیم بھی اُن کا گھر رہا۔ تب مَیں لاہور ہی مَیں ڈپٹی کمشنر ایف بی آر تعینات تھا۔ دفتر سے واپسی پر اکثر اُن کے ہاں جاتا۔ روز کسی نئی کتاب پر بات ہوتی یا کسی نئے شعری زاویۂ نگاہ پر گفتگو۔ ایک دل چسپ راز آج بذریعہ ’’جنگ، سنڈے میگزین‘‘ کھولنا چاہتا ہوں کہ عباس تابش کی لائبریری میں بہت نادر و نایاب کتابیں ہُوا کرتی تھیں۔ 

اکثر کسی نہ کسی کتاب پر میری رال ٹپک پڑتی۔ تابش کہتے کہ ’’یار! ہلے میں پڑھ ریاں۔ مینوں مُکا لین دے۔‘‘ (ابھی مَیں پڑھ رہا ہُوں۔ مُجھے ختم کرلینے دو)۔ ناچیز آنکھ بچا کر وہ کتاب چُپکے سے کھسکا لاتا اور تین چار دن بعد فون پر بتاتا کہ ’’مُرشد ! وہ فلاں کتاب غلطی سے میری گاڑی میں رہ گئی تھی۔‘‘ تابش ہنس پڑتے اور اپنے مخصوص دلبرانہ لہجے میں کہتے۔’’اچھا یار! پڑھ کے واپس کر دینا۔‘‘

عباس تابش دوستوں کے کام آنے کے حوالے سے غالب کی سی فکرِ رسا رکھتے ہیں۔ فرض کیجے، اُن کاکوئی دوست آئے کہ یہ کام آن پڑا ہے، کیا کروں؟ یہ تھوڑا سر کُھجا کر، تھوڑا سوچ بچار کرکے اُسے بتائیں گے کہ فلاں سے بات کرو،وہ فلاں کا ہم سایہ رہا ہے، وہ اپنے ہم زُلف سے بات کرے گا، جو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ہے اور تمہارا کام ہوجائے گا۔ اِن کے اِس طرح کے نُقطے ملاتے مشوروں سے اکثر دوستوں کے کام ہوجاتے تھے۔ 

مگر یہ صلاحیت انہوں نے اپنی ذات کے لیے کبھی استعمال نہیں کی۔ ایک اور دل چسپ بات مجھے اکثر محسوس ہوئی کہ تابش اپنے حاسدین پر گفتگو کرنے کو خدا کے عطا کردہ وقت کا زیاں اورمہلت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ موجودہ عصری منظرنامے پر بھی ان کے حوالے سے ایک مخصوص طبقے نے جو بھی ناکام و نامُراد مہم چلائی، تابش نے ہمیشہ ایک باوقار خاموشی اختیار کیے رکھی۔ جواب دیا تو محض ایک طریقےسے، کیا بھلا؟

جی ہاں! غزل کہی اور ایسی دھانسو کہ سب کے منہ بند کروا دیے۔ ؎ گالیاں دیں نہ کسی شخص سے منہ ماری کی… جب بھی دُکھ پہنچا مجھے، مَیں نے غزل جاری کی۔ ناچیز اس بات کا عینی شاہد ہے کہ عباس تابش نے ہمیشہ فراخ دلی، اعلیٰ ظرفی اورمتانت سے خُود پر ہونے والےاعتراضات کا جواب دیا۔ یار لوگوں نے کیا کچھ نہیں کہا۔ جواباً تابش نےکچھ بھی نہیں کہا۔ 

اُن کے شعری مجموعوں ’’تمہید‘‘، ’’آسمان‘‘، ’’مجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا‘‘، ’’پروں میں شام ڈھلتی ہے‘‘، ’’رقصِ درویش‘‘ اور کلیات ’’عشق آباد‘‘ تک آتے آتے زندگی اُنہیں مختلف ادوار سے گزارتی لائی اور ہر دَور نے اُن کے فن کو پُختہ تر اور کیفیت کو مزید چمک دار کیا۔ 

میلسی سےلاہور، گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو سے روزنامہ جنگ میں ملازمت، ’’راوی‘‘ کی ادارت سے اُردو کی پروفیسری اور تمغۂ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمینس سے چئیرمین مجلسِ ترقئ ادب، لاہور تک تابش کا سفرایک ایسی کُھلی کتاب ہے، جس کا عُنوان محض خلوص و محبت ہے۔ اس دوران اندرونِ مُلک و بیرونِ ملک ہم نے بےشمار مشاعرے اکٹھے پڑھے۔ 

متعدد اسفار کے دوران تابش و جاذب اور ناچیز ہم سفر تھے۔ تابش کے قریبی لوگ جانتےہیں کہ ہمہ وقت مصرعے کی کھوج اور انوکھے مضمون کی تڑپ تابش اپنے دوستوں میں بھی منتقل کر دیتے ہیں۔ مَیں نے عام گفتگو میں مصرعے کا امکان دیکھ لینا، چلت پھرت کیفیت سے شعری کیفیت میں ڈھل جانا اور عام روزمرّہ بات چیت میں غزل کی ممکنہ چمک دریافت کرلینا انہی سے سیکھا اورمجھے اس بات کا اعتراف کرنے دیں کہ میری نمائندہ غزلوں کی زمینیں مجھے خدائے تخلیق نے اسی صلاحیت کے سبب عطا فرمائیں۔ 

؎ بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں… ہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانہ تو ہے نہیں۔ ؎ کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی… کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے۔ ؎ عشق ٹوٹا تو استخارہ کیا…اور پھر عشق ہی دوبارہ کیا۔ اور ایسی بیسیوں غزلیں جنہوں نے الحمدُللہ دُنیا بھر میں ناچیز کو شعری پہچان دی، اِسی کیفیت کی عطا ہیں۔ یہاں یہ بتانا ازحد ضروری ہے کہ تابش کے ہاں یہ ریاضت ریاضت کے مختلف مدارج سے ہوتے ہوئے حسیات کا حصّہ ہے، لہٰذا ایک فطری صلاحیت و سہولت بن چُکی ہے۔

مَیں نے تابش و جاذب کے ہم راہ جنوبی پنجاب کے کسی دُور اُفتادہ دیہات کے کسی مُنّے سے گھر کی چُنّی سی بیٹھک میں بھی مشاعرہ پڑھا ہے اور لاس اینجلس، نیویارک، واشنگٹن میں آنکھیں خیرہ کردینے والی مشاعرہ گاہوں میں بھی۔ ارے بھئی، ان شہروں سےخُوب یاد آیا۔ عباس تابش اتنی بار امریکا مشاعرے پڑھنے جا چکے ہیں کہ اُنہیں ’’پاکستانی کولمبس‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان کے ذریعے پاکستانی شعری منظر نامے نے امریکا دریافت کیا۔

ہیوسٹن ائیرپورٹ کا وہ لمحہ تو یادگار تھا، جب تابش و جاذب مجھے ائیرپورٹ لینے آئے اور ہم تینوں پہلی بار امریکا اکٹھے ہوئے۔ اس سفر کے قصے بہت دل چسپ اور پُرلُطف ہیں۔ سُنانے بیٹھوں تو داستانِ طلسمِ ہوش رُبا بن جائے۔ مختصر یہ کہ ہم قہقہے بھی خوب لگاتے، غزلیں بھی خُوب سُنتے سُناتے، کبھی کبھار لڑائی جھگڑا بھی کرتے اور خُوب سیرسپاٹا بھی۔ 

گیلویسٹن کے ساحلِ سمندر پر ست رنگی سیپیاں چُننا بھی اُتنا ہی یادگار تھا، جتنا گھوڑوں کی ریس پر دو دو ڈالرز لگا کر جیتنا۔ ہمارا بیس کیمپ ہیوسٹن میں عنایت اشرف عیش اور مرحوم عقیل بھائی کا ڈیرہ تھا۔ امریکا بھر میں مشاعرے لُوٹ کر وہیں لَوٹ آتے اور عیش و عقیل کو عین منتظر پاتے۔

تابش شعری مزاج میں جدت کےنت نئے زاویوں کے باوجود روایت سے اس حد تک جُڑے ہیں کہ آج بھی لکھنےکے لیے کاغذ، قلم استعمال کرتے ہیں۔ گئے دِنوں میں عباس تابش کی صدارت میں وہ محافل بھی یادگار ہیں، جن میں شعری کیفیت نُقطۂ کمال تک پہنچ جاتی تو تابش کی جانب سے اعلان ہوتا کہ اب ہمارا کلام بند اور کلامِ خدا شُروع۔ 

سو، قاری عبدالباسط کی متبرک و محترم آواز میں سورۂ رحمان کی تلاوت سُنی جاتی اور باجماعت گریہ کیا جاتا۔ صاحبو! گریہ سے یاد آیا۔ ناچیز اس بات کا بھی گواہ ہے کہ تابش قبل از تہجّد بےدار ہوتے ہیں اور اُن خواب ناک خاموش ساعتوں میں ربِ تخلیق کے سامنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرکے اپنے لیے سچی کیفیت کے اشعار کی دُعا کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک دُعاکی قبولیت کا ثبوت یہ شعر دیکھیے۔ ؎ ایک مُدّت سے مِری ماں نہیں سوئی تابشؔ… مَیں نے اک بارکہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے۔

یہ اُن سیکڑوں لازوال اشعار میں سے محض ایک ہے، جو عباس تابش نے کہہ رکھے ہیں۔ اب آپ اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتائیے کہ ایسا زندہ، امراور بےپناہ کیفیت والا شعر کیا کسی عام شاعر کو عطا ہوسکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں! عباس تابش نے اُردو غزل کو جتنا ثروت مند کیا ہے، اُس کے لیے اُردو زبان بھی اُن کی مقروض رہے گی اور عاشقینِ اُردو بھی۔ شکیل اس بات کے گواہ ہیں کہ ناچیز نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے اور مسلسل سیکھ رہا ہے۔

محبت بتائی جتائی نہیں جاتی ،محض کی جاتی ہے، مگر مجھے یہ کہ جتنی خامیاں ہیں، اُن کا دوش میرے سر ہے۔ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے اپنے شعری سفر کے ہر پڑاؤ میں تابش میسر رہے کہ جو ایک مُخلص بڑےبھائی بھی ہیں، خیرخواہ دوست بھی، سچے اُستاد بھی اور پدرانہ شفقت کے حامل بزرگ بھی۔

دُعا ہے، عباس تابش اوراُن کےاشعار ہزاروں سال جئیں۔ ان کی گزشتہ سال گرہ پر کہے دو شعر اِس اُمید پر دوبارہ پیش کیے دیتا ہوں کہ یہ خاکہ(محبّت نامہ) اُن کے دل میں جگہ پائے گا۔ ؎ تُو مجمعِ جُہَلا کی نہ سُن، مِرے شاعر!… سخن شناس تُجھے والہانہ چاہتے ہیں …کلام کر کہ بقا کی ہے آرزو جن کو…وہ لفظ سب تری غزلوں میں آنا چاہتے ہیں۔ (خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید