• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے اِردگرد نظر دوڑائیں، تو اندازہ ہوتا ہے، معاشرے میں اکثر ایسی رسومات و بدعات رائج ہوچُکی ہیں کہ جن کا اسلام سے سِرے سے کوئی تعلق ہی نہیں بلکہ ان میں سے بیش تر تو اسلام سے متصادم ہیں اور ان میں سے زیادہ تر رسومات شادی بیاہ یا فوتیدگی کے موقعے پر ادا کی جاتی ہیں، جب کہ بحیثیتِ مسلمان ہمارے لیے ان غیراسلامی رسومات کو جاننا اور ان سے ہر صورت بچنا لازم ہے۔ سو، ذیل میں ان بِدعات کا مختصراً تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

1- شادی بیاہ کے موقعے پر بے جا خرچ، شاہانہ سجاوٹ، منہگے کارڈز چھپوانا، منہدی، ہلدی، مایوں، سیج اور مکلاوے (تیسرا، ساتواں وغیرہ) کی تقریبات، آر سی مصحف، منہ دکھائی کی رسم،دُولھا کے پاؤں تلے کانچ کی پلیٹ رکھنا،دودھ پلائی، سرمہ لگوائی، جوتا چھپائی، بینڈ باجے، ڈھول تاشے بجوانا، باگ، گوڈا پھڑائی، دُلہن کی رُخصتی کے وقت چاول پھنکوانا، چاول، چینی اور گھی میں ہاتھ پِھروانا، قرآنِ پاک میں پیسے رکھوانا، گود میں بچّے بالخصوص لڑکے کو بٹھانا، تین دن تک دُلہن کے گھر سے ناشتا اور کھانا آنا، دُلہن کے بھائی کا دوپٹے کو گانٹھ لگانا اور تیسرے دن اذان دے کر بہن کو پیسے دے کر کھولنا وغیرہ۔

2- کسی عزیز کی وفات کی صُورت میں ہر جمعرات کو میٹھا بنوا کر دُعا کرنا، ختم دلوانا، چالیس دن تک قبر پرقاری بِٹھا کر قرآن پڑھوانا، سوئم، چالیسواں اور سالانہ، قبر پر قرآن گھمانا، قرآنِ پاک میں پیسے رکھ کر، مٹھائی کا ڈِبّا اور جائےنماز وغیرہ قاری یا مولوی صاحب کو دینا۔

3- بچّے کی پیدائش کے موقعے پر ننھیال والوں سے تحائف لینا۔

4- ایک ساتھ تین طلاقیں دینا، بیوی کو زبردستی گھر سے نکالنا، نان نفقہ نہ دینا، رضاعت کو صرف عورت کی ذمّےداری سمجھنا، جوائنٹ فیملی سسٹم میں سب گھر والوں کے کام عورت کا فرض سمجھنا، غیرمحرم سے پردہ نہ کرنا، حق مہر کی عدم ادائی اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ حلالہ۔

5- بہن، بیٹی کو وراثت میں حصّہ نہ دینا، جہیز کا مطالبہ کرنا، بیوی اور بہو کی کمائی کو خاوند اور سُسرال والوں کا حق سمجھنا، اولاد نہ ہونے یا صرف بیٹیاں پیدا ہونے اور مَرد کی کم آمدنی کا سبب عورت کی نحوست کو ٹھہرانا۔

6- سود کا رجحان، قرضِ حسنہ سے انکار اور زکوٰۃ کی ادائی میں سُستی۔

7- وراثت کو صرف کھیت اور زمین تک محدود سمجھنا، گھر اور کاروبار کو بیٹوں کا حق، جب کہ ماں کے زیور کو صرف بیٹیوں کا حق قرار دینا۔

8- ’’پردہ دل کا ہونا چاہیے‘‘ جیسی سوچ رکھنا، منہ بولے رشتے بنانا اور بسنت، ویلنٹائن ڈے، اینورسری اور سال گرہ جیسے غیراسلامی تہوار منانا۔

9- ایامِ حیض کو کراہت آمیز سمجھنا اور اس دوران عورت کو آٹے میں ہاتھ ڈالنے، اچار ڈالنے سے روکنا۔ نیز، پاکی و ناپاکی سے متعلق دیگر غیر اسلامی تصوّرات کی پیروی۔

10- بیوہ یا مطلقہ کےعقدِثانی کو معیوب سمجھنا، دو سے زائد بچّوں کی پیدائش کو باعثِ عار جاننا اور اسقاطِ حمل کروانا۔

بدقسمتی سے مذکورہ بالا تمام بدعات ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود یہ کہتے ہوئے فخریہ طور پر ان پر عمل کرتے ہیں کہ ’’یہ ہمارے رسم و رواج ہیں۔‘‘ اِسی طرح غیبت، چُغلی، جُھوٹ، فحش گوئی، نشہ آور اشیاء کا استعمال اور گالم گلوچ ہماری عادتِ ثانیہ بن چُکی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ رسم و رواج کے نام پر ہم جو کچھ کررہے ہیں، وہ سب جائز ہے۔ حالاں کہ جائز اور مستحسن عمل وہی ہے کہ جس کی اجازت اللہ اوراُس کے رسول ﷺ نے دی ہے۔ ہمارے مذہب نے ہمیں جن کاموں سے روکا ہے، اُنہیں انجام دینا قطعاً ناجائز ہے، چاہے لوگوں کو کتنا ہی بُرا اور دقیانوسی لگے۔

ماڈرن ازم کی اندھی تقلید اور ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کی سوچ نے ہمیں نہ صرف دِین سے دُور کر دیا ہے، بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی ہر ممکن حد تک تکمیل کی کوشش میں ہم دُنیا میں ذلیل و رُسوا بھی ہورہے ہیں۔ ہمارے دِین میں اسراف، نمائش اور سود کی ممانعت ہے، مگر ہم دُنیا کے ساتھ چلنے کی کوشش میں ان بد اعمالیوں کو بھی فخریہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اِسی طرح سادگی، میانہ روی، پردہ اور سخاوت ہمارے دین کے اوصاف ہیں، لیکن ہمیں اِنہیں اپنانے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔

تاہم، اب بھی وقت ہے کہ ہم اس شیطانی جال سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور عہد کریں کہ آئندہ لوگوں کی پروا کیے بغیر اسلامی شعائر کو فروغ دیں گے اور غیراسلامی رسومات کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر کریں گے، نیز یہ بھی یاد رہے، ’’نحوست‘‘ بذاتِ خُود کوئی شے نہیں، یہ محض ہماری منفی سوچ اور بد گُمانیوں پر مبنی رویّوں کا شاخسانہ ہے اور جب تک ہم اپنے طرزِعمل کی اصلاح نہیں کریں گے، تعمیر و ترقّی کی منازل بھی طے نہیں کرپائیں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید