انسانی معاشرہ، دو بنیادی ستونوں ’’مَرد اور عورت‘‘ پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی بِنا ہی زوجیت کے اصول پر رکھی ہے اور زوجین کو انسانی عظمت، رُوحانی شرف اور اخلاقی ذمّے داریوں میں شریک بنایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عورت کو اس کا اصل مقام ملا، معاشرہ سنور گیا اور جب اُسے اس کے حقوق سے محروم کیا گیا، سماج زوال ہی کا شکار ہوا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن، بیوی اور ایک مکمل ہستی کے طور پرجو عزّت، مقام اورحقوق عطا کیے، انسانی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کامطالعہ کیے بغیرحقوقِ نسواں کا تجزیہ ممکن نہیں۔
دینِ اسلام سے قبل دُنیا کےبیش ترمعاشروں میں عورت کو حقیر سمجھا جاتا تھا، جب کہ عرب معاشرے میں توبیٹی کی پیدائش ہی کوباعثِ عار ماناجاتا۔ قرآنِ مجید نے اس جاہلانہ ذہنیت کی عکّاسی کچھ یوں کی ہے۔ ’’اور ان میں سے جب کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوش خبری دی جاتی ہے، تو اُس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ اس خوش خبری کو بُرا سمجھ کر لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) ذلّت برداشت کر کے اُسے اپنے پاس رہنے دے یا اُسے زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو! اس نے کتنی بُری باتیں طے کر رکھی ہیں۔‘‘ (سورۃ النحل 59:58)
جب کہ نبیٔ کریم ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو باعثِ رحمت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔’’جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اُسے زندہ درگور نہ کرے، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے، تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (مسند احمد) اِسی طرح سورۃ الاحزاب میں مرد و عورت کے ایمان، عبادت، صبر، صدقے اور تقویٰ کے اعتبار سے مساوی اجر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، دینِ اسلام نے عورت کو حقِ ملکیت، حقِ وراثت، حقِ مہراورنکاح میں رضا مندی جیسےحقوق اور اختیارت عطا کیے، جنہیں غیرمسلم معاشروں نے صدیوں بعد تسلیم اور نافذ کیا۔
دوسری جانب اُمّہات المٔومنین اور صحابیاتِ رسولﷺ کی سیرت بھی خواتین کے سماجی و علمی مقام کی روشن ترین مثال ہے۔ ان مقدّس ہستیوں میں سب سے پہلے اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کا ذکر ناگزیر ہے، جو عورت کے سماجی وقار، معاشی خُودمختاری اور فہم و بصیرت کا عظیم نمونہ ہیں۔ آپؓ مکہ مکرمہ کے ایک انتہائی معزز اور خوش حال خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنےاعلیٰ کردار، پاکیزگی اور عفت وعِصمت کی بِنا پر ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے معروف تھیں۔
آپؓ نہ صرف صاحبِ ثروت تھیں بلکہ ایک کام یاب تاجرہ کی حیثیت سے شام و یمن تک پھیلے وسیع تجارتی نیٹ ورک کی نگراں بھی تھیں۔ حضرت خدیجہؓ کی اسی بصیرت نے انہیں رسولِ اکرم ﷺ کی امانت و دیانت کی قدردانی کا شعور بخشا اور پھر بعثتِ نبویؐ کے بعد جس ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ آپؓ نے حضورﷺ کا ساتھ دیا، وہ اسلامی تاریخ میں عورت کے کردار کی معراج ہے۔ آپؓ نےنہ صرف اپنا سارا مال دِین کی راہ میں خرچ کردیا بلکہ اِبتلاؤں کے دَور، خصوصاً شعبِ ابی طالب کی صعوبتوں میں بھی صبر و استقامت کا پیکربنی رہیں۔
پھر اسی خانوادۂ نبوّتؐ میں پروان چڑھنے والی سیّدہ فاطمۃ الزہرہؓ حیاداری، صبر، گھریلو نظم و نسق، روحانی بلندی اور وفاداری کی اعلیٰ مثال بن کر سامنے آئیں۔ کم عُمری ہی میں مصائب کا سامنا کرنے والی بنتِ رسولؐ نے اپنے والدِ گرامی ﷺ کی دل جوئی، خدمت اور دفاع کےضمن میں غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کیا،جب کہ حضرت علیؓ کی رفاقت میں سادگی، قناعت اورذمّےداری کا بےنظیرعملی نمونہ پیش کیا۔ اسی تسلسل میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کا علمی و فقہی مقام بھی اسلام میں خواتین کے علمی مرتبے کی ارفع ترین دلیل بن کر سامنے آتا ہے۔
حضرت عائشہؓ اُمّت کی عظیم فقیہہ اور محدّثہ تھیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جلیل القدرصحابہ کرامؓ بھی آپؓ سے مختلف احادیث سے متعلق دریافت کیا کرتے اور فرمایا کرتے کہ ’’کوئی بات ایسی نہیں کہ جس کے بارے میں ہم نےحضرت عائشہؓ سے رجوع کیا ہو اور اُن کے پاس اس کا علم موجود نہ ہو۔‘‘ اس ضمن میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ’’جب ہم لوگوں کو(صحابۂ کرامؓ) کسی حدیث سے متعلق اشکال ہوتا اور اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کرتے، توان کےپاس لازماً اس کا علم ہوتا تھا۔‘‘ (ترمذی)
اسی طرح حضرت اُمّ سلمہؓ بھی فقاہت اور بصیرت میں بلند مقام رکھتی تھیں۔ متعدد احادیثِ مبارکہ سے آپؓ کی فقہی علم پر دسترس اور فراست کا انداہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر صلحِ حدیبیہ کےموقعےپرجب صحابہ کرامؓ کچھ تذبذب کا شکار ہوئے، تو آپؓ نے نبی کریم ﷺ کو یہ حکیمانہ مشورہ دیا کہ ’’آپؐ خود اپنے گیسوئے مبارک تُرشوا لیں۔‘‘ جب صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ کو یہ عمل کرتے دیکھا، تو سب نے فوراً آپؐ کی اطاعت کی۔ علاوہ ازیں، حضرت جویریہؓ کی ذات بھی برکت کا باعث بنی۔ آپؓ کے نبیٔ کریم ﷺ سے نکاح کے بعد بنی مصطلق کے درجنوں قیدی آزاد کر دیے گئے۔
اس ضمن میں ایک موقعے پر حضرت عائشہؓ نےفرمایا۔ ’’مَیں نے کسی عورت کو اپنی قوم کے لیے حضرت جویریہؓ سے زیادہ بابرکت نہیں دیکھا۔‘‘ (اسد الغابۃ)۔ حضرت زینب بنتِ ابی سلمہؓ کا شمار بھی عظیم فقیہ خواتین میں ہوتا ہے۔ مدینہ کے اہلِ علم بھی آپؓ سے مختلف مسائل کے حل دریافت کیا کرتے تھے۔ اِسی طرح حضرت فاطمہ بنتِ قیسؓ بھی ایک جری اور بصیرت مند صحابیہ تھیں، جنہوں نے ابتدا میں ہجرت کی سعادت حاصل کی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عُمرؓ کی شہادت کے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لیے شوریٰ کے اراکین کے اجلاس کے لیے آپؓ کا گھر منتخب کیا گیا۔
نبیٔ کریم ﷺ نےحصولِ تعلیم کے ضمن میں مَرد و عورت کے درمیان کبھی کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ آپﷺ نے جس طرح مَردوں کو تحصیلِ علم کی ترغیب دی، بالکل اِسی طرح خواتین کو بھی اس کا حُکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُمّہات المؤمنین اور دیگر صحابیاتؓ نے نہ صرف دینی علوم میں مہارت حاصل کی بلکہ فقاہت اور فتویٰ نویسی کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے، جب کہ اسلام کے ابتدائی دَور سے لے کرعصرِحاضر تک مسلمان خواتین نے قیادت و سیادت اور امورِ جہاں بانی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جب حالات نے تقاضا کیا، تو رضیہ سلطانہ نے دہلی کی سلطنت کی کمان سنبھالی۔ شجرالدرنےمصر کوصلیبی بُحران سے نکالا۔ سیّدہ الحرہ نے مراکش میں اُس وقت کی بحری طاقتوں کا جرأت و بہادری سے مقابلہ کیا۔ ترکان خاتون نے سلجوقی دربار میں اثر و رسوخ قائم رکھا اور زبیدہ خاتون نے رفاہی خدمات کے ذریعے ریاستی نظم کے ضمن میں دیرپا اثرات مرتّب کیے۔
یاد رہے، اسلامی معاشروں میں خواتین ہر دَور میں فیصلہ سازی اور قیادت کا حصّہ رہی ہیں اورماضیٔ قریب میں پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح اور شہید بے نظیر بُھٹّوکی مثالیں ہمارے سامنےہیں، جنہوں نے سیاسی اُتار چڑھاؤ، دبائو اور صعوبتوں کے باوجود قائدانہ کردار ادا کیا، جب کہ کسی بھی معاشرے میں مسلمان خواتین کو جب بھی اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا، انہوں نے اپنی صلاحیتوں، بصیرت اور حوصلہ مندی سے حالات کا رُخ بدلنے کی کوشش کی۔ درحقیقت، مسئلہ صنف کا نہیں بلکہ مواقع، نظام کی مضبوطی اور سماجی رویّوں کا ہے۔
آج (8 مارچ کو) دُنیا بَھر خواتین کا دن منایا جا رہا ہے اور اس عالمی یوم کی مناسبت سے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ منفی رویّوں کے خاتمےاور مثبت اقدارکےفروغ ہی سے ہم خواتین کے لیے ایک مثالی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب اس حقیقت سےبھی مفرممکن نہیں کہ غیر مُلکی فنڈز کے بَل پر چلنے والی حقوقِ نسواں کی علم بردار تنظیمیں اپنے بےہودہ نعروں اورمہمات کے ذریعےخواتین کی آزادی کا دعویٰ تو کرتی ہیں، مگر ان کے اس طرزِعمل سے پاکستانی معاشرے میں حقیقی تبدیلی آئی ہے اور نہ اس کی توقّع کی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ مسلمان خواتین اُمہات المٔومنین، صحابیاتؓ اور اسلامی تاریخ کی نام وَر خواتین کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔