• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت، نئے ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب کا آئینی طریقۂ کار کیا ہے؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی رضا اعرافی کو ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے تاہم ملک میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔

4 دہائیوں تک ایران کی قیادت کرنے والے ایرانی رہبر اعلیٰ نے شہادت سے قبل کسی کو باقاعدہ جانشین منتخب نہیں کیا تھا، تاہم ایران کے آئین میں قیادت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے جانشینی کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی آئینِ کے آرٹیکل 111 کے تحت سپریم لیڈر کی وفات، استعفے یا معزولی کی صورت میں 88 سینئر علماء پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری (Assembly of Experts) پابند ہے کہ وہ جلد از جلد نئے رہبر اعلیٰ کی تقرری اور اعلان کرے۔

نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ایک عبوری کونسل قائدانہ ذمے داریاں سنبھالتی ہے۔

آئینی شقوں کے مطابق اس عبوری کونسل میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ شامل ہوتے ہیں، جس کا انتخاب ایکسپیڈینسی ڈکرینمنٹ کونسل (Expediency Discernment Council) کرتی ہے۔

دریں اثناء خامنہ ای کے مشیروں میں سے ایک محمد مخبر کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی اور ملک کی قانونی کونسل سے وابستہ اعلیٰ قانونی عہدیدار، پر مشتمل 3 رکنی عبوری کونسل اس اہم ترین عہدے کی منتقلی کی نگرانی کریں گے۔

یہ عبوری باڈی اس وقت تک سپریم لیڈر کے اختیارات استعمال کرے گی جب تک مجلسِ خبرگان نئے رہنما کی تقرری کو حتمی شکل دے کر باضابطہ اعلان نہ کر دے۔

1979ء میں اسلامی انقلاب کے قیام کے بعد یہ عمل صرف ایک بار انجام دیا گیا تھا، جب بانی انقلاب آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کیا گیا تھا۔

مزید برآں آئینی طریقہ کار کے تحت اگر عبوری کونسل کا کوئی رکن اپنی ذمے داریاں ادا کرنے سے قاصر ہو تو مجلسِ خبرگان اکثریتی فقہا کی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے اس کی جگہ کسی اور کو مقرر کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور امریکا و اسرائیل کی ممکنہ مزید کارروائیوں کے تناظر میں مجلسِ خبرگان کا اجلاس بلانا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔

آئین کے تحت نئے رہبر کا مرد، شیعہ عالمِ دین، سیاسی بصیرت اور اخلاقی اتھارٹی کا حامل ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ ایران سے مکمل وفاداری بھی لازمی شرط ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید