• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ اشتہار دیکھتے ہیں؟ کس قدر احمقانہ سوال میں نے آپ سے پوچھ لیا ہے۔ ہم بے بس دنیا میں آتے ہیں اور بے بسی کے عالم میں یہ دنیا چھوڑ جاتے ہیں۔ ہم اشتہار اپنی مرضی سے نہیں دیکھتے۔ ہم پیدائشی بے بس ہیں۔ اشتہار ہمیں دیکھنے پڑتے ہیں۔ اشتہار دیکھنا ہماری مجبوری ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ اشتہار نہ دیکھنے کی وجہ سے آپ کا کتنا اور کس نوعیت کا نقصان ہوجائے۔ کچھ اشتہار اس قدر بے ہودہ ہوتے ہیں کہ اشتہار ختم ہونے سے پہلے آپ خود کو ختم کرنے کا سوچتے ہیں۔ آپ سنجیدگی سے خودکشی کرنے کا سوچتے ہیں، مگر یہ بڑا ہی بھیانک قدم ہے، قدم اٹھانے سے پہلے آپ کو میاں نوازشریف سے مشورہ کرلیناچاہیے۔ وہ پاکستان پر حکمرانی کرچکے ہیں۔ حاکم بخوبی جانتے ہیں کہ ایک ووٹ دینے والے کی قدرو قیمت کیا ہوتی ہے۔ کل ایک واٹر ٹینکر نے آپ کے اور میرے جیسے آدمی کو فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے کچل کر رکھ دیا اور اس کو اللہ سائیں کا پیارا بنا دیا۔ حاکم وقت نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ایک واٹر ٹینکر نے کل ایک قیمتی جان کو موت کے گھاٹ اتار دیا، مگر حاکم وقت نے یہ نہیں بتایا کہ آپ کی جان کی قیمت کتنی تھی؟ دس روپے؟ سو روپے؟ ہزار روپے؟ بیس، تیس ہزار روپے؟ ایک لاکھ روپے؟ ایک کروڑ روپے؟ مرنے سے پہلے آپ بیروزگار تھے۔ لوگوں کے مقروض تھے۔ حاکم وقت نے یہ نہیں بتایا کہ مرنے کے بعد آپ اچانک اس قدر قیمتی کیسے بن گئے؟ آپ نے سرکاری خزانہ میں خوردبرد کی؟ اقلیتوں کے فنڈز کھاگئے؟ کروڑوں کے عوض آپ نے لوگوں کی پوسٹنگ، ٹرانسفر اور اپائنمنٹ کی؟ منی لانڈرنگ کی اور بیرون ممالک جائیدادیں بنائیں؟ حاکم وقت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ٹینکر مافیا اس قدر کیسے طاقتور بن گیا ہے کہ جب چاہے ٹونٹیاں خشک کرکے شہر بھر میں پانی کی قلت کرے اور جب چاہیں فٹ پاتھوں پر تیز رفتار ٹینکر چڑھا دے اور لوگوں کو کچل دے!

کچھ اشتہار آپ کو حواس باختہ کردیتے ہیں۔ آپ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ اپنا گریبان چاک کرکے، سر میں خاک ڈال کر جنگلوں اور بیابانوں کا رخ کریں۔ کل تک ایک شخص گندے کپڑے دھونے کیلئے صابن بنایا کرتا تھا۔ اب صابن کے ساتھ ساتھ چکن کی چانپیں بھی بناکر بیچ رہا ہے۔ اس کے اشتہاروں میں آپ اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ آپ کو پتہ تک نہیں لگتا کہ آپ صابن کھا رہے ہیں یا چکن چانپ کھا رہے ہیں۔ پیٹ میں مروڑ پڑنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آپ کیا کھا رہے تھے۔

ہوش حواس کو مائوف کرنے اور تعلیم و تربیت کا ہمیشہ کیلئے ستیاناس کردینے والا ایک اشتہار تقسیم ہند کے آس پاس دیکھا تھا۔ پہلے تو اخبار اور رسالوں میں مضامین شائع ہونے لگے کہ دل کے امراض کی اصل وجہ خالص گھی ہے۔ متعدد امراض کے علاوہ خالص گھی کھانے سے کولیسٹرول نام کی ایک جان لیوا چیز آپ کی نس نس اور رگ رگ میں پیدا ہوتی ہے جو خون کو خراب کردیتی ہے اور آپ خیر سے اللہ سائیں کو پیارے ہوجاتے ہیں۔ مضامین لکھنے والوں کو تقویت دینے کیلئے اعدادو شمار کے چیمپئن تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ فوراً آپ کو بتاتے ہیں کہ کولیسٹرول کی وجہ سے پچھلے برسوں میں مرنے والوں کی تعداد کتنی تھی اور آئندہ یہ تعداد بڑھ کر کتنی ہوجائے گی۔ خالص گھی کھانے والے دس افراد میں نو افراد ہارٹ اٹیک کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، جس کی صرف ایک وجہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ یعنی اچانک اللہ سائیں کو پیارے ہوجانے والے کھانا پکانے میں خالص گھی استعمال کرتے ہیں یا کرتے تھے۔

یہ سب کچھ سوچی سمجھی اشتہاری مہم کے تحت ہورہا تھا۔ کون ہے جو موت سے نہیں ڈرتا؟ لوگ شش و پنج میں پڑ گئے۔ وہ مرنا نہیں چاہتے تھے۔ اگر خالص گھی میں کھانا پکانا چھوڑ دیں تو پھر کس چیز میں کھانا پکائیں۔ سب لوگ سرسوں کے تیل میں پکا ہوا کھانا پسند نہیں کرتے، تو پھر وہ لوگ کیا کریں؟ کیسے جئیں؟

تب لوگوں پر اشتہاروں سے دھاوا بول دیا گیا۔ ’’گھبرایے مت، اب آپ کولیسٹرول سے پاک بناسپتی گھی میں کھانا پکائیں۔‘‘ وہ دن اور آج کا دن، بناسپتی گھی نے خالص گھی کا جنازہ نکال دیا۔ لوگوں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ ان کیلئے کیا اچھا ہے، خالص گھی یا بناسپتی گھی؟ اس مخمصے میں لوگ ہندوستان کے بٹوارے سے پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ خالص گھی اور بناسپتی کا جھگڑا برصغیر کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے۔

اشتہاروں کے بارے میں ایک بزرگ بہت لمبے عرصے سے ریسرچ کررہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اشتہاروں میں خوب صورت لڑکیوں کو، یعنی ماڈلز کو کیوں کبھی کھنڈروں، کبھی ویرانوں، کبھی جنگلوں، کبھی بیابانوں میں بیٹھے ہوئے، لیٹے ہوئے دکھایا جاتا ہے؟ کیوں ماڈلز بے حد افسردہ، اداس اور غمگین دکھائی دیتی ہیں، جیسے ابھی ابھی ان کی ماں مر گئی ہو؟ پتہ نہیں چلتا کہ آپ ماڈلز کا اشتہار دیکھ رہے ہوتے ہیں یا نئے کپڑے، سینڈل اور کاسمیٹک دکھا رہے ہوتے ہیں جو ماڈلز نے پہن رکھے ہوتے ہیں۔ اشتہاری سرکار، ماڈلز بے چاروں کو کبھی مسکرانے کی بھی تھوڑی سی اجازت دے دیا کریں۔ صرف منہ بسورنے سے آپ جانگیا بھی بیچ نہیں سکتے۔ ماڈلز کو مسکرانے دیں، اللّٰہ بھلا کرے گا آپ کا۔

اور آپ مرد ماڈلز کو اشتہار کے آخر میں آنکھ مارنے کا کیوں کہتے ہیں؟ قدیم دور سے آج تک آنکھ مارنے کے عمل کو اچھا اشارہ نہیں سمجھا جاتا۔ ویسے بھی آنکھ مارنے کا منفی مطلب ایک ہی ہوتا ہے۔ شیمپو سے نہانے کے بعد جب وہ آنکھ مارتا ہے، تب لگتا ہے، جیسے کہہ رہا ہو یہ شیمپو بکواس ہے، میں تو امپورٹڈ شیمپو استعمال کرتا ہوں۔ صرف ہرن اور مرغابیوں کو مارنے کیلئے آپ لازمی طور پر ایک آنکھ بند کرکے بندوق چلاتے ہو۔ سرکار کے کہنے پر آپ دونوں آنکھیں کھول کر گولی چلاتے ہو۔ کسی کو بھگاکر لے جانے کیلئے آپ آنکھ مار سکتے ہو۔ مگر کسی رہزن کو پکڑنے کیلئے آپ آنکھ نہیں مار سکتے۔ وہ رہزن آپ کی دونوں آنکھیں نکال کر کوئوں کو کھلا دے گا۔

تازہ ترین