• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیسی کسی باتیں ذہن میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ترقی یافتہ ممالک بڑے مہذب ہوتے ہیں۔ ایٹم بم پر خرچہ کرنے کی بجائے عوام کی بھلائی کیلئےکام کرنےچاہئیں۔دُنیاانصاف کےاصولوںپرچلتی ہے۔امریکہ میں پارلیمنٹ کی بڑی اہمیت ہے۔مسلم اُمہ وغیرہ وغیرہ۔سب تصورات ڈھیر ہوگئے۔ پتا چلا کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اندر سے دو نمبر ہیں۔طاقت کی رونمائی کا وقت آتا ہے تو سب قاعدے ضابطے پھاڑ کے پھینک دیتے ہیں۔یہ بھی پتا چلا کہ جوہری طاقت ہونے کے کیا فائدے ہیں۔ بے تیغ لڑنے والے مومن تہہ تیغ ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی راز کھلا کہ مسلم اُمہ کا نعرہ ٹھیک ہے لیکن جب وقت آتا ہے تو کوئی کسی کی پروا نہیں کرتا۔بدمعاش ایک دوسرے کا بازو بن سکتے ہیں لیکن کمزور ایک دوسرے کی صرف اخلاقی مدد ہی کر سکتے ہیں۔ مفادات کے ٹکراؤ کا اندیشہ ہو تو ماضی کے دشمن دوست بن جاتے ہیں اور دوست بدترین دشمن۔حقیقت تو یہ ہے کہ امن کے پودے کی نشو نما کیلئے طاقت کی کھاد انتہائی ضروری ہے۔امن، خوف کے بطن سے پھوٹتا ہے۔جن ممالک میں امن ہے وہ معاشی یا دفاعی طاقت سے بھرپور ہیں۔نہتاانسان اگر امن پسند ہے تو یہ اس کی خصوصیت نہیں مجبوری ہے۔طاقتوروں کی گفتگوکا اسٹائل ہی کچھ اور ہوتاہے۔وہ امن کی بات بھی کرتے ہیں تو مونچھوں کو تاؤ دے کرکرتے ہیں۔تالاامن کی علامت ہے اور بندوق امن نافذ کرنے کی۔قانونی کی عملداری سے لے کر ریاست کی رِٹ تک تمام معاملات طاقت مانگتے ہیں۔احتجاج، قراردادیں، مذمتیں، اخلاقیات وغیرہ سب کمزوروں کی غلیلیں ہیں جو طاقتوروں کے گولوں کے آگے ٹھس ہیں۔گھاس کھانے والی بات ٹھیک نکلی۔ہم جوہری طاقت نہ ہوتے تو شائد گھاس بھی نصیب نہ ہوتی۔اچھے وقتوں میں ایٹمی صلاحیت حاصل کرلی ورنہ آج چھپ چھپا کر بھی یہ کام کرنے کی کوشش کرتے تو طاقتوروں نے چھاپے مار کرسب برباد کردینا تھا۔

٭ ٭ ٭

افغانستان کے ساتھ ہمارے جو معاملات چل رہے ہیں ان کے بارے میں دو رائے سامنے آرہی ہیں۔ دوسری رائے ’بھائی بھائی‘ والی ہے۔ میں نے سوشل میڈیا پر بڑی کوشش کی کہ کسی افغانی کی طرف سے بھی کوئی ’بھائی بھائی‘ والی بات سننے کو مل جائے لیکن ناکامی ہوئی۔ جن لوگوں کو یہ جنگ چبھ رہی ہے وہ یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے پاکستان میں خود کش حملے ہوتے رہیں، ہمارے لوگ مرتے رہیں لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم بات چیت سے مسئلہ حل کریں۔گویا آج تک کبھی بات چیت نہیں ہوئی۔جن کی چالیس سال مہمان نوازی کی انہیں بھی کوئی حیا ہونی چاہیے کہ نہیں۔دوسری بات یہ کہ افغانستان میں ڈی فیکٹو حکومت ہے، اس کا موازنہ کسی بھی طور پاکستان سے نہیں کیا جاسکتا۔یہ جنگ پاکستان نے نہیں چھیڑی۔اسی ہنگامے میں ایک اور شوشہ یہ بھی سننے کو ملا کہ ہندوستان نے بھی تو یہی جوازبنا کر پاکستان پر حملہ کیا تھا کہ یہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں تو کیا وہ بھی ٹھیک تھا؟۔

اس قسم کی باتوں سے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جعفر ایکسپریس سے لے کر بلوچستان تک کی دہشت گردی میں ہندوستان کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ شائد اس نے کبھی پاکستان میں ایسی کوئی حرکت ہی نہیں کی۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ بمبئی حملوں کے بعد ہم نے ثبوت ملنے پر اپنے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف مقدمات درج کیے۔بات وہاں بگڑتی ہے جہاں ثبوت کے بغیر الزام لگائے جاتے ہیں اور پھر خود ہی فیصلہ صادر کرکے میزائل پھینک دیے جاتے ہیں۔افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کے کتنے ثبوت درکار ہیں۔فائلوں کی فائلیں بھری پڑی ہیں۔ دوحہ اور ترکیہ میں مذاکرات کی تفصیلات دیکھیں تو ’برادران‘ کی طرف سے ڈھٹائی سے بھرپور جوابات سننے کو ملے۔کیاحل تھا؟جنگ نہ کرتے تو کیا اپنے جنازے اٹھاتے؟لڑائی افغانستان کے عوام سے نہیں افغانستان کے فتنہ الخوارج سے ہے۔ جرائم پیشہ گروہوں سے ہے جو ’وار اکانومی‘ پر چلتے ہیں۔افغانستان کے عوام کو اگر یہ حق دیا جائے کہ وہ کسی بھی ملک میں جاسکتے ہیں تو شائد آدھے سے زیادہ افغانی ملک چھوڑ جائیں۔ امریکہ کی روانگی کے بعد کے سین تو آپ کو یاد ہی ہوں گے۔

٭ ٭ ٭

اوراب کچھ خوشگوار باتیں ہوجائیں۔ ہمارے اپنے ہاں جب ہندوستان سے جنگ ہورہی تھی تو قوم میمز بنانے سے باز نہیں آرہی تھی تو حالیہ صورتحال میں انہیں کون روک سکتاہے۔اسرائیلی وزیرا عظم سے نفرت تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن ہمارے ایک کیمرہ مین نے اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اپنا ’یاہو‘ کا ای میل ایڈریس ختم کرکے جی میل پراکاؤنٹ بنا لیا ہے۔گزشتہ دنوں ایک عوامی افطار ڈنر میں شرکت کا موقع ملا جہاں ولیمے کی طرز پر میزوں پر کھانا لگایا گیا تھا۔ چونکہ لوگ زیادہ تھے اس لیے یہاں بھی موضوع بحث امریکہ ایران جنگ تھی اور سب کی خواہش تھی کہ وہ بڑھ چڑھ کر اپنی ماہرانہ رائے سے نوازیں۔شرکاء نے پیش گوئیاں کیں کہ عنقریب تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے گی اور دنیا میں ہر جگہ خانہ جنگی کا ماحول ہوگا۔سب کے پاس اپنے اپنے دلائل تھے۔بظاہرسب خانہ جنگی کے خلاف تھے اور افسوس کا اظہا رکر رہے تھے کہ دُنیا کدھر جارہی ہے۔ایسا لگ رہا تھا جیسے سب امن کے داعی ہیں اور گلوبل پیس کیلئے جمع ہوئے ہیں۔اتنے میں افطاری کا وقت ہوگیا۔ میزبان نے اشارہ کیا اور کھانا کھول دیا گیا۔کچھ دیر خاموشی رہی، پھر اچانک شور سا اُٹھااور آدھی سے زیادہ خلقت ہائپر سونک میزائلوں کی طرح کھانے کی طرف دوڑی۔ایک ہی وقت میں سیکڑوں لوگ کھانے پر ٹوٹ پڑے۔تھوڑی دیر پہلے ہونے والی خانہ جنگی والی گفتگو دیکھتے ہی دیکھتے ’کھانا جنگی‘ میں تبدیل ہوچکی تھی۔

تازہ ترین