• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں جو ریاستیں سب سے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی تھیں وہ ان دنوں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔ مگر آفرین ہے انکے حاکموں پر کہ وہ اپنے رہائشیوں، جن میں زیادہ غیر ملکی ہیں، کو تحفظ بھی دے رہے ہیں اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں بھی خلل نہیں آنے دے رہے۔ ولادی میر لینن نے کہا تھا کہ بعض دہائیاں ایسی ہوتی ہیں جب کچھ نہیں ہوتا اور بعض ہفتے ایسے ہوتے ہیں جن میں دہائیاں رونما ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ ایک دوہفتوں میں دہائیاں نہیں صدیاں برپا ہوئی ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے پڑوس میں ہو رہا ہے۔ یہ تو طے ہو گیا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں سنجیدہ قیادت کا بحران ہے۔ کہیں بھی ایسے بااثر حکمران نہیں، جو وقارِ انسانیت برقرار رکھنے کیلئے اپنا رسوخ اور ذہن استعمال کر رہے ہوں۔ 21ویں صدی اطلاعات کی، علم کی، تحقیق کی، ایجادات کی صدی کہلاتی تھی لیکن وہ جنوبی ایشیا وسطی ایشیا خلیج اور مشرق وسطیٰ میں ہلاکتوں کی صدی بن رہی ہے۔ سوال تو یہی ہوتا ہے کہ امریکہ جو ’’‘امید کی سرزمین‘‘ کہلاتا تھا وہاں کے عوام نے ایسا صدر کیوں منتخب کیا جس نے ملکوں ملکوں قتل و غارت گری پر کمر باندھ لی ہے۔ کیا امریکی خلقت نائن الیون کے بعد انتہا پسند ہو گئی ہے۔کیا امریکی جمہوری ادارے، عدالتوں اور اپنے آئین سے مایوس ہو گئے ہیں کہ انہوں نے سارے اختیارات ایک لاابالی صدر کے حوالے کر دیے ہیں ۔جو خود کو بھی اپنے آئینی اداروں اور عالمی اداروں کی گرفت سے بالاتر سمجھتے ہیں اور کرہ ارض میں بھی ایسے حکمران انکے پسندیدہ ہیں جو قانون آئین سے ماورا ہوں۔ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں آسانیاں لانےکیلئے ایجادات کر رہی تھی مگر امریکہ کے صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو اس ٹیکنالوجی سے اسلئے عشق ہے کہ یہ شیر خواروں، رحم مادر میں پلتے بچوں ہسپتالوں مارکیٹوں اسکولوں میں طالبات کو پلک جھپکنے میں ہلاک کر دیتی ہے۔

چنگیز خان اور ہلاکو جیسے ہلاکت پسند حکمرانوں کو تو بڑے بڑے لاؤ لشکر لے کر شہروں پر چڑھائی کرنا پڑتی تھی۔ اب لاؤ لشکر کی نہیں میزائلوں، ڈرونوں، لیزر بموں کمپیوٹروں کی ضرورت ہے۔ جو آج کے ہلاکووں کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی اب آمروں جاگیرداروں سرداروں سرمایہ داروں اور ٹھیکیداروں کا ہتھیار ہے۔ مافیاؤں کی بے نیام تلوار ہے۔ اس ساری تباہی بربادی کے بعد سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی کا نائب انسان اس آگ اور خون ریزی سے کیسے اور کب نجات حاصل کرے گا۔ ٹیکنالوجی جدید علم اور دولت اپنی جگہ ہے لیکن ان کے متوازن استعمال کیلئے جیسی قیادتیں اور جیسے دماغ درکار ہیں وہ کسی ملک میں ہیں بھی یا نہیں۔ قیادتیں بوڑھی ہو رہی ہیں۔ انکے تجربے مشاہدے اپنی جگہ مگر ٹیکنالوجی پر انکا عبور نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی ان پر عبور پا رہی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ 79، شاہ سلمان 90محمد بن راشد المکتوم 76 شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ بحرین 76 علی لاریجانی 67مسقط سلطان ہیثم 70 کویت شیخ مشعل الحمد الجبار85 نیتن یاہو 76 سال۔ یہ تو وہ حکمران ہیں جو اس جنگی صورتحال میں براہ راست مصروف ہیں۔ چینی صدر زی 72سال پیوٹن 73سال کے ہیں۔ سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان 40 سال قطر کے شیخ تمیم بن حمد الثانی 45 سال کے ہیں ۔اس جنگ میں انسانی نقصان سب سے زیادہ ایران کا ہوا ہے کہ اس کی قیادتیں عسکری اور سیاسی گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل اور امریکہ کا ہدف بنی ہیں۔ امریکہ اپنی رجیم چینج ،حکمرانوں کی تبدیلی کی دیوانگی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں آزمانا چاہتا ہے۔ بیسویں اور 21ویں صدی میں یہ نکتہ بار بار زیر بحث آیا ہے کہ حکمرانوں کی تبدیلی کا حق ان ملکوں کے عوام کو ہے یا امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کو۔ جب پاکستان ایٹمی پروگرام کی تکمیل کر رہا تھا یہاں بھی امریکہ نے بارہا حکمران تبدیل کئے۔ ایران میں تو یہ کوشش 1950ء کی دہائی سے جاری ہے۔ اب امریکہ اور اسرائیل کے صبر کی انتہا ہو چکی ہے ۔ایران کے رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد تو امریکہ اور اسرائیل کو یہ یقین تھا کہ ایران کے عوام اس پر اظہار تشکر کیلئے سڑکوں پر آجائیں گے۔ انقلاب ایران کے ورثاء کو حکومت سے باہر نکالیں گے اور وہاں ٹرمپ اور نیتن یاہو اپنی مرضی کی حکومت قائم کر لیں گے۔ یہ خواب فی الحال تو شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ ایران نے خلیج اور مشرق وسطی میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر ایسی صورتحال کو جنم دیا ہے کہ اب دنیا میں ہمدردیاں ایران کے ساتھ اس لیے ہو گئی ہیں کہ ایک ملک ہے جو اس واحد سپر پاور سے ٹکرا رہا ہے۔ یکے بعد دیگرے پرچم بردار گر رہے ہیں۔ لیکن نئے پرچم سنبھالنے والے فوراً آ رہے ہیں ۔پرچم کو نیچے نہیں گرنے دیا جا رہا۔ رمضان کامقدس مہینہ مسلمان ملکوں کی بڑی تعداد کیلئے مشکلات اور کشیدگی کا عرصہ بن گیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری تھی لیکن وہ ہمیشہ کی طرح بے اثر ثابت ہو رہی ہے۔ اس جنگ کے متاثرہ ملکوں میں زیادہ تر مسلم ممالک ہیں ۔ مسلمانوں کی ایک تنظیم بھی ہے۔ او آئی سی۔ جس کو بہت پہلے حرکت میں آنا چاہئے تھا۔ جب غزہ پر اسرائیل نے بربریت کا آغاز کیا مگر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ابراہیم ایکارڈ کے دام ہم رنگ زمین میں ایسی چال چلی کہ مسلم ممالک تقسیم ہو گئے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے اسلامی ملکوں میں پچھلے دو سال میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینیوں کی ہلاکتیں بھی انہی دو سال میں بہت زیادہ بڑھی ہیں۔ ساری مسلم دنیا کیلئے یہ فیصلے کی گھڑی ہے مسلم حکمران اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں کہ امریکہ اور یورپ اس کوشش میں تو کامیاب ہو گئے ہیں کہ جنگ کا میدان ان کی سرزمینوں سے بہت دور جنوبی ایشیا اور خلیج میں آگ بھڑکا رہا ہے۔ خون پھیلا رہا ہے ۔اب یہ ایک خدا ایک رسول ایک قرآن اور ایک کلمہ کے حلقہ بگوشوں کو سوچنا ہے کہ وہ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں یا سامراجی قوتوں کی کٹھ پتلیاں بننے پر ہی فخر کرتے ہیں۔ یہ تو کچھ امکانات ہو رہے ہیں کہ چین اور روس جنگ رکوانے کیلئے اپنی سفارتی اور تجارتی کوششیں شروع کر رہے ہیں کیونکہ دنیا کی تیل اور انرجی کی بنیادی ضرورت متاثر ہو رہی ہے ۔میرے خیال میں تو سب سے اہم موقع سعودی عرب کے پاس ہے ۔وہ اس وقت مسلم امہ کی قیادت سنبھال سکتا ہے ایک طرف شہزادہ محمد بن سلمان سب سےکم عمر ہیں اور پھر سعودی عرب کے زر مبادلہ کے ذخائر سب مسلمان ملکوں سے زیادہ 450 ارب ڈالر ہیں۔ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات بھی اسی ریاست کی حدود میں ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اس حوالے سے سعودی حکمرانوں کا حد درجہ احترام کرتے ہیں۔

تازہ ترین