• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا ایران سے معاہدہ طے پا جانے کا دعویٰ، تہران کا واشنگٹن پر رکاوٹ ڈالنے کا الزام

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اصولی معاہدہ طے پانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے تاہم ابھی حتمی دستخط نہیں ہوئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کی آخری منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای دیں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیئم کے ذخائر ختم کرنے پر آمادہ ہے تاہم اس طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کی قیادت نے معاہدے کے بنیادی نکات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں لیکن ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے 2015ء کے جوہری معاہدے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاہدہ اس کے برعکس ہو گا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کی جوہری تنصیبات ختم کرنا اور افزودہ مواد ایران سے باہر منتقل کرنا ضروری ہو گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور لبنان میں جنگ بندی سے متعلق بعض شقوں پر رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں جن کے باعث معاہدہ منسوخ ہونے کا امکان برقرار ہے۔

تسنیم کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت 30 دن میں جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو سکتی ہے جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری پابندیاں ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے لبنان کی سرحد پر مزید فوجی کارروائیوں کے منصوبے منظور کر لیے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل لبنان کے محاذ کو استعمال کر کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام کا کہنا ہے اگر تمام نکات پر مکمل ضمانت نہ ملی تو تہران کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، واشنگٹن کا رویہ اس معاہدے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ بگاڑ بھی سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید