• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ امریکا، ایران اور خطے کے متعدد ممالک کے درمیان امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت (MoU) پر پیش رفت ہوئی ہے اور جلد حتمی اعلان کیا جا سکتا ہے۔

مجوزہ معاہدے میں کیا شامل ہے؟

رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی جہاز رانی کے لیے کھولنا، امریکا اسرائیل اور ایران جنگ کا باضابطہ خاتمہ، ایران پر عائد بعض تیل کی پابندیوں میں نرمی، ایران کے جوہری پروگرام پر نئی بات چیت اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان، سعودی عرب، یو اے ای، مصر، ترکیہ، قطر، اردن اور بحرین شامل ہیں۔

ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم انہوں نے ٹرمپ کے بعض دعوؤں کو حقیقت سے مختلف قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری و نیم سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تہران نے ابھی تک اپنے جوہری پروگرام پر کسی حتمی اقدام سے اتفاق نہیں کیا، ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس ہفتے اختلافات میں کمی آئی ہے، لیکن ابھی کئی معاملات پر مزید بات چیت ضروری ہے۔

سب سے بڑا تنازع: آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے اس راستے پر سخت پابندیاں عائد کیں جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کر دیا تھا۔

امریکا چاہتا ہے کہ عالمی جہازوں کو مکمل آزادی حاصل ہو، جبکہ ایران اس آبی راستے پر اپنی خود مختاری برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

جوہری پروگرام بھی مذاکرات کا مرکزی نکتہ

امریکا اور اسرائیل ایران سے یورینیئم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا۔

یاد رہے کہ 2015ء میں سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ (JCPOA) طے پایا تھا، تاہم 2018ء میں ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2025ء میں امریکی انٹیلی جنس سربراہ تلسی گبارڈ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ امریکی اداروں کے مطابق ایران اس وقت ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا۔

کیا واقعی امن معاہدہ ممکن ہے؟

ماہرین کے مطابق موجودہ مذاکرات اہم پیش رفت ضرور ہیں، لیکن حتمی معاہدے کے لیے امریکا، ایران اور خصوصاً اسرائیل کے مؤقف میں نرمی ضروری ہو گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں میں نرمی اور جوہری تنازع کا حل نکل آیا تو یہ معاہدہ 2015ء کے جوہری معاہدے سے بھی بڑا ثابت ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید