• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران بمقابلہ ریسٹ آف دی ورلڈ ، ایران جنگ ہار نہیں سکتا، امریکہ کو جنگ جیتنی ہے مگر جیت نہیں سکتا ۔28فروری 2026کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کیخلاف جب مشترکہ فضائی آپریشن کیا تو ایرانی قیادت کو چن چن کر ہلاک کرنا پہلی ترجیح تھا ، خام خیالی کہ جب شدید فضائی برتری اور قیادت کی وسیع پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں تو ایران فوری طور پر مفلوج ہو جائیگا۔ سپریم لیڈر اور اعلیٰ قیادت کے ختم ہونے پر انارکی جنم لے گی ، عوام سڑکوں پر آکر قانون ہاتھ میں لیں گے ، اقتدارپر قابض ہو جائیں گے جبکہ ایران ایسے حملوں کیلئے 20 سال سے تیار چنانچہ تعجب نہیں کہ ایرانی ریاستی ڈھانچہ قائم دائم ، ایران ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔

پہلے گھنٹے کے حملوں میں امریکہ نے 200 جبکہ اسرائیل نے 500 حملے کئے ۔ اب تک 5 دنوں میں امریکہ ( 2000 حملے ) اور اسرائیل (5000 حملے ) 153 شہروں میں 500 مختلف مقامات پر حملے کر چکے ہیں ۔ 7000 حملوں کے مقابلے میں ایران نے آج تک 500 حملے کئے ، 9 ممالک کے 150 شہروں کو نشانہ بنایا ۔ گمان اغلب ، ایران کے پاس جدید چینی میزائلوں کا انبوہ ، C-302 اینٹی شپ MACH-3 ،ہائپر سونک ( MACH-3) DF-17 ، CJ-1000 ، MACH6 مع جدید ڈرونز جو چین ابھی تک سامنے نہیں لایا تھا ، ایران کے حوالے کر چکا ہے ۔ چین کا BeiDou NAVIGATION SATELLITE SYSTEM (BDS) ایران کے زیر استعمال ہے ۔ سائبر اٹیک کی طرح کی صلاحیت سے مالامال ہے ۔ اسکی ایک مثال ، چند دن پہلے امریکہ F-15E جب کویت کی ہوا میں بلند ہوئے تو کویتی ریڈار کو فیڈ کیا گیا کہ یہ دشمن جہاز ہیں چنانچہ اپنے ہی طیارے مار گرائے۔ ایران نے جنگ کا جو طریقہ اختیار کیا ہے شاید وہ اپنے مہلک ہتھیار ، میزائل اور سائبر ٹیکنالوجی کو ابھی شیلف میں رکھے ۔ پہلے دن جب ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا تو سب کا خیال تھا کہ ایران جنگ کو غیرضروری پھیلا رہا ہے۔ تیسرے دن دنیا عش عش کر اٹھی کہ جب اگلے دن نیویارک میں وال اسٹریٹ پر غشی طاری ہو گئی ۔ آج پوری خلیجی ریاستیں شدید اقتصادی بحران کی زد میں ،اور یہ بحران دنیا کو اپنی گرفت میں لینے کو ہے ۔ آبنائے ہرمز جہاں سے30فیصدتیل ، 22 فیصد LNG ( قدرتی گیس ) اور سیکڑوں ارب ڈالر کی اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل ہے ، ساری رک چکی ہے ۔ جنگ کا پہلا رائونڈ ایران جیت چکا ہے ۔

عظیم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے شہادت سے ایک ہفتہ پہلے اپنے خطاب میں فرمایا تھا کہ اگر حملہ ہوا تو جنگ پورے خطے تک پھیل جائیگی ، آج سچ ثابت ہوا ۔ ایران کے اقدامات ہرگز ESCALATION کے زمرے میں نہیں آئیں گے کہ اقوام متحدہ چارٹر ایران کو حق دفاع دیتا ہے ۔ 20 فروری کو ایران نے UN ، روس ، چین ، ترکی کو خط لکھ کر یہی کچھ بتایا کہ حملے کی صورت میں ہم ہر اس ملک کو نشانہ بنائینگے جہاں امریکی اڈے ہیں ۔فوجی لحاظ سے ایران نے ابھی تک محدود اور علامتی ردعمل اپنایا ہے البتہ اقتصادی گھیراؤ کا ہتھیار فراخدلی سے استعمال کیا ہے ۔ آج برنٹ خام تیل کی قیمت 82 ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور ایک ماہ جنگ کی صورت میں قیمتیں 120سے 130ڈالر فی بیرل تک جانے کے خدشات ہیں ۔ دوسری طرف امریکی اور پورپی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے ۔ امریکہ کے اندر ٹرمپ مخالف جذبات برانگیختہ ہیں۔

ابتدائی توقع تو یہ تھی کہ ایرانی قیادت کے خاتمے پر عوام جشن منانے سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اقتدار سنبھال لیں گے مگر الٹا ہوا عوام یکجا ہو چکے، تیاری ہمیشہ سے تھی ، پلک جھپکتے 3 رکنی کونسل نے سپریم لیڈر آفس کا نظم و نسق سنبھال لیا ۔ حملوں نے ایرانی عوام اور قیادت کو متحد کر دیا ۔ آبنائے ہرمز بند ہے جبکہ باب المندب یمن کسی بھی وقت بند ہوا چاہتا ہے اور ٹرمپ کھلوانے کیلئے پاگل ہو چکا ہے ۔ آج ٹرمپ کی پہلی ترجیح آبنائے ہرمز کھلوانا ہے ۔ آبنائے ہرمز اگلے چند ہفتے نہ کھلی تو خام تیل کی قیمت 120\130 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچے گی اور امریکہ CHAOS کی گرفت میں ہوگا ۔ دبئی سمیت خلیجی ممالک کے تمام بڑے ایئرپورٹس ، ہوٹلز اجاڑ ویران ہو چکے ہیں ۔ کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خطرہ دہلیز ٹاپنے کو ہے ۔ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سافٹ ٹارگٹس ، تجارتی اور AMAZON Ai پر حملے ترجیح بناکر خطے میں اقتصادی بحران پیدا کر چکا ہے۔

امام خامنہ ای سرطانِ مثانہ کے عارضہ میں مبتلا تھے اور طبی اعتبار سے گویا چند ماہ یا چند برس کے مہمان تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ شعاعی علاج بھی نہیں کروا رہے تھے۔ مگر اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں بسترِ علالت پر طویل اذیت کے بجائے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا۔ سوچتا ہوں ، بارگاہِ الٰہی میں یہ کیسا عظیم اعزاز ہے ۔ دوسری طرف جنہوں نے یہ اقدام کیا، انکے لہجے میں طاقت کا غرور اور خدائی تکبر تھا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تکبر غالب آتا ہے تو دانائی رخصت ہو جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو جب اغوا کیا تو عالمی سطح پر مذمت ہوئی مگر اس قدم نے ٹرمپ کی خوداعتمادی کو انتہا دی اور ایران کو بھی وینزویلا سمجھ بیٹھا ۔ ہٹلر کی غلطی سے مشابہ ، جب ہٹلر نے فرانس پر قبضے کے بعد روس پر حملہ کر کے اسٹالن کو ہٹانا اور رجیم تبدیل کرناچاہا تھا مگر ہٹلر کی تباہی کا باعث یہ ایک فیصلہ ثابت ہوا۔

دُہراتا ہوں کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ختم کرکے رجیم تبدیل کرنا اور ایران کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا تھا ۔ اب صورتحال یہ کہ ایرانی قوم یکجا جبکہ صدر ٹرمپ کی ریٹنگ زمیں بوس ہو چکی ہے ۔ آج 78فیصدامریکی جنگ کیخلاف جبکہ100فیصدایرانی عوام جنگ کے حق میں ہیں ۔ امریکی عوام کی یہ تعداد کسی وقت بھی خانہ جنگی کا بحران پیدا کر سکتی ہے ۔ بالفرض محال اگر ایران نے خلیجی ممالک کے DESALINATION پلانٹس جو سمندر کا پانی صاف کرکے60 فیصدپانی مہیا کرنے کا ذریعہ ہیں ، پر حملہ کر کے انکو اُڑا دیا تو 7 ممالک کے باشندے پانی کی قلت بنا نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے ۔ منصوبہ تھا کہ ایران میں بغاوت اور خانہ جنگی ہو گی ، حالت یہ ہے کہ امریکہ اندرونی خانہ جنگی کے دہانے پر ہے ۔ مکار اسرائیلی نیتن یاہو نے اپنی مکاری سے بدعنوان جھوٹے ٹرمپ کو ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے ۔ خدشہ ہے کہ ٹرمپ فرسٹریشن میں دنیا کو کسی خوفناک لڑائی میں نہ دھکیل دے ۔ اسرائیل امریکہ کے پیچھے پوری دنیا جبکہ ایران اکیلا اور اسکا اللّٰہ مگر جسکا اللّٰہ مددگار اور ساتھی اسکا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ 5 دنوں میں 7000 امریکی اسرائیلی حملے کے مقابلے میں 500 ایرانی حملے مگر کام دکھا گئے ۔ 500 حملے کا طوطی بولتا رہا ہے ، سو سنار کی ایک لوہار کی ۔ ایران کے پاس کھونے کو کچھ تھا نہیں ، تباہ حال معیشت اور پابندیاں ، دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے پاس کھونے کو بہت کچھ ، گنوانے کو بہت کچھ ۔

تازہ ترین