• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکتوبر 2002ء میں امریکی صدر بش نے عراق پر حملے سے ایک سال پہلے ہی قوم کو خبردار کرنا شروع کر دیا تھا کہ عراق کسی بھی وقت امریکا پر کیمیائی اور دوسرے مہلک ہتھیاروں سے حملہ کر سکتا ہے، لیکن اس کے بالکل برعکس صدر ٹرمپ نے اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر دوسرے بڑے حملے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا ہے جس میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ سمیت دیگر جانوں کا بھی ضیاع ہوا ہے۔ ویتنام کی جنگ کے بعد امریکا نے ”پاول ڈاکٹرائن“ وضع کی تھی جس کے مطابق امریکا جب بھی طاقت کا مظاہرہ کرے گا تو وہ اپنے سیاسی مقاصد کو واضح طور پر بیان کرنے کا پابند ہو گا۔ لیکن ٹرمپ ایران پر حملے کے جواز میں کبھی جوہری پھیلاؤ اور ایرانی میزائلوں کی روک تھام تو کبھی ایران میں مظاہرین کا تحفظ یا رجیم چینج کی توجیہ پیش کر رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی واضح جواز کے بغیر ہی امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دو ایئرکرافٹ کیرئر سمیت بڑی فوج کے ساتھ ایران پر حملہ کیا ہے۔ یاد رہے وینزویلا آپریشن کے دوران بھی اسی طرح کے جواز پیش کئے گئے تھے جن میں کبھی خطرناک منشیات کی روک تھام تو کبھی وینزویلا کے مظلوم عوام کو آمر سے نجات اور پھر ”مونرو ڈاکٹرائن“ کے توسط سے کہا گیا کہ ہمارے خطے میں کیمونسٹ حکومتیں برداشت نہیں کی جاسکتیں لیکن مادورو کے اغوا کے ساتھ ہی تمام جواز پس پشت ڈال دئے گئے اور مادور کے پورے نظام کو برقرار رکھا گیا، جس سے عملی طور پر ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ امریکا نے یہ تمام تر کارروائی صرف وینزویلا کے تیل پر مکمل کنٹرول کیلئے کی اور اب وینزویلا کے تیل کے کئی لاکھ بیرل برسوں بعد پہلی بار اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں۔

یہی منظر نامہ اب ایران کے حوالے سے بھی دکھائی دے رہا ہے جو کہیں زیادہ خطرناک، پیچیدہ اور پرخطر جنگ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ماہرین اس جنگ کو نیتن یاہو کے برسوں پرانے خواب کی تعبیر کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ امریکا کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کی جنگ میں شامل کرکے اس کے سب سے مضبوط حریف کو بھی لیبیا، عراق اور شام کی طرح مسلسل خانہ جنگی میں دھکیل دیا جائے۔ واضح رہے کہ پچھلے ایک سال میں نیتن یاہو سات مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر چکے ہیں جو ٹرمپ کی دنیا کے کسی بھی عالمی رہنماؤں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ملاقاتیں ہیں۔ نیتن یاہو جب بھی امریکا کا دورہ کرتے ہیں تو امریکا خود کو اسرائیل کے دشمنوں کے ساتھ کسی نا کسی تصادم میں مبتلا کر لیتا ہے، کھلی جنگ نہ سہی لیکن کشیدگی میں اضافہ ضرور ہو جاتا ہے۔ ایران پر حملےکیلئے امریکا کے ان اتحادیوں کا دباؤ بھی شامل ہے جنہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ ماہرین واضح طور پر صدر ٹرمپ کو اسرائیل کے زیراثرقرار دے رہے ہیں،کیونکہ امریکی حکام ایران کے جن بیلسٹک میزائلوں کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ امریکا تک مار کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور نہ ہی امریکا کو ایران کے تیل کی ضرورت ہے، اسے اپنے خطے میں ہی تیل پیدا کرنیوالے کئی ممالک پر دسترس حاصل ہے۔

گزشتہ بارہ دنوں کی جنگ اور موجودہ جنگ میں ایک واضح فرق یہ ہے کہ امریکا نے اس دفعہ اپنے فوجی اثاثوں کا ایک تہائی حصہ نہ صرف اس خطے میں تعینات کیا ہے بلکہ وہ عملاً اسرائیلی فوج کے ایک بازو کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسرائیل کا ہمیشہ سے خواب رہاہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک اسرائیل کے زیرسایہ رہیں اور امریکا اس مقصد کی تکمیل کیلئے اسے مکمل فوجی قوت فراہم کر رہا ہے۔ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بائبلی بنیادوں پر مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر قبضے کا حق حاصل ہے، جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو ایسا گریٹر اسرائیل تصور کیا جائے جس کے ارد گرد صرف اس کی مطیع اور دوست حکومتیں ہوں جو اسرائیل کی عسکری صلاحیتوں اور فلسطین پر قبضہ کرنے پر سوال اٹھانے کی طاقت نہ رکھتی ہوں۔

ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل کی رسائی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جہاںسے دنیا کے بیس فیصد تیل کی رسد روزانہ گزرتی ہے۔یہاں سے ہندوستان کی 60فیصد، جاپان کی 75فیصد اور چین کی 15فیصد سے زائد ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ ایران نے بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کوبھی نشانہ بنانے کو خاص اہمیت دی ہے کیونکہ یہ امریکی جنگی جہازوں کو ٹوما ہاک کروز میزائل یا فضائی دفاعی میزائل دوبارہ لوڈ کرنے کی واحد جگہ ہے۔ اس صورتحال میں بحیرہ عرب میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ جس میں ابراہم لنکن کے ساتھ کئی دیگر جہازبھی شامل ہیں،کو میزائل دوبارہ لوڈ کرنے کیلئےبحرین کی بجائے ڈیگو گارشیا جانا پڑے گا جو تقریباً تین دن سے زائد کی مسافت پر ہے، یوں امریکا بحرہند کے راستے ایران پر مسلسل اور طویل حملے برقرار نہیں رکھ سکے گا۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اس وقت حملہ کیا ہے جب مذاکرات کے دوران ایران نے اپنی نیوکلیئر افزودگی پر نظر ثانی کی آمادگی ظاہر کر دی تھی جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مذاکرات محض وقت حاصل کرنے کا حربہ تھے ۔امریکا کا یہ خیال کہ ایران کے سپریم لیڈر کو راستے سے ہٹانے کے بعد وہ ایران میں ویسی ہی حکومت کرنے لگیں گے جیسی کہ وینزویلا میں کر رہے ہیں جس پر تبصرہ کرتے ہوئے جیفری سچ نے کہا ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہو گا اور یہ خطہ لمبی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ یہ خانہ جنگی پھر ایران کی سرحدوں پر مقید نہیں رہے گی بلکہ مہاجرین کی آمد، فرقہ واریت اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے ترکی اور پاکستان بھی اس کی زد میں آ جائیں گے۔

تازہ ترین