دائرہ……
وہ ٹریفک جام میں پھنسا ہوا تھا۔
سورج ڈھل رہا تھا، اور افطار کا وقت قریب آتا جا رہا تھا۔
جب گھر کے نزدیک پہنچا، تو اذانیں ہو رہی تھیں۔
دروازے پر اسے اپنا بیٹا نظر آیا، جس کے ہاتھ میں کھجور اور پانی کا گلاس تھا۔
اس نے حیرت سے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا’’تم یہاں کیا کر رہے ہو بیٹا؟‘‘
بابا، میں آپ کا انتظار کر رہا تھا۔ بچہ مسکرایا۔
’’جیسے آپ افطار کے وقت دادا کا انتظار کیا کرتے تھے۔‘‘
اپنے مرحوم باپ کا ذکر سن کر آدمی کی آنکھیں بھر آئیں،
اور اس نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔