ایران سے امریکا و اسرائیل کی جاری جنگ نے خلیجی خطے کی سلامتی، معیشت اور سفارتی توازن کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملوں نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ خلیجی ریاستیں خطے کے عدم استحکام کے باوجود محفوظ پناہ گاہ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث خطے کے کئی شہروں میں خوف و ہراس کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔
خلیجی ممالک کے رہائشی میزائل دفاعی نظام کی آوازوں کے درمیان گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جبکہ فضائی حدود بند ہونے سے سفر بھی شدید متاثر ہوا۔
خاص طور پر ابوظبی، دبئی اور ریاض جیسے بڑے معاشی مراکز، جو طویل عرصے سے خود کو محفوظ اور مستحکم کاروباری مراکز کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، اب براہِ راست خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس سے سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے، کئی مالیاتی منڈیاں عارضی طور پر بند رہیں جبکہ شہری ضروری اشیاء ذخیرہ کرنے کے لیے قطاروں میں نظر آئے۔
خطے کی معیشت کو سب سے بڑا جھٹکا توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ سے لگا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش اور قطر کی گیس کمپنی کی ایل این جی سرگرمیوں کی معطلی نے عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق نے تیل کی پیداوار کم کر دی ہے جبکہ سعودی عرب کو اپنے خام تیل کے راستے تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، اسی دوران فوجیریا پورٹ کے قریب سیکڑوں آئل ٹینکر محفوظ راستے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، گزشتہ برسوں میں خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات میں نرمی لانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر حالیہ حملوں نے اس عمل کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ ختم بھی ہو جائے تو بھی خلیجی ریاستوں کی سیکیورٹی پالیسی اب زیادہ محتاط اور سخت ہو سکتی ہے اور خطہ ایک ایسے دور میں داخل ہو سکتا ہے جہاں اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی خدشات بھی مرکزی حیثیت اختیار کر جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران نے خلیج کے اقتصادی ماڈل، توانائی کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور ممکن ہے کہ یہ جنگ خطے کی سیاست اور معیشت کو طویل عرصے تک متاثر کرے۔