• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردن میں تباہ ہوئے امریکی تھاڈ ریڈار سسٹم کی مالیت کیا تھی؟َ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایران نے امریکی تھاڈ ریڈار سسٹم تباہ کر دیا، جس کی مالیت تقریباً 300 ملین ڈالرز تھی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے خلیجی خطے میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی رہنمائی کے لیے استعمال ہونے والا تقریباً 300 ملین ڈالرز مالیت کا اہم ریڈار سسٹم تباہ کر دیا ہے، جس سے مستقبل کے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کی علاقائی صلاحیت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ RTX کارپوریشن کا تیار کردہ AN/TPY-2 ریڈار اور اس سے متعلق معاون آلات جو امریکی تھاڈ میزائل دفاعی نظام کا حصہ ہیں، اردن کے موفق السلطي ایئر بیس پر جنگ کے ابتدائی دنوں میں تباہ ہو گئے۔

—تصویر بشکریہ عالمی میڈیا
—تصویر بشکریہ عالمی میڈیا

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی اطلاع دی تھی، جس کی اب ایک امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے اعداد و شمار کے مطابق اردن میں ایران کے 2 حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، پہلا حملہ 28 فروری اور دوسرا 3 مارچ کو ہوا تھا، ابتدائی رپورٹس کے مطابق دونوں حملوں کو اس وقت ناکام بنا دیا گیا تھا۔

ادارے کے سینٹر آن ملٹری اینڈ پولیٹیکل پاور کے نائب ڈائریکٹر ریان بروبسٹ کے مطابق اگر تھاڈ ریڈار پر ایرانی حملہ واقعی کامیاب ہوا ہے تو اسے اب تک کے ایرانی حملوں میں سے ایک نمایاں کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کے پاس دیگر ریڈار نظام موجود ہیں جو فضائی اور میزائل دفاع کی کوریج جاری رکھ سکتے ہیں، جس سے کسی ایک ریڈار کے نقصان کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

AN/TPY-2 ریڈار کے تباہ ہونے کے بعد میزائل روکنے کی ذمے داری زیادہ تر پیٹریاٹ نظام پر منتقل ہو سکتی ہے، جبکہ PAC-3 میزائل پہلے ہی محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔

امریکا کے پاس دنیا بھر میں اس وقت 8 تھاڈ سسٹمز موجود ہیں، جن میں جنوبی کوریا اور گوام میں تعینات نظام بھی شامل ہیں۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق ایک تھاڈ بیٹری کی قیمت تقریباً 1 ارب ڈالرز ہوتی ہے، جبکہ تقریباً 300 ملین ڈالرز صرف ریڈار کی مالیت ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید