• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ: کیا امریکا اہم میزائل کھو رہا ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایران کے خلاف حالیہ جنگی کارروائیوں کے بعد امریکا کے جدید ہتھیاروں اور میزائل دفاعی نظام کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کے خدشات سامنے آ گئے ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتی ہے۔

امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے اسلحے کی فراہمی وقتی طور پر روکی گئی ہے تاکہ امریکا اپنے ضروری جنگی گولہ بارود کی دستیابی یقینی بنا سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی ایران کے خلاف آپریشن اپیک فیوری کے اختتام کا اعلان کر چکے ہیں، جس کے بعد حکومتی بیانات میں تضاد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے دوران امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے اپنے جدید ترین میزائل دفاعی نظام کا وسیع طور پر استعمال کیا۔ 

امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے 200 سے زائد تھاد انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے، جو اس کے مجموعی ذخیرے کا تقریباً نصف بنتے ہیں۔

اس کے علاوہ 100 سے زائد اسٹینڈرڈ میزائل 3 اور اسٹینڈرڈ میزائل 6 بھی فائر کیے گئے، جبکہ اسرائیل نے نسبتاً کم تعداد میں اپنے انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے جنگ کے دوران 7 اہم قسم کے ہتھیاروں کا بڑا حصہ استعمال کر لیا، جن میں پیٹریاٹ، ایس ایم 3 ایکس ایم 6 اور تھاد میزائل شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا اپنے اندازاً 3100 میزائلوں میں سے ایک ہزار سے زائد استعمال کر چکا ہے، جبکہ ان ذخائر کو دوبارہ پرانی سطح تک پہنچانے میں ایک سے 4 سال لگ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف ہتھیاروں کی تعداد کا نہیں بلکہ ان کی تیاری، سپلائی چین، خام مال، ماہر افرادی قوت اور صنعتی صلاحیت بھی بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

دفاعی ماہر کے مطابق ایران جنگ نے ثابت کیا کہ امریکا کے پاس عالمی سطح پر طاقت تو موجود ہے، لیکن اس کے جنگی ذخائر لامحدود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اگر چین یا کسی اور محاذ پر بڑی جنگ چھڑتی ہے تو امریکا کو انہی میزائلوں اور دفاعی نظام کی ضرورت پڑے گی، جن کا بڑا حصہ پہلے ہی ایران جنگ میں استعمال ہو چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی اتحادی ممالک خصوصاً جاپان، جنوبی کوریا اور خلیجی ریاستیں بھی امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، کیونکہ ان کا دفاع بڑی حد تک امریکی میزائل سسٹمز پر منحصر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگوں میں صرف مالی وسائل کافی نہیں ہوتے بلکہ مسلسل پیداوار اور دفاعی صنعت کی رفتار بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید