• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جس طرح جوانی میں بزرگوں کی باتیں جھوٹ اوربعد میں سچ لگتی ہیں اسی طرح بعض ایسے ادوار بھی آتے ہیں کہ بظاہر غلط لگنے والی باتیں بھی سچ لگنے لگتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال کو دیکھ کر یقین ہوگیا ہے کہ مطالعہ پاکستان بالکل ٹھیک تھی۔جن دشمنوں کی مکاریوں اور عیاریوں کے متعلق پڑھایا گیا تھا وہ بالکل ٹھیک تھا۔اصل میں دنیا کے طاقتوروں نے برسوں پہلے شرافت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ اندر سے سب وہی تھے لیکن ترقی و تہذیب کے شوکیس میں ان کے متانت بھرے بت سجے ہوئے تھے۔ یہ بت ٹوٹے تو اندازہ ہوا کہ سلطانی اور درویشی سب عیاری تھی۔طالبان بچوں کے اسکول جانے پر پابندی عائد کرتے تھے یا درس گاہوں پر بم مارتے تھے تو دنیا کی سسکیاں ختم نہیں ہوتی تھیں، مہذب ممالک تڑپ جاتے تھے۔ آج ایران میں اسکولوں پر میزائل سے بچے مر رہے ہیں تو انہی ممالک میں کوئی ٹسوے بہانے پر بھی نہیں آمادہ۔ پوری دنیا کا درد رکھنے والے پوری دنیا کو درد میں مبتلا کر کے فتح کے بہانے تلاش رہے ہیں۔ انسان فطری طور پروحشی طبیعت رکھتا ہے۔ غاروں کے زمانے کی دی ہوئی ’گڑھتی‘ آج بھی اسکے ڈی این اے میں شامل ہے۔ شمالی کوریا ٹھیک رہ گیا ہے جس نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کرکے سپر پاور کو بھی دبکنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ اُس طرف امریکہ کا دھیان نہیں جاتا جہاں بدترین آمریت ہے، انسانی حقوق کی پامالی ہے اور جوہری توانائی کے دعوے بھی ہیں۔ برق گرتی ہے تو سہمے ہوئے ممالک پر۔ہمارے ایک کولیگ تھے، نفسیات کا بہت گہرا علم رکھتے تھے۔فرماتے تھے اگر جھوٹ کا مقابلہ کرنا ہو تو اُس سے بھی بڑا جھوٹ بولنا چاہئے، بدمعاشی کا مقابلہ اس سے بھی بڑی بدمعاشی سے کرنا چاہیے اور امن کی بات ہو تو اُس میں بھی سب سے اوپر ہونا چاہیے۔ جیسا منہ ویسی چپیڑ.....

٭ ٭ ٭

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچپن روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔آج سے چار پانچ سال پہلے لاہور ٹریفک کے ایک سینئر اہلکار نے دوران گفتگو بتایا تھا کہ اگر لاہور کی کسی ایک جگہ بیچ سڑک میں ایک گاڑی روک دی جائے تو اگلے دو تین گھنٹوں میں پورے لاہور کی ٹریفک جام ہوجائیگی۔یہ فارمولا دنیا پر بھی پوری طرح فٹ بیٹھتاہے۔ ایک ہفتے کی جنگ نے پٹرول کی قیمت پچپن روپے بڑھا دی ہے، اندازہ کریں کہ یہ سلسلہ دو ہفتے تک جاری رہا تو بات کہاں جائے گی۔حکومت لاک ڈاؤن ٹائپ صورتحال پیدا کرکے ورک فراہم ہوم کی پالیسی متعارف بھی کروا دے تو کیا ہرکام آن لائن ہوسکتا ہے؟ ٹرانسپورٹرز کا کیا بنے گا؟ ٹرینوں جہازوں کا کیا بنے گا؟ پٹرول پمپ والوں کا کیا بنے گا؟ ہسپتالوں کا کیا بنے گا؟دکانوں، مارکیٹوں کا کیابنے گا؟۔ جنگ میں نہ ہونےکے باوجود اثرات تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہے ہیں۔ہم اکیلے نہیں پوری دنیا میں اس کی گرمائش محسوس کی جارہی ہے۔تیل رکے گا تو پوری دنیا کا پہیہ رکے گا، پہیہ رکا تو معیشت جام ہوجائے گی اور معیشت جام ہوئی تو انسان بھی جام ہوجائے گا۔فی الوقت تو دنیا وینٹی لیٹر پر ہے۔ سانس بہتر ہوگیا تو ٹھیک ورنہ چار پانچ سو سال بعدآنے والی نسلیں کھدائی کرکے ہماری باقیات اورمیزائل کے ٹکڑے نکالا کریں گی اور میوزیم میں سجا کر نئی نسل کو بتایا کریں گی کہ دورجاہلیت کا انسان ایسا ہوتا تھا۔

٭ ٭ ٭

اسکول کے زمانے میں ہمارا ایک موٹا تازہ لمبا تڑنگا کلاس فیلو تھا جو چھوٹی سی بات پر بھی ہم جماعتوں کو پھینٹی لگا دیا کرتا تھا۔ پوری کلاس اس سے خوفزدہ رہتی تھی۔ وہ جب چاہتا کسی بھی بچے کا کھانا چٹ کرجاتا اور بچہ خوف کے مارے خاموش ہو جاتا۔ ٹیچرز بھی اس لمبے تڑنگے لڑکے کوسزا دینے سے گریز کرتے تھے کیونکہ خطرہ تھا کہ وہ کم بخت آگے سے بپھر نہ جائے۔ ایک دن کلاس کے سب کمزوروں نے ایک دلچسپ پلان بنایا۔ یہ لمبا لڑکا سائیکل پر اسکول آتا تھاکیونکہ اسکا گھر اسکول سے تقریباً چھ سات کلومیٹر دو ر تھا۔ کلاس کے لڑکوں نے چپکے سے جاکر اسکی سائیکل کی ہوا نکال دی۔ چھٹی کے وقت لمبے لڑکے نے سائیکل نکالی تو پریشان ہوگیا۔ اُس روز وہ ڈیڑھ کلومیٹر تک سائیکل کو گھسیٹ کر ٹائروں والی دکان پر لیکر گیا۔ اگلے دن جب چھٹی ہوئی تو اس کی سائیکل کی ہوا پھر نکلی ہوئی تھی۔ اسکا غصہ انتہا کو پہنچ گیا۔ سمجھ تو گیا تھا کہ یہ کلاس کے لڑکوں کی شرارت ہے لیکن یہ نہیں پتا چل رہا تھا کہ کس کو پکڑے؟ پھر روز یہ ہونے لگا۔ اسی دوران لڑکوں نے ایک دن بلیک بورڈ پر اُسکے نام ایک پیغام لکھا کہ ’اگر تم اپنے کسی بھی کلاس فیلوسے لڑے تو تمہاری سائیکل کی ہوا نہیں نکالی جائیگی بلکہ اسکے دونوں ٹائر پنکچر کردیے جائینگے‘۔بس اُس دن کے بعد لمبے تڑنگے کی ہوا بھی نکل گئی اور اس نے اسی ڈرسے کسی کلاس فیلو کو ہاتھ نہیں لگایا کہ سزا سائیکل کو ملے گی۔پوری کلاس اس کے خلاف متحد تھی اور اس بات پر بھی کہ لمبے کیخلاف کارروائی تو کرنی ہے لیکن سامنے آکر نہیں۔لمبے کا پرابلم سائیکل تھی۔ سائیکل کے بغیر وہ کہیں آنے جانے کے قابل ہی نہیں تھا لہٰذا تمام تر غصے کے باوجود اس نے خود پر قابو پایا اور پھر کبھی کسی کلاس فیلو پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔پتانہیں کیوں لگتا ہے کہ آج بھی وہ لمبا زندہ ہے، اسی طرح ہر ایک کومارنے پر تلا ہوا ہے لیکن کچھ عقل مندوں نے طے کرلیا ہے کہ اسکی سائیکل کی ہوا نکالنی ہے اور تب تک نکالنی ہے جب تک اس کی طبیعت صاف نہیں ہوجاتی۔دو تین ہفتے تک اس کے ساتھ یہ سلوک جاری رہا تو اس نے کسی سے معافی تو نہیں مانگنی البتہ خاموشی سے کونے میں لگ کر ضرور بیٹھ جائے گا۔

تازہ ترین