مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے سنگین نتائج اس وقت پوری امت مسلمہ کیلئے انتہائی پریشان کن اور تشویش کا باعث ہیں ۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کےبڑھتے ہوئے حملے خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے کیونکہ عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اس آبنائے ہرمز کی بندش سے نہ صرف عالمی معیشت شدید متاثر ہوگی بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہو جائے گا۔ جسکے آثار نظر آنا شروع بھی ہو گئے ہیں ۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کو امریکی اثر و رسوخ کے تحت قائم اداروں بالخصوص بورڑ آف پیس سے فوری علیحدگی اختیار کرنی چاہیے۔امریکن بورڈ آف پیس میں رہنے کا کوئی جواز اب باقی نہیں رہا کیونکہ ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ خود جنگوں کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان کو ایک خودمختار اور جرات مندانہ خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے جو قومی مفادات اور امت مسلمہ کے اتحاد کے مطابق ہو۔ امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ایران پر جارحیت کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت درحقیقت رجیم چینج کے نام پر امریکی و اسرائیلی کھلی مداخلت اور ریاستی دہشت گردی ہے۔ یہ اقدام عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھانے والی یہ کارروائیاں امنِ عالم کیلئے خطرہ ہیں بلکہ مسلم ممالک میں خونریزی کو ہوا دے رہی ہیں، جس کا کوئی اخلاقی، قانونی یا انسانی جواز موجود نہیں۔یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ دنیا میں سب سے بڑے دہشت گرد امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کا اصل چہرہ اب بے نقاب ہو چکاہے۔ یہ قوتیں اپنی سیاسی اور اسٹرٹیجک بالادستی کیلئے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں اور امتِ مسلمہ کو کمزور کرنے کا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہیں۔ ایران کے خلاف جارحیت دراصل پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منظم کوشش ہے، جسکے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کو اس صورتحال پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پوری مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ، بے چینی اور اضطراب کی کیفیت ہے۔ یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا تکلیف دہ وقت ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی جا ری ہے، سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب چکے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے عالمی اقتصادی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں نے خطے میں صورتحال کو خطرناک بنا دیا ہے۔
طاقت کے استعمال اور دھمکی آمیز بیانات سے امن قائم نہیں ہوتا بلکہ تنازعات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ایران کے معاملے کو بنیاد بنا کر خطے میں وسیع تر کشیدگی پیدا کی جا رہی ہے، جسکے بھیانک نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔اب یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ خدا نخواستہ اگلا نمبر پاکستان کا ہے ۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے کسی صورت بیرونی دباؤ یا مداخلت کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔ پاکستانی عوام اپنے ملک کی آزادی، نظریاتی سرحدوں اور خودداری کے تحفظ کے لیے متحد ہیں ۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور یہ قومی سلامتی کی علامت ہے، جس کی وجہ سے دشمن قوتیں اسےاپنی آنکھوں میں کھٹکتا ہوا محسوس کرتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی فورمز پر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے جارحانہ اقدامات کی مذمت کی جائے اورمشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ بین الاقوامی تنازعات کے سائے میں داخلی سطح پر مختلف ممالک کے عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا ظالمانہ اضافے سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لے گی، جس کا براہِ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ کم از کم مقدس مہینے رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ اس وقت بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی مسائل بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان ریلوے کی 2355جائیدادوں پر ناجائز قبضے کا انکشاف ادارہ جاتی نااہلی اور بدانتظامی کا واضح ثبوت ہے۔ کراچی میں 589، سکھر میں 1538، کوئٹہ میں 123، ملتان میں 36، لاہور میں 24، پشاور میں 6 جبکہ سی ایس ایف ڈائریکٹوریٹ میں 38 جائیدادوں پر قبضہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان ریلوے پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہے اور ایسے حالات میں قومی اثاثوں پر قبضہ ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے۔ ملکی و قومی مفاد میں ضروری ہے کہ فوری طور پر ناجائز قابضین کے خلاف آپریشن کیا جائے، قومی املاک واگزار کرائی جائیں اور ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے۔ ملک اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے حالات میں قیادت کو سنجیدگی، جرات اور دیانتداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو معاشی و سیاسی عدم استحکام سے محفوظ رکھا جا سکے۔