رب کی رحمت سے دولتِ قرآں
ہم کو حاصل ہے برکتِ قرآں
اے خدا تیری بندگی کی ہے
ہم نے کر کے زیارتِ قرآں
کاش کے ہم سبھی سمجھ جائیں
عظمت و شان و شوکتِ قرآں
ہوتی کیا آساں زندگی اپنی
مانتے جو نصیحتِ قرآں
یہ ہے محفوظ اپنے سینوں میں
مٹ نہیں سکتی صُورتِ قرآں
یہ ہے اللہ کا کلامِ مُبیں
جان لو اس سے عظمتِ قرآں
اس میں آدابِ زندگی بھی ہیں
یہ بھی تو ہے فضیلتِ قرآں
اس کو کونین میں ملی عظمت
جس نے پالی ہدایتِ قرآں
(ذکی طارق بارہ بنکوی، سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، بھارت)
ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد اور مٹی کیوں نہ ہو، اُسے صاف کیا جاسکتا ہے۔ بس، صرف ایک ہاتھ پھیرنا پڑتا ہے اور شیشے میں سے عکس نظر آنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر ہر ہاتھ کے ساتھ عکس پہلے سے زیادہ صاف اور چمک دار ہوتا جاتا ہے۔ اور… وہ ہاتھ اُس محبّت کا ہوتا ہے، جو ایمان سے ہوتی ہے۔
(کتاب ’’ایمان، اُمید اور محبّت‘‘ سے اقتباس،
انتخاب: بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)