• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس بات سے قطعی انکار نہیں ہے کہ فقیر کی سیاسی شدہ بدھ ناقص ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر فقیر جاننا چاہتا ہے کہ اس کے اطراف کیا ہورہا ہے، جاننا، معلوم کرنا، پتہ لگانا انسان کا بنیادی حق ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار ہونا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ مجھے بہت کچھ اچھا نہیں لگتا، مثلاً مجھے سیاست دانوں کی تقریریں اچھی نہیں لگتیں۔ خاص طور پر میٹرک فیل سیاست دانوں کی تقریریں سن کر جی چاہتا ہے کہ دیواروں سے ٹکریں مار مار کر اپنا سر پھوڑ دوں یا پھر میٹرک فیل سیاست دان کا سر پھوڑ دوں۔ کبھی جی چاہتا ہے کہ اپنے یا میٹرک فیل سیاست دان کے سر میں دھول ڈال دوں۔ گریباں چاک کرکے ویرانوں کی طرف نکل جائوں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میرے اطراف کیا ہورہا ہے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ میرے اطراف جو کچھ بھی ہورہا ہے، اچھا نہیں ہورہا ہے۔ بہت کچھ بڑا اور بہت کچھ برا ہورہا ہے۔ طاقتور کی کمزور پر یلغار محسوس کررہا ہوں۔

مجھے یاد پڑتا ہے، تب میں بہت چھوٹا تھا، دوسری جنگ عظیم کی واضح گونج کراچی میں سنائی دی تھی۔ روزانہ رات کے اوقات میں بلیک آئوٹ ہوتا تھا۔ سائرن بجتے تھے، میری ماں بھاری بھرکم تھیں، پورے کنبے کے ساتھ ماں مجھے گود میں اٹھاکر برہان خان بلڈنگ کی سیڑھیوں میں جاکر بیٹھ جاتی تھیں۔ نہ جانے کس نے ہماری فیملی کو ذہن نشین کرادیا تھا کہ ہوائی حملے کے دوران سب سے محفوظ جگہ عمارت کی سیڑھیاں ہوتی ہیں۔ ایسی کوئی صورت حال اپنے اطراف مجھے دکھائی نہیں دیتی۔ میں نہیں سمجھتا کہ تیسری عالمی جنگ لگنے والی ہے یا پھر تیسری عالمی جنگ لگ چکی ہے۔ مگر مجھے شدت سے محسوس ہورہا ہے، میرے اطراف بہت کچھ قطعی غلط ہورہا ہے۔

بہت عرصے سے امریکہ کی اپنے سے بہت چھوٹے ملک ایران سے ان بن چل رہی تھی، کس بات پہ بے انتہا طاقتور اور بڑے ملک کی ایک چھوٹے سے ملک سے ان بن چل رہی تھی، میں واضح طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ میں فقیر آدمی ہوں۔ میری نہ تو ایجنسیاں ہیں اور نہ میں نے ایجنٹ ایک دوسرے کے ممالک میں مخفی طور پر لگائے ہوئے ہیں۔ میں سنی سنائی باتوں پر انحصار کرتا ہوں۔ سنی سنائی باتوں پر اعتبار کرنے کی عادت مجھے ورثے میں ملی ہوئی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ امریکہ کے ایران سے اختلافات ایک نقطے پر اٹکے ہوئے ہیں۔ کسی قسم کی بنیادی باتوں پر بڑے ملک کے چھوٹے ملک سے اختلافات نہیں ہیں۔ سور حرام ہے یا حلال ہے، اس پر اختلاف نہیں ہے، دونوں ممالک کے لوگ گورے چٹے، بلکہ دیکھنے سے ایک جیسے لگتے ہیں۔ کپڑے لتے بھی زیادہ تر ایک جیسے پہنتے ہیں۔ صفائی ستھرائی میں بھی ایک جیسے لگتے ہیں۔ قانون کی بالادستی میں بھی دونوں ممالک ایک جیسے لگتے ہیں۔ دونوں ممالک جو بوتے ہیں وہ کاٹتے ہیں۔ معاشی اور اقتصادی طور پر بھی دونوں ممالک میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ یہاں دونوں ممالک میں لوگوں کا عقیدہ الگ الگ ہے، جہاں تک مجھے بتایا گیا ہے دونوں چھوٹے بڑے ممالک میں جھگڑا عقیدے کا بھی نہیں ہے۔ ویسے بھی بڑے ملک کے عام لوگ آزاد خیال ہیں۔ وہ عقیدے کے نام پر مرنے مارنے کیلئے آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے، تو پھر مسئلہ کیا ہے، کس بات پر ناراض ہوکر بڑا ملک چھوٹے ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے؟

بڑے ملک کا نام ہے امریکہ، چھوٹے ملک کا نام ہے ایران، امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس ایٹم بم ہو، اب ایک ہی سوال دنیا بھر کے لوگ امریکہ سے پوچھتے ہیں کہ جب آپ ایٹم بم رکھ سکتے ہو اور ہیروشیما اور ناگا ساکی پر چلا بھی سکتے ہو، تو پھر امریکہ سرکار آپ کس اصولی موقف کی بنا پر اعتراض کرسکتے ہو کہ ایران کے پاس ایٹم بم نہ ہو؟ دنیا میں کئی ممالک کے پاس ایٹم بم ہے، اپنی دھونس اور دبدبے کو بروئے کار لاتے ہوئے آپ ان تمام ممالک کو مجبور کردوگے کہ وہ اپنے اپنے ایٹم بموں کی کھیپ کو مکمل طور پر ناکارہ کرنے کے بعد بوتل گلی کے کباڑیوں کو اونے پونے بیچ دیں؟

کوئی معقول وجہ تو ہونی چاہیے، جس کی بنا پر آپ امریکہ سرکار ایک چھوٹے ملک ایران کو مجبور کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ ایٹم بم نہ بنائے؟ آپ کیا ایٹم بموں پر اپنی کل اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں؟ آپ چاہتے ہو کہ آپ دنیا کے واحد ملک ہوں جس کے پاس ایٹم بم ہو؟قدیم دور میں وادیوں سے گزرتی ہوئی دشمن کی فوج پر پہاڑوں کی چوٹیوں سے ہزاروں من اور ٹن تودے گرائے جاتے تھے، تب آپ کہاں تھے سرکار؟ ہزاروں من اور ٹن وزنی تودے اب بموں کی شکل میں بدل چکے ہیں آپ بھی تو دشمن پر بموں کی بارش کرتے ہو۔ آپ کو کوئی روک ٹوک نہیں سکتا۔ آپ دنیا کے واحد سپر پاور بن چکے ہو۔

قدیم دور کی دوبدو جنگوں میں دشمن پر دور سے وار کرنے کیلئے نیزے استعمال ہوتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے تیر کمانوں کا دور آیا، دشمن کی فوجوں کو پسپا کرنے کیلئے ان پر تیروں کی بارش کی جاتی تھی، آج کل دشمن کی فوجوں اور شہروں پر بموں کی بارش کی جاتی ہے۔فقیر بھی کبھی کبھی سوچتے ہیں، سوچ چھوٹی سہی، مگر فقیر پھر بھی سوچتے ہیں، اگر امریکہ چاہتا ہے کہ کسی اور ملک کے پاس ایٹم بم نہیں ہونا چاہیے تو سب سے پہلے امریکہ اپنے ایٹم بم مسمار کردے، ناکارہ کردے، دنیا پر ثابت کردے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں۔ اس کے بعد اس کے تقاضےکو تقویت مل سکتی ہے، ورنہ نہیں، کچھ بھی نہیں، دنیا میں دھونس اپنا دبدبہ کھو بیٹھی ہے، نو دادا گیری۔

تازہ ترین