• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں اور میرے جیسے بہت سے ’درمیانے‘ ہیں جو کھجور میں اٹکے ہوئے ہیں، نہ ہمیں کوئی لبرل مانتا ہے نہ مذہبی۔ ایک طبقہ ہمیں مذہب سے کاٹنا چاہتا ہے دوسرا معاشرے سے۔ہم دونوں کے لیے آسان شکار ہیں، کوئی بھی ہمیں محبت سے اپنا کر ہمارا احساس کمتری ختم کرسکتا ہے، ہمیں اپنے جیسا بنا سکتا ہے لیکن کوئی بھی تو نہیں آگے آتا۔الٹا ہم جس طرف کو بھی جھکتے ہیں وہ ہماری چھوٹی چھوٹی باریکیوں کو زوم کرکے بتاتے ہیں کہ ہم کتنے غلط ہیں۔ہم جس طرف بھی جاتے ہیں جوتیاں کھاکے ہی نکلتے ہیں۔ہم دو انتہاؤں کے درمیان زند ہ ہیں لیکن وہ موج نہیں ہیں جو دریا میں ہوتی ہے، ہم بیرونِ دریا ہیں اور کچھ نہیں ہیں۔ ہمیں ہمارا معاوضہ چیک کی صورت میں ملتا ہے اور چیک بینک میں جمع کرائے بغیر کیش نہیں ہوتا۔ مذہبی کہتے ہیں بینک سے لین دین جائز نہیں۔تو پھر کس سے لین دین کریں؟۔مذہبی سگریٹ تک نہیں پینے دیتے اور لبرل اس سے بھی آگے کی بات کرتے ہیں۔اصل میں ہم آدھے تیتر‘ آدھے بٹیر ہیں۔اب ہم کوشش کے باوجود بھی نہ لبرل ہوسکتے ہیں نہ مذہبی۔ہمارا پورا باطن ففٹی ففٹی ہوچکا ہے۔ہم کتنے ہی لبرل دوستوں کے ساتھ کیوں نہ سفر کر رہے ہوں، بلند آواز نہ سہی دل میں ہی سفر سے پہلے کوئی نہ کوئی دعا ضرور پڑھ لیتے ہیں۔اسی طرح بے شک رمضان میں روزے سے ہی کیوں نہ ہوں ٹی وی پر کوئی فلم بھی چکھ ہی لیتے ہیں۔کیا کریں، کدھر جائیں ’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘۔

ہمارے مرنے پرشمعیں جلائیں یا قل خوانی کرائیں لیکن خدا کے لیے یہ تو طے کردیں کہ ہم ہیں کون؟

٭ ٭ ٭

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گردوں کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ یہ اعلان سن کردہشت گردوں نے حکومت اور سیکورٹی فورسز سے درخواست کی ہے کہ انہیں ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی جائے۔ دہشت گردوں نے اپنی درخواست اوتھ کمشنر سے تصدیق کروا کے چار پاسپورٹ سائز تصویروں اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کے ہمراہ پیش کی تھی تاہم حکومت نے ان کی درخواست رد کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جس پر دہشت گردوں میں بے حد مایوسی پھیل گئی ہے۔ ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ دہشت گرد نہایت سیخ پا ہیں اورانہوں نے کہا ہے کہ وہ حکومتی اجازت نہ ملنے پر اسمبلی ہال کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کے لیے جو درخواست دی تھی اس کے ساتھ میٹرک کی سند اور کریکٹر سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا گیا۔جب حکومتی ترجمان سے پوچھا گیا کہ اگر یہ دہشت گرد آپ سے اجازت لیے بغیر کوئی دہشت گردی کی کارروائی کردیں تو اس پر کیا ایکشن لیا جائے گا تو جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں حکومت بالکل بھی خاموش نہیں رہے گی بلکہ بھرپور طریقے سے اس عمل کی نہ صرف مذمت کی جائے گی بلکہ اسے سرعام ایک بزدلانہ فعل بھی قرار دیا جائے گا۔حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کی اجازت کے لیے عنقریب ایک محکمہ قائم کیا جارہا ہے اور کوشش کی جائے گی کہ ملک کی ہریونین کونسل میں اس کے ذیلی دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ دہشت گردوں کو اپنی کارروائیوں کی اجازت لینے کے لیے دوردراز کا سفر نہ طے کرنا پڑے۔

٭ ٭ ٭

میرے ایک کولیگ ہوا کرتے تھے،ہمیشہ اولاد کے لیے ترستے رہے، دن رات باپ بننے کے خواب دیکھتے تھے، بے شمار حکیموں سے علاج کروایا، ڈاکٹروں کے چکر لگائے لیکن من کی مراد پوری نہ ہوئی۔ ہم سب ان کی حالت دیکھ کر دل کی گہرائیوں سے ان کیلئے دعا کیا کرتے تھے۔ایک دن تو انہوں نے ایک ایسی بات کی کہ بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے، کہنے لگے’میں دولت نہیں چاہتا شہرت نہیں چاہتا صرف یہ چاہتا ہو ں کہ میرا بھی کوئی بچہ ہو بے شک لڑکا ہو یا لڑکی، لیکن کوئی تو ہو جو مجھے ابو کہے پاپا کہے بابا کہے… میں نے انہیں گلے سے لگایا اور تسلی د ی کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ایک دن میری اپنے ایک ڈاکٹر دوست سے بات ہوئی میں نے انہیں اپنے کولیگ کا مسئلہ بتایا تو کہنے لگے آج کل بڑی جدید ٹیکنالوجی آگئی ہےتمہارے دوست کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟ میں گڑبڑا گیا یہ سوال تو میں نے اپنے کولیگ سے پوچھا ہی نہیں تھا۔میں نے جلدی سے ان کے گھر کا نمبر ملایا اور پوچھا کہ ’محترم میں اس وقت اپنے ایک نہایت مستند ڈاکٹر دوست کے پاس موجود ہوں اور وہ آپ کے مسئلے کا حل نکال رہے ہیں یہ بتائیے کہ آپ کی شادی کب ہوئی تھی‘…آگے سے انتہائی درد میں ڈوبی ہوئی آواز آئی…”شادی کہاں ہوئی ہے بھائی…‘۔سو طے ہوا کہ اگر کوئی اس بات پر پشیمان ہو کہ وہ تمام تر محنت کے باوجود ڈاکٹر نہیں بن پایا تو عین ممکن ہے موصوف ’درس نظامی‘ کیے بیٹھے ہوں۔یہ صورتحال تب پیش آتی ہے جب سیدھی سی بات پر دھیان دینے کی بجائے اپنے تئیں بلاوجہ عقل کے استعمال پر زور دیا جائے۔عموماً پہیلیوں میں بھی یہی تکنیک استعمال کی جاتی ہے جس میں اچھے اچھے پھنس جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے میٹرک میں میرے ایک کلاس فیلو نے پوچھا تھا کہ ’بتاؤ ایک بندے کے ہاتھ کی چھ انگلیاں تھیں لیکن سب اسے بادشاہ بادشاہ کہتے تھے، کیوں؟‘۔ یہ سن کر میں نے فوراً ذہن استعمال کیا لیکن کچھ سمجھ نہ آیا کہ ہاتھوں کی چھ انگلیوں کا بادشاہ کہلوانے سے کیاتعلق بنتا ہے، پونے دو گھنٹے مغز ماری کرنے کے بعد بالآخر میں نے ہار تسلیم کرلی اورجواب پوچھا۔ پتا چلا کہ بندے کا نام ہی بادشاہ تھا۔دھت تیرے کی……!!

تازہ ترین