• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ گل پلازہ، فائر سیفٹی نظام کی کمی جانی نقصان کی بڑی وجہ قرار

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں ڈی جی ریسکیو 1122 نے کمیشن کے سوالنامے کا جواب جمع کروادیا ، ریسکیو 1122 کی جانب سے ابتدائی رپورٹ بھی شامل ہیں، جمع کرائی گئی رپورٹ میں فائر سیفٹی نظام کی شدید کمی اور واقعے کی اطلاع میں تاخیر جانی نقصان کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے، ہجوم، ٹریفک جام، سڑکوں کی بندش اور جاری تعمیراتی کام نے ریسکیو کارروائیوں کو متاثر کیا، عمارت میں مناسب فائر ایگزٹ موجود نہیں تھے ڈی جی ریسکیو 1122 نے جواب میں کہا کہ جائے وقوعہ پر پہنچنے تک آگ تیسری درجے کی شدت اختیار کر چکی تھی، عمارت مکمل طور پر شعلوں کی لپیٹ میں تھی، ریسکیو ٹیموں نے ابتدائی جائزے کے بعد صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا، عمارت کے غیر مستحکم ہونے کے باعث فائر فائٹرز نے دفاعی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے قریبی عمارت رمپا پلازہ سے آگ بجھانے کی کارروائی کی، کئی کھڑکیاں اسٹیل اور کنکریٹ سے بند تھیں جس کے باعث ریسکیو آپریشن شدید متاثر ہوا، دھوئیں کے شدید اخراج سے عمارت کے اندر اور باہر حدِ نگاہ انتہائی کم ہوگئی تھی، اہلکاروں نے سیڑھیوں اور دیگر متبادل راستوں کے ذریعے ریسکیو کی کوششیں کیں، جائے وقوعہ پر پہنچنے کے وقت عمارت کی بالائی منزلوں پر کچھ افراد زندہ دیکھے گئے جنہیں کھڑکیوں کے ذریعے نکالا گیا، آگ کی شدت اور دھوئیں کی وجہ سے اندرونی ریسکیو آپریشن انتہائی خطرناک تھا، انکوائری رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں اسپرنکلر سسٹم، ہائیڈرینٹ سسٹم اور فائر الارم سسٹم سمیت بنیادی فائر سیفٹی نظام موجود نہ ایمرجنسی انخلا کا کوئی واضح منصوبہ تھا، عمارت کے کئی فائر ایگزٹ بند یا تجاوزات کے باعث بند تھے، ہجوم، ٹریفک جام، سڑکوں کی بندش اور جاری تعمیراتی کام نے ریسکیو کارروائیوں کو متاثر کیا، رفاہی اداروں کی ایمبولینسوں اور دیگر گاڑیوں کے باعث فائر ٹینڈرز کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی، کمرشل عمارتوں میں فائر واٹر ریزروائر، ہائیڈرینٹ سسٹم اور خودکار اسپرنکلر سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی جائے، عمارتوں میں تربیت یافتہ عملہ اور ابتدائی آگ بجھانے کے آلات موجود ،ایمرجنسی گاڑیوں کے لئے رسائی کے راستے واضح اور کھلے رکھے جانے چا ہئیں،کراچی میں سال 2025 کے دوران آگ لگنے کے 1094 واقعات رپورٹ ہوئے، 2026 میں اب تک 84 واقعات سامنے آچکے ہیں ۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید