• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1988 کے امریکا ایران بحری تصادم کی تاریخ پھر دہرائی جا رہی ہے؟

آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے، جہاں تاریخ، طاقت اور حالیہ کشیدگی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی ہیں کہ ماضی کے واقعات آج کی صورتحال کو سمجھنے کی کنجی بن گئے ہیں۔ یہ آبی راستہ، جو خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے، عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے اور اس میں معمولی خلل بھی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز ہمیشہ سے کشیدگی کا مرکز رہی ہے، مگر 1988 کا واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اپریل 1988 میں امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس سموئیل بی رابرٹس ایک ایرانی بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا تھا، جس سے جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تقریباً تباہ ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے آپریشن پریئنگ مینٹس کے نام سے ایک بڑی بحری کارروائی شروع کی، جس میں ایرانی بحری تنصیبات اور جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور اسے ایران کے خلاف سب سے بڑی بحری کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس واقعے نے ایک اہم سبق دیا کہ بارودی سرنگیں صرف عسکری ہتھیار نہیں بلکہ ایک نفسیاتی ہتھیار بھی ہیں، جو عالمی تجارت کو بغیر مکمل جنگ کے بھی مفلوج کر سکتی ہیں۔ ایک سرنگ یا اس کی افواہ ہی جہازوں کے راستے بدلنے، انشورنس کے اخراجات بڑھانے اور عالمی منڈیوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

آج کی صورتحال میں یہی پرانا سبق دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری خطرات، ممکنہ بارودی سرنگوں، ڈرونز اور میزائلوں کے خدشات نے عالمی شپنگ کو غیر یقینی میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت سب سے بڑا خطرہ صرف حملہ نہیں بلکہ ’’خطرے کا امکان‘‘ ہے، جو تجارتی جہازوں اور انشورنس کمپنیوں کو فیصلہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ وہ جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا چاہتا ہے اور ایران کو عالمی تجارت کو یرغمال بنانے سے روک رہا ہے۔ اسی لیے امریکی بحریہ نے اس خطے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور ممکنہ طور پر بحری قافلوں کی حفاظت کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی حق اور خود مختاری کا دفاع کر رہا ہے اور امریکہ خطے میں اپنی طاقت مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر موجود ہے، جسے وہ دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

حالیہ عالمی ردعمل اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ یورپی ممالک محتاط ہیں اور کھلی فوجی حمایت سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بار 1988 جیسی واضح برتری حاصل نہیں، کیونکہ اب خطرات زیادہ پیچیدہ اور کثیر جہتی ہو چکے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بارودی سرنگوں کا خطرہ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا 1988 میں تھا، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث یہ مزید خطرناک ہو گیا ہے۔ امریکی بحری جہاز، چاہے جدید کیوں نہ ہوں، اب بھی اس خطرے کے سامنے مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھے جاتے۔

توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مہنگائی، مارکیٹ عدم استحکام اور عالمی معیشت پر پڑیں گے۔

موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تین ممکنہ منظرنامے سامنے آ رہے ہیں۔ پہلا، کشیدگی بڑھ کر ایک محدود یا مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دوسرا، عالمی دباؤ کے نتیجے میں سفارتی حل نکل سکتا ہے اور تیسرا، سب سے زیادہ ممکن ایک طویل غیر یقینی صورتحال ہے جہاں نہ مکمل جنگ ہو گی نہ مکمل امن، مگر خطرہ برقرار رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک آبی راستہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک امتحان بن چکی ہے۔ 1988 نے دنیا کو سکھایا تھا کہ سمندر میں جنگ صرف توپوں سے نہیں بلکہ اعتماد سے جیتی جاتی ہے۔ آج سوال وہی ہے، مگر حالات کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ کیا اس بار بھی طاقت فیصلہ کرے گی، یا آخرکار سفارت کاری ہی اس سمندر کو دوبارہ کھولے گی؟

بین الاقوامی خبریں سے مزید