وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پچھلے تین چار برسوں میں پاکستان سے تقریباً 100 ارب روپے باہر گئے، روشن اکاؤنٹ کے تحت باہر پڑا ہوا 20 یا 30 فیصد پیسا واپس لے آئیں، بجٹ سے پہلے دس ارب ہی واپس لے آئيں، یہ کوئی مشکل کام نہیں۔
کراچی میں فیڈریشن ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے تاجروں سے درخواست کی کہ وہ بجٹ سے پہلے اپنی رقوم لے کر آئیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان جو منافع دیتا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ملے گا، آپ کو کاروباری ماحول ملے گا، تاجروں کے ویزوں سے متعلق جلد تجاویز وزیراعظم کو پیش کریں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کو سنوارنا ہے، مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے، ایف آئی اے کے معاملات کو بزنس فرینڈلی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کوئی بات کرتے ہیں یا زبان دیتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک یا دو فیصد لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دے سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے تین چار سالوں میں 100 ارب پاکستان سے باہر گئے ہیں، پیسہ باہر کیسے گیا؟ اس پر بات نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پتہ نہیں لگایا جاسکتا تو کراچی میں ایک دو بندوں کو اٹھانے کی دیر ہے سارا کچھ پتہ چل جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ دبئی یا باہر پڑے ہوئے سارے واپس لے آئیں، روشن اکاؤنٹ کے تحت باہر پڑا ہوا 20 یا 30 فیصد پیسہ واپس لے آئیں۔ اگر آپ 20 یا 30 فیصد پیسہ پاکستان واپس لائیں گے تو وہ 10 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ منی چینجز صرف اس لیے رکھے ہیں کہ اپنے پیسوں کا بندوبست کرسکیں، کوئی سیاح آکر منی چینجر سے پیسے چینج نہیں کرواتا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بڑے گروپس کی ٹرانزیکشنز پکڑی ہیں، جن سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ہم نے وزیر خزانہ سے بھی میٹنگ کی ہے کہ آپ ان سے پوچھیں کہ یہ منی چینجز کیا کر رہے ہیں؟