• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عیدالفطر، اسلامی تہذیب میں محض ایک مذہبی تہوار نہیں، بلکہ انسان دوستی، سماجی ہم آہنگی اور باہمی ہم دردی کی علامت بھی ہے۔ رمضان المبارک کے ایک ماہ کی روحانی تربیت کے بعد عید دراصل اُس پیغام کو عملی جامہ پہنانے کا دن ہوتا ہے کہ’’معاشرے میں خوشی اور رحمت سب کے لیے ہے۔‘‘ 

اسلام کی تعلیمات میں زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور محتاجوں کی مدد پر زور دیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے کم زور اور محروم طبقات بھی خوشیوں میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ اگرچہ اکثر لوگ عید کو نئے کپڑوں، دعوتوں اور خاندانی اجتماعات کے ساتھ مناتے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں، جن کے لیے عید کا دن، عام دنوں سے مختلف نہیں ہوتا۔ 

یہ وہ لوگ ہیں، جو بیماری، تنہائی، غربت، سماجی مسائل یا قانونی مشکلات کے باعث معاشرتی خوشیوں سے دُور رہ جاتے ہیں۔ اسپتالوں میں زیرِ علاج مریض، یتیم خانوں کے بچّے، اولڈ ہومز میں مقیم بزرگ، پناہ گاہوں میں رہنے والی خواتین، خصوصی افراد/بچّے اور جیلوں میں قید مرد، خواتین اور نوعُمر قیدی، یہ سب ہمارے معاشرے کے وہ افراد ہیں، جو عید کے دن خصوصی توجّہ اور ہم دردی کے مستحق ہیں۔

ان کے علاوہ بھی بہت سے محروم طبقات ہیں، جیسے بے گھر افراد، مزدور طبقہ یا معاشی طور پر کم زور خاندان وغیرہ۔ ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ عید کے موقعے پر معاشرے کے مختلف طبقات کس طرح اِنہیں اپنی خوشیوں میں شامل کر سکتے ہیں کہ عید کی اصل رُوح تو یہی ہے کہ خوشیاں بانٹی جائیں۔ 

اگر معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد، سماجی فلاحی ادارے، این جی اوز، خاندان اور حکومت سب مل کر اِن طبقات کی طرف توجّہ دیں، تو عید کا پیغام حقیقی معنوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اُن افراد کے دِلوں میں اُمید پیدا کرتا ہے، بلکہ معاشرے میں اخوّت، اعتماد اور انسانیت کے جذبات بھی مضبوط بناتا ہے۔

عید اور اسپتالوں میں زیرِ علاج مریض… اُمید کی کرن کے منتظر

اسپتال وہ مقامات ہیں، جہاں انسان زندگی کے سب سے مشکل مراحل سے گزرتا ہے۔ عید کے دن جب پورا معاشرہ خوشیوں میں مگن ہوتا ہے، تو اسپتالوں میں بہت سے مریض بیماری، درد اور علاج کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اُن میں سے کئی ایسے ہوتے ہیں، جن کے اہلِ خانہ دُور دراز علاقوں میں رہتے ہیں یا مالی مشکلات کے باعث اُن کے پاس آنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں عید کا دن اُن کے لیے تنہائی اور اداسی کا باعث بن جاتا ہے۔ 

معاشرے کے افراد کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اسپتالوں کا رُخ کریں اور مریضوں کے ساتھ ہم دردی کا اظہار کریں۔ چند لمحے کسی مریض کے ساتھ بیٹھنا، اُسے عید کی مبارک باد دینا یا چھوٹا سا کوئی تحفہ دے دینا بھی اُس کے دل میں اُمید پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عمل صرف مریض ہی کے لیے نہیں، بلکہ اُس کے اہلِ خانہ کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیغام ہوتا ہے کہ معاشرہ اُن کے ساتھ کھڑا ہے۔

اس کے ساتھ، ہمیں اسپتالوں کے عملے کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف عید کے دن بھی اپنی ذمّے داریوں پر موجود ہوتے ہیں تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال میں کوئی کمی نہ آئے۔ اُن کی خدمات سراہنا اور اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرنا بھی معاشرتی اخلاقیات کا حصّہ ہونا چاہیے۔ 

سماجی، فلاحی تنظیمیں اسپتالوں میں عید کے موقعے پر کھانے کی تقسیم، ادویہ کی فراہمی اور مریضوں کے لیے خصوصی پروگرامز کا اہتمام کر سکتی ہیں تاکہ اُن کے لیے عید کا دن کسی حد تک خوش گوار بن سکے۔

یتیم خانوں میں مقیم بچّے، آپ کی شفقت ومحبّت کے حق دار

یتیم بچّے معاشرے کا نہایت حسّاس اور نازک طبقہ ہیں۔ والدین کی سرپرستی سے محروم ہونا کسی بھی بچّے کے لیے ایک بڑا اور جذباتی خلا پیدا کرتا ہے۔ عید جیسے تہوار پر جب عام بچّے اپنے خاندانوں کے ساتھ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں، تو یتیم بچّوں کو اپنے والدین کی کمی زیادہ شدّت سے محسوس ہو سکتی ہے۔ 

اِسی لیے عید کے دن یتیم خانوں کا دورہ کرنا اور بچّوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنا ایک نہایت اہم سماجی عمل ہے۔ اگر لوگ یتیم بچّوں کے لیے نئے کپڑے، کھلونے اور مٹھائیاں لے جائیں اور اُن کے ساتھ وقت گزاریں، تو یہ عمل اُن کے دِلوں میں خوشی اور اپنائیت کا احساس پیدا کرے گا۔

ایسے مواقع پر بچّوں کے لیے کھیلوں، تفریحی سرگرمیوں اور اجتماعی کھانوں کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ عید کے دن کو ایک یادگار تجربے کے طور پر محسوس کریں۔ خاندانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچّوں کو ساتھ لے کر یتیم خانوں کا دَورہ کریں۔

اِس طرح نئی نسل میں ہم دردی اور سماجی ذمّے داری کا شعور پیدا ہوگا۔ سماجی، فلاحی ادارے اور این جی اوز بھی اِس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور منظّم پروگرامز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بچّوں تک خوشیاں پہنچائی جاسکتی ہیں۔

اولڈ ہومز میں مقیم بزرگ، محبّت بھری نظروں کے منتظر

اولڈ ہومز میں رہنے والے اکثر بزرگ زندگی کے اُس مرحلے میں ہوتے ہیں، جہاں اُنہیں محبّت، احترام اور توجّہ کی دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بہت سے بزرگ مختلف وجوہ کی بنا پر اپنے خاندانوں سے دُور، اولڈ ہومز میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جب کہ عید جیسے مواقع پر اُن کی تنہائی کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔ اگر معاشرے کے لوگ اولڈ ہومز کا دورہ کریں اور بزرگوں کے ساتھ وقت گزاریں، تو یہ اُن کے لیے ایک بڑی خوشی کا سبب بن سکتا ہے۔

اُن کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا، اُن کی زندگی کے تجربات سننا اور اُنہیں تحائف دینا اُن کے دِلوں میں یہ احساس پیدا کرے گا کہ وہ اب بھی معاشرے کے لیے اہم ہیں۔ حکومت اور سماجی ادارے، اولڈ ہومز میں عید کے اجتماعات، ثقافتی سرگرمیوں اور اجتماعی کھانوں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ، نوجوان رضاکار بھی ان مراکز میں جا کر بزرگوں کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں۔ اِس طرح نہ صرف بزرگوں کی تنہائی کم ہوگی، بلکہ معاشرے میں نسلوں کے درمیان رابطہ بھی مضبوط ہوگا۔

خواتین کی پناہ گاہیں…تحفّظ اور اعتماد کی بحالی کے ساتھ

اِس طرح کی پناہ گاہیں یا شیلٹر ہومز اُن خواتین کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، جو گھریلو تشدّد، معاشی مشکلات یا دیگر سماجی مسائل کے باعث عارضی طور پر وہاں رہائش اختیار کرتی ہیں۔ اِن خواتین میں سے بہت سی ایسی بھی ہوتی ہیں، جو شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ سے گزر رہی ہوتی ہیں۔ عید کے موقعے پر اُنہیں خصوصی توجّہ اور حوصلہ افزائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

سماجی تنظیمیں اور رضاکار اگر شیلٹر ہومز میں عید کی تقریبات منعقد کریں، خواتین اور اُن کے بچّوں کو کپڑے اور تحائف دیں اور اُن کے ساتھ وقت گزاریں، تو یہ عمل اُن کے لیے اُمید کا پیغام بن سکتا ہے۔ اِس کے ساتھ، اُنہیں نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل سے متعلق مثبت سوچ پیدا کر سکیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اِن مراکز کی سہولتیں بہتر بنائے اور ایسے پروگرامز ترتیب دے، جو خواتین کی بحالی اور خودمختاری میں مددگار ثابت ہوں۔ عید کے موقعے پر خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام اِن خواتین میں ایک نیا حوصلہ پیدا کر سکتا ہے۔

خصوصی افراد کے ساتھ، عیدالفطر کی خوشیاں

اسپیشل یا خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد معاشرے کا نہایت حسّاس اور اکثر نظر انداز ہونے والا طبقہ ہے۔ کسی جسمانی معذوری کے شکار، جیسے وہیل چیئر استعمال کرنے والے، بصارت یا سماعت سے محروم یا دیگر جسمانی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد اپنی روزمرّہ زندگی میں بہت سی عملی رکاوٹوں سے گزرتے ہیں۔

اِسی طرح ذہنی معذوری یا خصوصی ضروریات رکھنے والے بچّے اور بالغ افراد، جن میں آٹزم، ڈاؤن سنڈروم یا دیگر ذہنی و نشوونمائی مسائل شامل ہیں، اپنے اہلِ خانہ کی مسلسل دیکھ بھال اور تربیت پر انحصار کرتے ہیں۔ عید کے موقعے پر جب معاشرہ خوشیوں، تقریبات اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف ہوتا ہے، تو یہ افراد اکثر ان سرگرمیوں میں شامل نہیں ہو پاتے اور ان کے لیے خوشیوں کا مکمل تجربہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ معاشرہ عید کو واقعی سب کے لیے قابلِ رسائی بنائے اور ان افراد کو اپنی خوشیوں میں شامل کرے۔ خاندانوں کو چاہیے کہ وہ ان خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کو عید کی تقریبات میں فعال طور پر شریک کریں، ان کی سہولت کا خیال رکھیں اور محبّت و توجہ فراہم کریں۔ 

سماجی فلاحی ادارے، این جی اوز، خصوصی تعلیمی مراکز اور بحالی کے ادارے ایسے بچّوں اور بالغ افراد کے لیے عید کی سادہ، مگر خوش گوار تقریبات کا انتظام کر سکتے ہیں، جہاں وہ بغیر کسی دباؤ کے شرکت کر سکیں، چھوٹے تحائف، کھلونوں اور تفریحی سرگرمیوں کے ذریعے خوشی کا تجربہ حاصل کریں۔

حکومت اور مقامی اداروں کو بھی چاہیے کہ عوامی مقامات، مساجد، تفریحی اور تعلیمی مراکز کو ان افراد کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنائیں تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ 

جب معاشرہ ان افراد کو عزّت، توجّہ، محبّت اور مواقع فراہم کرتا ہے، تو وہ خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے بلکہ اعتماد، اُمید اور سماجی شمولیت کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور یوں عید کا اصل پیغام’’ سب کے لیے خوشی اور شمولیت‘‘ حقیقی معنوں میں مکمل ہوتا ہے۔

قیدیوں میں خوشیوں کی تقسیم

جیلوں میں قید افراد معاشرے کا ایک ایسا طبقہ ہے، جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ اُن میں سے بہت سے افراد اصلاح اور نئی زندگی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ عید کے دن جب لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں، تو جیلوں میں قید افراد اپنے پیاروں سے دُور، ایک محدود ماحول میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

اِس تنہائی کا احساس مرد و خواتین اور نوعُمر قیدیوں سب کے لیے یک ساں طور پر مشکل ہوتا ہے۔ عید کے موقعے پر جیلوں میں خصوصی پروگرامز کا انعقاد قیدیوں کے حوصلے بڑھا سکتا ہے۔ مذہبی اجتماعات، اجتماعی نماز، بہتر کھانے کا انتظام اور اصلاحی سرگرمیاں قیدیوں کو یہ احساس دِلا سکتی ہیں کہ معاشرے نے اُنہیں مکمل طور پر فراموش نہیں کیا۔ 

سماجی فلاحی ادارے جیلوں میں جا کر قیدیوں کے ساتھ ملاقات کر کے عید کے تحائف دے سکتے اور اصلاحی پروگرامز میں تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔ خواتین قیدیوں کے حالات بعض اوقات زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں، کیوں کہ ان میں سے کئی خواتین اپنے بچّوں کے ساتھ جیل میں رہ رہی ہوتی ہیں۔ 

ایسے بچّوں کے لیے عید کی خوشیوں کا انتظام نہایت ضروری ہے تاکہ اُن کے ذہن میں منفی احساسات پیدا نہ ہوں۔ اِسی طرح نوعُمر قیدیوں کے لیے تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کا انعقاد بہت اہم ہے، کیوں کہ وہ معاشرے میں واپس جا کر ایک نئی زندگی شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں، تو وہ معاشرے کے مفید شہری بن سکتے ہیں۔

ہماری اجتماعی ذمّے داری اور سماجی شمولیت

محروم طبقات کی خوشیوں میں شمولیت صرف کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمّے داری نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمّے داری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق مدد فراہم کریں، جب کہ خاندان اپنے بچّوں کو سماجی خدمت کی طرف راغب کریں تاکہ نئی نسل میں ہم دردی اور انسان دوستی کا جذبہ پیدا ہو۔ 

سماجی، فلاحی تنظیمیں اور این جی اوز منظّم انداز میں پروگرامز ترتیب دے سکتی ہیں، جن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد تک پہنچا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے، وسائل فراہم کرے اور پالیسی سازی کے ذریعے سماجی شمولیت کو فروغ دے۔ 

عیدالفطر دراصل ایک ایسا موقع ہے، جو ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ خوشی کی اصل خُوب صُورتی اُسے بانٹنے میں ہے۔ جب ہم اسپتالوں کے مریضوں، یتیم بچّوں، بزرگوں، پناہ گاہوں میں رہنے والی خواتین، خصوصی افراد اور جیلوں میں قید افراد کو اپنی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں، تو نہ صرف اُن کی زندگیوں میں اُمید پیدا ہوتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی زیادہ مضبوط، ہم درد اور متحد ہوجاتا ہے۔ حقیقی عید وہی ہے، جس میں خوشی صرف اپنے گھر تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر اُس دل تک پہنچے، جو کسی نہ کسی محرومی کا شکار ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید