بھارتی اداکارہ رشی کھنہ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ کے اثرات سنیما پر پڑ سکتے ہیں، ایسے میں فلمیں پہلی ترجیح نہیں رہیں گی۔
35 سالہ رشی کھنہ جو زیادہ تر تیلگو، تامل اور ہندی فلموں میں کام کرتی ہیں، نے امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے سنیما پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔
ایک بھارتی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال جلد ختم نہ ہوئی تو لوگوں کے لیے فلمیں پہلی ترجیح نہیں رہیں گی۔
نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ نے اس تنازع کے ممکنہ معاشی اثرات پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی لوگوں کی روزمرہ زندگی اور ترجیحات کو متاثر کر سکتی ہے۔
رشی کھنہ نے فلمی صنعت کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ میں حال ہی میں ایک دوست سے فلموں کے مستقبل کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ ایسے میں اب ایک جنگ شروع ہو چکی ہے اور مجھے نہیں معلوم لوگ اس بات کو کس طرح محسوس کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ہمیں مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عالمی حالات مزید خراب ہوئے تو لوگ تفریح کے بجائے اپنی بنیادی ضروریات زندگی پر زیادہ توجہ دیں گے، جس کا اثر ممکنہ طور پر فلمی صنعت پر بھی پڑ سکتا ہے۔