• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کی لوکل اردو زبان میں ہم بہت سے ایسے الفاظ اور محاورے استعمال کرتے ہیں جو عام طور پر کسی لغت میں نہیں ملتے۔ ایک محاورہ جو ممبئی، پونا، سورت اور مہاراشٹرا کے چھوٹے بڑے شہروں میں آج بھی مروج ہے، وہ کچھ اس نوعیت کا ہے: فلم گلے پڑجانا۔ یعنی بغیر کسی کام کے آخری انجام کو خاطر میں لائے بغیر، یعنی اس ٹیڑھے کام سے کھلواڑ کرنے سے پہلے کام کے آخری وزن اور اہمیت کو نظر انداز کردینا۔ ایسا ٹیڑھا میڑھا کام آخر کار گلے میں پڑجاتا ہے۔ اور آپ بتدریج مصیبتوں میں گھِر جاتے ہو۔

میں نہیں جانتا کہ کس افلاطون نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کا مشورہ دیا تھا۔یاد رکھیں کہ امریکہ کے پاس افلاطونوں کی کمی نہیں ہے۔ وہ لگاتار صدر صاحب سے کانا پھوسی کرتے رہتے ہیں۔ وہ انکو طرح طرح کے مشورے دیتے رہتے ہیں۔ مشوروں پر عمل کرنے کے لئے ان کو تجاویز دیتے رہتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ، ایران پر حملے کی فلم اب امریکہ کے گلے میں پڑگئی ہے۔

بڑی مشکل سے گلے میں فلم پڑجانے والی بات میری سمجھ میں آئی ہے۔ فلمی صنعت کے ابتدائی دنوں میں فلم ایڈٹ کرنے کے دوران کچھ ایڈیٹر فلم سے نا پسندیدہ حصے نکالنے کے لئے فلم سے کچھ مناظر کاٹ کر ٹیبل یا ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے بجائے اپنے گلے میں ڈال دیتے تھے۔ ایڈیٹنگ کا کام ختم ہوجانے کے بعد فلم سے کاٹ کر نکالے ہوئے مناظر کے ٹوٹے گردن سے اتار کر ردی کی ٹوکری میں ڈالتے تھے۔ اکثر اوقات فلموں کے کٹے ہوئے ٹوٹے اس طرح آپس میں جڑ جاتے تھے کہ ان کو الگ کرنے کی سعی میں خود ایڈیٹر زخمی ہوجاتے تھے۔ فلم کے کنارے خنجر کی طرح تیز ہوتے ہیں۔اگر کبھی گردن کے گرد الجھ جائیں تو آپ کو مجروح کرسکتی ہیں۔ ایران پر حملہ اور ایران کو تہس نہس کرنے کی خواہش ٹرمپ کے گلے پڑگئی ہے۔ اس خواہش نے بہت سے راز فاش کردئیے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگ کچھ نہیں جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے۔ مگر تصدیق نہیں کرسکتے تھے۔ مخمصوں میں گھرے رہتے تھے۔ مگر ایران پر حملے کے بعد کوئی راز اب راز نہیں رہا۔

امریکہ نے مسلم دنیا کو دو حصوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ شیعہ، سنی کے درمیان تقسیم اب پرانی بات ہوچکی ہے۔جدید دور کی تقسیم دوسرے قسم کی ہے۔ ایک طرف عربی زبان بولنے اور سمجھنے والے ممالک ہیںاور دوسری جانب ایسے مسلم ممالک ہیں جو اپنے اپنے ممالک کی زمینی زبان بولتے ہیں جیسے ایران، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، ملیشیا وغیرہ، زبان کے علاوہ ان کا کلچر عرب ممالک سے قطعی مختلف ہے۔ ایران پر امریکی حملے نے ایسے ایسے رازوں سے پردہ اٹھایاہے، جسے سن کر ، دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان ہزاروں میل کی دوری ہے۔ آپ یہ سوچ کر شش و پنج میں مبتلا نہیں ہوتے کہ ہزاروں میل کی دوری سے امریکہ کیسے ایران پر حملہ کرسکتا ہے؟ یہ سوال ہر اس ملک میں پوچھا جارہا ہے جو دنیا پر امریکہ کی اجارہ داری قبول نہیں کرتا۔ امریکہ چھوٹے موٹے سوالوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ جو وہ کرنا چاہتے ہیںکرگزرتے ہیں۔ ان کا خاصہ ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی حکومتوں کو گرواتے ہیں۔ اور اپنی پسند کے حکمرانوں کوا س ملک پر تھوپ دیتے ہیں ۔ ضرورت پڑنے پر وہ فوجی کارر وائی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ طاقت کا نشہ سر پر سوار ہوکر بولتا ہے۔

قطعی ممکن نہیں کہ ہزاروں میل کی اڑان یا پرواز کے بعد امریکہ کے جنگی جہاز دن رات میں دسیوں مرتبہ ایران پر بمباری کرتے رہیں۔ تکنیکی معاملوں میں فقیر کی سوچ سمجھ ناقص ہے۔ مگر پھر بھی میں سوچتا ہوں کہ بموں سے لدے ہوئے امریکی جنگی جہاز امریکہ سے پرواز کرنے کے بعد سیدھے آکر ایران پر بموں کی بارش کرنے کے بعد لوٹ جاتے ہونگے۔ ان کو جہاز میں پیٹرول بھروانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہوگی۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ تیز ترین جہاز بھی بارہ گھنٹوں کی پرواز سے پہلے امریکہ سے ایران نہیں پہنچ سکتے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران کے اطراف ہمسایہ ممالک سے امریکہ کے جنگی جہاز پرواز کرتے ہونگے اور ایران پر بم برسا کر لوٹ جاتے ہوں گے۔

راز سے پردہ اٹھا کہ عربی بولنے والے مسلم ممالک نے امریکہ کو اپنے ممالک میں  فوجی اڈے بنانے اور سنبھالنے کی اصولی اجازت دے رکھی ہے۔ کوئی وجہ تو ہے کہ ایران نے عربی بولنے والے مسلم ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو باربار نشانہ بنایا اور ان کو نقصان پہنچایا۔

آپ گھومنے پھرنے اور عیاشی کرنے کے لئے اکثر دبئی جاتے ہوں گے۔ کیا آپ کو پتہ تھا کہ عرب امارات میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں ؟ اگر اڈے نہیں ہیں تو پھر ایران نے عرب امارات پر حملہ کیوں کیا تھا؟ راز سے پردہ اُٹھ چکا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ نے عرب ممالک میں قائم اپنے اڈوں سے حملے کیے تھے اور اب تک لگاتار حملے کررہا ہے۔

یہ اچھنبے کی بات نہیں ہے کہ مسلم تاریخ گواہ ہے کہ بہت بڑی اور خونخوار جنگیں مسلمان ممالک نے آپس میں لڑی ہیں۔ جس طرح مسلمانوں نے ان خونخوار جنگوں  میں ایک دوسرے کو مارا ہے، اتنی بڑی تعداد میں وہ صلیبی جنگوں میں کبھی نہیں مارے گئے تھے۔ آپ جانتے ہیں ہمارے حکمرانوں نے اپنے ہیروز کا کیا حشر کیا تھا؟ خالد بن ولید کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ طارق بن زیاد کا نام بھی آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ جس نے آپ کو اسپین فتح کرکے دیا تھا۔ موسیٰ بن نصیر جس نے آپ کو افریقہ فتح کر کے دیا تھا۔ کیاسلوک کیا تھا حکمرانوں نے ان کے ساتھ؟ مسلم ہسٹری پڑھ کر دیکھیں۔مجھے سن کر قطعی تعجب نہیں ہوا کہ امریکہ نے ہزاروں میل دور سے ایران پر حملہ نہیں کیا تھا اور کیا ہے۔ ہمارے اپنے مسلمان ملکوں نے امریکہ کو جنگ و جدل کے لیے اپنے ہاں اڈے بنانے دیے ہیں وہیں سے ایران پر بمباری ہورہی ہے۔

تازہ ترین