تیل کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے نے پاکستانیوں کو پوری طرح احساس دِلا دیا کہ ایران جنگ کا مشرقِ وسطیٰ تک پھیلاؤ کس قدر گمبھیر اثرات کا حامل ہوسکتا ہے۔ جنگ کو ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55روپے اضافہ کر دیا۔
دوسری طرف خبر آئی کہ قطر نے ایل این جی کی سپلائی بھی معطّل کردی۔ یہ دونوں خبریں عوام اور کاروبار پر بجلی بن کر گریں۔ سوائے چند ہزار گنے چُنے دولت مند افراد کے، ہر شخص اپنا اپنا رونا رو رہا ہے۔ وہ ممالک جو ایسی آزمائشوں کی پیش بندی نہیں کرتے، صرف بیانات دے کر سو جاتے ہیں، اُنھیں کیا خمیازہ بُھگتنا پڑتا ہے، ہم اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ اِس صُورتِ حال سے صرف پاکستان ہی متاثر نہیں ہوا۔
چین بھی، جو ہمارا قریبی دوست اور دنیا کا دوسرا طاقت وَر مُلک ہے، شدید منفی اثرات کی لپیٹ میں ہے، بس فرق اِتنا ہے کہ چین جیسے ممالک حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے پہلے ہی سے اقدامات کر کے رکھتے ہیں۔ امریکا اور یورپ پر اِس کے اثرات بہت کم ہوں گے، کیوں کہ اُن کا مشرقِ وسطیٰ کی توانائی پر بہت کم انحصار ہے۔ امریکا دنیا کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے، اِس لیے اُس پر بھی شاید ہی کوئی اثر پڑے۔ اس کی اکانومی میں اِتنی وسعت ہے کہ ہزار، دو ہزار ارب ڈالرز کے نقصان سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اُس کا اصل معاملہ رائے عامّہ ہے، جس سے حکومت ڈرتی ہے۔
جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھارت، بنگلا دیش اور نیپال بھی اس کی زد میں آئے، لیکن فوری نہیں، بلکہ اُن پر لانگ ٹرم اثرات مرتّب ہوں گے، خاص طور پر منہگائی کی شکل میں۔ عالمی معیشت کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا کہ صرف چھے سال میں اسے تیسری بڑی آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے، پہلے کورونا، پھر یوکرین جنگ اور اب ایران پر امریکا اور اسرائیل کا حملہ، جو مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔
اگر یہ جنگ اِسی طرح مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھتی ہے، جیسے یہ سطور قلم بند کرتے وقت تک میدانِ جنگ گرم ہے، تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ اِس ضمن میں یہ ذہن نشین رہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی کُل سپلائی کا20فی صد گزرتا ہے۔
اکثر تجزیوں میں کہا جارہا تھا کہ آبنائے ہرمز مکمل طورپر بند ہوجائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا، کیوں کہ کوئی بھی آبی گزرگاہ بند کرنے کے لیے سمندر میں مخصوص سی مائنز نصب کرنی ہوتی ہیں اور تادمِ تحریر ایران ایسا نہیں کر پایا کہ امریکا نے اپنا بحری بیڑہ پہلے ہی خلیجِ اومان اور خلیجِ عرب میں لاکھڑا کیا تھا۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ایران کو اندازہ ہو کہ اِس اقدام کے منفی اثرات اُس کی معیشت پر بھی مرتّب ہوں گے اور اس کی درآمدات، برآمدات کا راستہ بند ہوجائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی کہ اگر کوئی جہاز اِس آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ اُس کے حملوں کا نشانہ بنے گا۔ اِسی خوف کی وجہ سے خاصی تعداد میں جہاز اور ٹینکرز اِس آبنائے میں پھنس کر رہ گئے۔ اِس صُورتِ حال کا سب سے زیادہ اثر قطر کی ایل این جی سپلائی پر ہوا۔ اِس کی ایک وجہ تو آبنائے ہرمز کی بندش تھی، تو دوسری طرف قطر کے امریکی اڈّوں اور سویلین اہداف پر ایران کے مسلسل حملوں نے ایل این جی کی نقل و حمل محدود کی۔ جنگ کے ابتدائی چار دنوں میں ایرانی حملوں کی شدّت بہت زیادہ تھی، جس کا مقصد غالباً یہی تھا کہ قطر خوف زدہ ہوکر ایل این جی سپلائی معطّل کردے۔
جہاں تک سعودی عرب کے تیل کا تعلق ہے، تو اُس کے لیے اُس نے متبادل ریڈ سی کے راستے اختیار کر لیے، جس سے تیل سپلائی کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کا تیل اور توانائی کے لیے تمام تر انحصار عرب ممالک پر ہے، تو ظاہر ہے، کسی بھی قسم کی رکاوٹ یہاں قیمتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ تاہم، یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب سے مؤخر قیمتوں پر تیل لیتا ہے۔
ہماری حکومت نے جنگ کے پہلے ہی دن اعلان کردیا تھا کہ اس کے پاس 25 سے30 روز کے تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں اور کسی افراتفری یا گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ لیکن جنگ کی صُورت میں جو مزید پیش بندی کرنی ہوتی ہے، حکومت نے اُس طرف بالکل توجّہ نہیں دی۔ نتیجتاً جب تیل کی قیمتیں عوام کے تصوّر سے بھی زیادہ بڑھ گئیں، تب حکومت کو ہوش آیا۔ پھر جمعے کی اضافی چُھٹی، ورک فرام ہوم اور آن لائن کلاسز جیسے فیصلے کیے۔
یہ سب پہلے ہی کردیا جاتا، تو عوام کو پریشانی سے بچایا جاسکتا تھا۔ جنگ سے قبل وزیرِ اعظم اور ڈپٹی وزیرِ اعظم مسلسل عرب ممالک کے دوروں پر جاتے رہے، اِسی طرح وہ پیس بورڈ کی میٹنگ کے لیے امریکا بھی گئے، تو اِن مواقع پر ممکنہ جنگ سے پیدا شدہ صُورتِ حال پر بات کی جاسکتی تھی، جو بظاہر نہیں کی گئی۔ دوسرے ممالک کے درمیان ثالثی اچھی بات ہے، لیکن خُود اپنے مُلک کے عوام پر جو گزرنے والی تھی، اُس کی بھی فکر کی جانی چاہیے تھی۔
بھارت ہی کو دیکھ لیں، جس نے امریکا سے فوراً روسی تیل لینے کی اجازت حاصل کر لی۔ ہم نے امریکا یا دیگر ممالک سے کیا رعایتیں حاصل کیں، یہ بھی عوام کو بتانا ضروری ہے۔ حکومتی معاشی ٹیم پر یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وہ قیمتوں میں اضافے کی خوش خبریاں تو سُنا دیتی ہے، یہ بھی بتا دیتی ہے کہ آئی ایم ایف کا کیا دباؤ ہے، لیکن مسائل کے حل کے لیے کیا پیش بندی کی، اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔
حکومت کا یہ کہنا کہ’’مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں‘‘ کافی نہیں، سوال یہ ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کیا کیا؟ واضح رہے، پاکستان کی درآمدات کا زیادہ حصّہ تیل اور ایل این جی ہی پر مشتمل ہے۔ ہم تقریباً پندرہ ارب روپے کا تیل امپورٹ کرتے ہیں۔ تقریباً80 فی صد درآمدی پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ کے استعمال میں آتا ہے، جب کہ ایل این جی گھریلو صارفین اور صنعتوں کو فراہم کی جاتی ہے۔
اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان پر دباؤ آتا ہے اور پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ اِس کی ایک بنیادی وجہ تو یہی ہے کہ ہمارا تمام تر انحصار مشرقِ وسطیٰ پر ہے، تو دوسری طرف، ہم نے لائف اسٹائل بھی ایسا اپنایا ہوا ہے، جسے دیکھ کر امیر ممالک کی حکومتیں اور عوام بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔
تقاریب میں فضول خرچیاں، بڑی گاڑیوں میں گھومنا پِھرنا اور سال کے بارہ مہینے ہوٹلوں پر کھانے تو ہم کورونا جیسی عالمی وبا میں بھی چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ اعلیٰ حکّام چالیس، چالیس گاڑیوں کے جھرمٹ میں سفر کرتے ہیں، گویا گاڑیوں کی بارات ہے۔ ہر محکمے کے افسران کو مفت پیٹرول، گاڑیاں دی گئی ہیں، جب کہ عام آدمی کو کہا جاتا ہے کہ الیکٹرک بائیک استعمال اور بسز میں سفر کریں۔
ہمارے ہاں گھروں کے باہر بڑی گاڑیاں اِتنی بڑی تعداد میں کھڑی ہیں کہ یقین نہیں آتا، یہ کوئی غریب مُلک ہے، جس کے عوام اور حکومت غیر مُلکی قرضوں اور تارکینِ وطن کے زرِ مبادلہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ وزیرِ خزانہ عوام کو آئی ایم ایف کے نام پر مزید ٹیکس لگانے کی’’دھمکیاں‘‘ دیتے رہتے ہیں، لیکن کبھی اپنے افسران سے نہیں کہتے کہ ذرا محلّوں میں جاکر یہ تو معلوم کرو کہ بڑی گاڑیوں اور گھروں والے کتنا ٹیکس دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں ماس ٹرانزٹ کا کوئی تصوّر ہی نہیں اور کوئی ایک قدم بھی پیدل چلنے کو تیار نہیں۔ شہری حکومتوں کی نااہلی کا یہ حال ہے کہ کراچی جیسے شہر میں فٹ پاتھ نام کی کوئی چیز نہیں بچی۔ بڑے شہروں میں لاکھوں گاڑیاں ہر وقت ٹریفک جام رکھتی ہیں، لیکن حکومت اور عوام کو صرف اُس وقت ہوش آتا ہے، جب اُن کا پالا حالیہ آزمائش جیسی صُورتِ حال سے پڑتا ہے۔ ایسے موقعے پر بھی قوم ہی سے قربانی کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کئی برس سے کہا جا رہا ہے کہ بازاروں کے کُھلنے، بند کرنے کے اوقات طے کیے جانے چاہئیں، لیکن حکومت اسے نافذ کرنے میں کام یاب ہوتی ہے اور نہ ہی دُکان دار تعاون پر آمادہ ہیں۔ بس چند سرپھرے اِس کی طرف توجّہ دلاتے رہتے ہیں، جن کی کوئی نہیں سُنتا۔ ٹھیک ہے، مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کا تعطّل ایک عالمی یا پورے خطّے کا مسئلہ ہے، لیکن بحیثیتِ قوم ہماری بھی تو کچھ ذمّے داریاں ہیں، جنہیں پورا کرنے میں ہم مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔
ہمارا رہن سہن کا طریقہ’’ ہا ہو‘‘ سے آگے نہیں بڑھتا، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ایوانوں میں بیٹھے نمائندے کبھی سائیکل یا الیکٹرک بائیک پر اسمبلی نہیں آئے۔ اُنہیں غربت کا پتا ہی نہیں اور نہ ہی تن خواہ دار طبقے کی تکالیف کا احساس ہے۔ وہ اسمبلی میں جذباتی تقاریر کرکے کہتے ہوں گے،’’ دیکھا…اِس بے وقوف، نادان قوم کو کیسے مزید احمق بنادیا۔‘‘ ذاتی سیکیوریٹی کے نام پر جو عیاشی ان کے منہ کو لگ گئی ہے، اُس نے قوم کو اِس حال تک پہنچا دیا ہے کہ ہر عالمی مشکل ہمارے لیے بم دھماکا بن جاتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اپنی جگہ، لیکن یہاں پاکستان میں عوام پر جو گزرے گی، وہ چیخیں نکلنے کے مترادف ہے۔ غریب پِس جائے گا، جب کہ مِڈل کلاس اور تن خواہ دار طبقہ، جو پہلے ہی حکومت کے ٹیکس، بجلی اور گیس کے بھاری بلز کے نیچے دَبا ہوا ہے، مزید ٹیکسز کی بوجھ تلے آجائے گا۔ ایسے میں اُن سہانے خوابوں کا کیا ہوگا، جو حکومت گزشتہ ایک سال سے معیشت کے استحکام سے متعلق دِکھاتی رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں یہ بحران پہلی مرتبہ نہیں آیا۔1974 ء میں چوتھی عرب، اسرائیل جنگ کے بعد سعودی عرب نے تیل کی درآمد روک دی تھی۔ شاہ فیصل کی یہ ڈپلومیسی تاریخ کا ایک حصّہ ہے۔ اُس وقت صُورتِ حال یہ تھی کہ امریکا، مغربی دنیا، چین اور روس سب ہی مکمل طور پر اِسی خطّے سے آنے والے تیل پر انحصار کرتے تھے۔ جاپان جیسے مُلک کی، جو اُس وقت دنیا کی دوسری بڑی اکانومی تھی، تمام برآمدای مصنوعات اور ترقّی اِسی تیل کے رحم وکرم پر تھیں۔
شاہ فیصل کی اِس پالیسی سے ساری دنیا ہل کر رہ گئی۔ یورپ کے لوگ اُس سال کی سردیوں میں اپنے گھر گرم کرنے میں ناکام رہے اور اُنھیں کمبلوں میں گزارا کرنا پڑا۔ شاہ فیصل کا یہ’’ آئل ایمبارگو‘‘ دنیا کی توانائی پالیسی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ حکومتیں اور سائنس دان سر جوڑ کر بیٹھے اور اس کا حل نکالنے کی طرف توجّہ دی۔
پھر دس سال ہی میں فاسل فیول کا متبادل، سولر ونڈ انرجی کی شکل میں سامنے آگیا۔ اِن ممالک نے اپنے تیل کے ذرائع پر خصوصی توجّہ دی۔ پہلے یورپ نے مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار کم کیا۔ روس اور وسط ایشیائی ممالک متبادل بن کر سامنے آئے۔ پھر امریکا میں تیل نکل آیا اور یہ شیل آئل، دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے مُلک سعودی عرب کے برابر تھا۔ یہ کوئی سازش نہیں تھی، بلکہ ان ممالک کے سائنس دانوں اور عوام کا مشترکہ عزم تھا کہ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 60لاکھ پاکستانی ملازمت کرتے ہیں، جس سے مُلک کو سالانہ چالیس ارب ڈالرز کا زرِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ گویا، اُن کے بھیجے ہوئے ریال ہماری معیشت کا سب سے بڑا سہارا ہیں۔ برطانیہ، امریکا اور یورپ میں رہنے والے پاکستانی تو وہاں بمشکل گزارہ کرتے ہیں۔ وہ شہریت لے کر وہیں سیٹل ہوچُکے ہیں اور اُن کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں، خواہ وہ چھوٹی سی دُکان اور گھر خریدنے ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو، اُن کی کوئی خاص دل چسپی نہیں رہی۔
وہ بس چُھٹیاں گزارنے، رشتے داروں سے ملنے یا تقاریب میں شرکت کے لیے یہاں آتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مُلکی زرِ مبادلہ کو سہارا مِڈل ایسٹ میں کام کرنے والے پاکستانی دیتے ہیں۔ کئی عرب ممالک میں تو اِن کی تعداد وہاں کے اصل باشندوں سے بھی زیادہ ہے، جیسے قطر یا دبئی۔ اب اگر دبئی، قطر ریاض، کویت یا بحرین میں میزائل گرتے ہیں، تو اِس کے اثرات تارکینِ وطن پر بھی مرتّب ہوں گے۔
اگر اِن ریاستوں کی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ وہاں ملازمت کرنے والوں کا کیا ہوگا۔ اگر ان ممالک میں کاروبار ٹھپ ہوتا ہے، منہگائی بڑھتی ہے، تو کیا یہ تارکینِ وطن اِس پوزیشن میں ہوں گے کہ پاکستان پیسے بھیجتے رہیں۔
پھر یہ بھی کہ اگر عرب ممالک کی معیشتیں دباؤ میں آتی ہیں، تو وہ اپنا سرمایہ پاکستان کو قرض کے طور پر دینے کی بجائے امریکا، چین یا بھارت جیسے ممالک میں لگانا پسند کریں گے، جن کی معیشتیں مضبوط ہیں اور جنہیں اس جنگ کے معروضی یا جذباتی اثرات کا بھی سامنا نہیں۔ ہمارے عوام، حکُم رانوں اور اہلِ دانش کے سامنے مستقبل کا یہ نقشہ ضرور رہنا چاہیے۔