• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیل کا جھٹکا پہلا مرحلہ، اصل بحران ابھی سامنے آنا ہے، بلال بن ثاقب

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران تیل سے آگے بڑھ کر عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہا ہے، تیل کا جھٹکا پہلا مرحلہ ہے، اصل بحران ابھی سامنے آنا ہے۔

ایک بیان میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ کھاد، سلفر اور پیٹرو کیمیکل تجارت میں رکاوٹ سے صنعتوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی پولی ایتھیلین ترسیل متاثر ہونے سے پلاسٹک، ربڑ اور الیکٹرونکس صنعتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر تو بنالیے مگر کھاد اور ادویاتی خام مال کے لیے کوئی نظام موجود نہیں، مسلسل بحرانوں کا مرکز یہی چوک پوائنٹ ہے، جس کے لیے دنیا نے کبھی تیاری نہیں کی۔

بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ خفیہ سپلائی چین میں شامل اہم خام مال کی بندش عالمی غذائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، خلیجی ممالک یوریا تجارت کے نصف حصے کے ذمے دار ہیں، سپلائی رکی تو فصلیں شدید متاثر ہوں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ چین کی فاسفیٹ برآمدات محدود ہونے سے زرعی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے، یوریا کی قیمتیں شدید بڑھ گئیں جبکہ دنیا بھرمیں بوائی کے اہم سیزن جاری ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے یہ بھی کہا کہ جنوبی ایشیا کے خریف سیزن میں کھاد نہ پہنچی تو خطے کی فصلیں بڑے بحران کا سامنا کریں گی، ادویات کی تیاری پیٹرو کیمیکل خام مال پر منحصر ہے، ترسیل رکی تو دنیا بھرمیں قلت پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تعطل برقرار رہا تو 4 سے 6 ہفتوں میں متعدد بنیادی ادویات عالمی منڈی سے غائب ہو سکتی ہیں، دنیا کے پاس کھاد، ادویاتی خام مال اور ہیلیم کے لیے کوئی ہنگامی عالمی ڈھانچہ موجود نہیں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ قطر دنیا کی ایک تہائی ہیلیم پیدا کرتا ہے، ترسیل رکی تو ذخیرہ محض 45 دن چلے گا، ہیلیم کا کوئی متبادل نہ ہونے کے باعث ایم آر آئی، چِپ اور ایرو اسپیس شعبے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2021ء میں سری لنکا کی کھاد پابندی نے چاول کی پیداوار ایک تہائی تک کم کردی تھی، ہرمز کا موجودہ بحران درجنوں ایشیائی معیشتوں کے لیے سری لنکا جیسے بحران کا خطرہ بڑھا رہا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ سعودی پائپ لائن صرف تیل منتقل کرتی ہے، امونیا اور صنعتی گیسوں کےلیے کوئی متبادل نہیں بنایا گیا، خوراک، صحت اور جدید ٹیکنالوجی کا بنیادی خام مال ہرمزکے تعطل سے تباہ کن دباؤ کا شکارہے۔

ان کا کہنا تھا کہ درآمدات پر منحصر معیشتوں کےلیے تیل کا جھٹکا پہلا مرحلہ ہے، اصل بحران ابھی سامنے آنا ہے، کھاد اور ادویات کی قلت کا طوفان توانائی بحران سے کہیں زیادہ شدید ثابت ہوگا۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں مستحکم ہوسکتی ہیں مگر فصلوں کا کیلنڈر کسی کے انتظار کا پابند نہیں ہوتا، عالمی پالیسی سازوں کو شور سے ہٹ کر دیکھنا ہوگا کہ بحران کا اگلا دھماکہ کس سمت ہوگا، ہرمز کا تعطل طویل ہوا تو خوراک، ادویات اور ٹیکنالوجی کی عالمی قیمتیں نئے ریکارڈ بناسکتی ہیں۔

قومی خبریں سے مزید