• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر ٹرمپ نے جس طرح کانگریس کی منظوری کے بغیر متضاد اور مضحکہ خیز وجوہات کی بنا پر جس جنگ کا آغاز کیا ہے وہ تیزی کے ساتھ خلیجِ فارس کے تقریبا تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ موجودہ منظر نامے سے ایسے لگ رہا ہے کہ ایران نے بھی طویل جنگ کی تیاری کر لی ہے، اسی تیاری کے پیش منظر اس نے پہلے خطے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا اور پھر اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر میزائلوں سے حملہ آور ہوا۔ یاد رہے کہ ایران کا رقبہ جرمنی، اسپین اور برطانیہ کے مجموعی رقبے سے زیادہ ہے جس میں بڑے بڑے پہاڑی سلسلے ایران کو کم از کم زمینی حملوں سے کافی حد تک تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

ایران نے امریکہ -عراق2003ء کی جنگ کا بہت غور سے مشاہدہ کیا ہے اور اس سے یہ سبق حاصل کیا کہ کس طرح امریکہ نے فضائی برتری کے باعث چند ہفتوں میں ہی عراق کی فوجی تنصیبات، ہوائی اڈے، ریڈار اور میزائل سسٹم تقریبا تباہ کر کے رکھ دئیے۔لہٰذا اس نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کھلی جنگ میں مقابلہ نہیں کر سکے گا بہتر حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنی بڑی فوجی صلاحیتوں اور اسلحہ بنانے کی فیکٹریوں کو زیرزمین منتقل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق ایران کا میزائل لانچنگ سسٹم پہاڑوں کے اندر سینکڑوں میٹر گہرے سرنگی نظام میں پوشیدہ ہے اور ایران ان سرنگوں کی بدولت نہ صرف خفیہ راستوں سے میزائل چلا سکتا ہے بلکہ میزائل اور ڈرون کی تیاریاں بھی زیرزمین ہی کر سکتا ہے۔موجودہ جنگ ایران کی بقا کی جنگ ہے اور اگر وہ اسرائیلی اور امریکی بمباری کے باوجود اپنا وجود قائم رکھتا ہے تو اسے فتح ہی گردانا چاہیے۔ یا د رہے کہ ایران کے لوگ بہت فخر اور قومی یکجہتی سے شہادت کو اپنے سماج میں خاص اہمیت دیتے ہیں اس لیے سپریم لیڈر کی موت نے بھی ایرانی قوم کو مزید یکجا کر دیا ہے۔

امریکہ نے اگرچہ تقریبا اڑھائی ہزارکے قریب مرین فورس مشرق وسطیٰ بھیج دی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے گرد پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے زمینی کارروائی کے لیے یہ تعداد بہت کم ہے۔ صدر ٹرمپ کی آبنائے ہرمزکو ہر قیمت پر کھولنے کی دھمکی دینے اور یورپی ممالک سے اس سلسلے میں مدد کی اپیل کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہر مز کو بارودی سرنگوں اور زیرزمین چھوٹی آبدوزوں سے مستقل بند کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران ایسا کر گزرتا ہے تو اس کے بعد آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی عالمی سپلائی بحال کرانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران ایک پختہ حکمت عملی کے تحت اس جنگ کو ہر صورت طول دینا چاہتا ہے اور آبنائے ہرمز بند کر کے اس بحران کے خاتمے کے لیے امریکہ اور اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ ایران کے مقابلے میں امریکہ کی حکمت عملی بالکل واضح نہیں ہے، وہ کبھی ایرانی رجیم کے خاتمے تو کبھی بیلسٹک میزائلوں کی تباہ کاری اور کبھی ایران کی دو ہفتوں کے اندر جوہری ہتھیار بنانے کا جواز پیش کرتا رہا ہے۔لیکن ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس جنگ کا اصل مقصد مشرق وسطیٰ کے ممالک پر اسرائیلی تسلط قائم کرنا، چین کے ابھار کو روکنا اور ملٹری انڈسٹرئل کمپلیکس کے مفادات کے تحت چلنے والی امریکی خارجہ پالیسی کو امریکی عالمی تسلط قائم رکھنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر غیر قانونی جارحیت کے خلاف عالمی پیمانے پر یورپی ممالک سے کوئی آواز نہیں اٹھی۔ یورپ میں صرف اسپین ہی قابل تحسین ہے جس نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ابتدا میں برطانیہ نے بھی اپنے فوجی اڈے دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن پھر جلد ہی ان اڈوں کو ”دفاعی مقاصد“ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ گوکہ امریکہ کو اب تک اس جنگ میں فوجی برتری ضرور حاصل ہے لیکن اگر یہ جنگ طویل ہو گئی جو کہ ایران کی حکمت عملی بھی ہے تو اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ کوئی بھی فریق مکمل طور پر اس جنگ کا فاتح نہیں ہوگا۔

امریکہ، اسرائیل، ایران اور خلیجی ممالک کو اس جنگ سے شدید نقصانات کا سامنا کرنا ہو گا۔جنگ مزید طویل ہوئی تو تیل کی سپلائی ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر لے گی جس سے خلیج میں امریکی اتحادیوں کی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ وہ امریکی اڈوں کی بحالی اور امریکی معیشت میں اپنی انویسٹمنٹ کا دوبارہ سے جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی اپنے تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیر اور فوجی نقصانات کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکہ جسے اپنے عالمی سامراجیت و بالادستی کی بدولت ناقابل شکست طاقت کا تصور حاصل ہے، ہو سکتا ہے یہ جنگ اس تاثر کے خاتمے کا آغاز ہو جس سے نہ صرف امریکی معیشت، پیٹرو ڈالر اور امریکی ریزو کرنسی کے نظام کے خاتمے کی علامتیں ابھر سکتی ہیں بلکہ دنیا ایک ملٹی پولر نظام میں بدل سکتی ہے۔ پچھلی جنگوں کے مقابلے میں امریکہ میں اس جنگ کو کم عوامی حمایت حاصل ہے، یوں ڈیموکریٹک پارٹی بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کو بھی مڈٹرم انتخابات میں ایک مسئلہ بنا کر کھڑا کر سکتی ہے۔

تازہ ترین