پاکستان مخالف متنازع فلم دھریندر 2 بھارت میں ہی تنازعات کا شکار ہوگئی۔ فلم کے ایک منظر میں سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پر فلم ساز اور اداکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ممبئی کے ملند پولیس اسٹیشن میں فلم کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت گرجوت سنگھ کِیر نے درج کروائی ہے جو شیو سینا (شندے دھڑا) اور ’سکھس ان مہاراشٹرا‘ تنظیم کے صدر ہیں۔
شکایت میں اداکار آر مادھون، رنویر سنگھ اور ہدایت کار ادتیہ دھر کو اس توہین آمیز منظر کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
گربانی کی توہین
گرجوت سنگھ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا, ’میں دھریندر 2 کے بنانے والوں کی جانب سے گربانی کی کھلی توہین کی سخت مذمت کرتا ہوں۔
اس نے مزید کہا کہ ایک کردار کو سگریٹ پیتے ہوئے اور مقدس گربانی پڑھتے دکھانا ناقابلِ قبول ہے۔ گربانی محض مکالمہ نہیں بلکہ مقدس کلام ہے، جسے اس طرح پیش کرنا جہالت اور بےحسی کی انتہا ہے۔
انہوں نے پوری سکھ برادری سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر پُرامن احتجاج کریں اور یہ احتجاج فلم سازوں اور اداکاروں کی جانب سے معافی مانگنے تک جاری رکھیں۔
تاریخی پس منظر
گرجوت نے وضاحت کی کہ مذکورہ گربانی گرو گوبند سنگھ نے اورنگزیب کے دور میں لکھی تھی، اس لیے اس کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔ فلم سازوں نے نہ صرف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی بلکہ تاریخ اور عقیدت کی بھی توہین کی ہے۔
سکھ برادری کا موقف
سکھ برادری نے واضح کیا ہے کہ یہ تخلیق نہیں بلکہ کھلی بے ادبی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلم ساز ادتیہ دھر، رنویر سنگھ اور آر مادھون فوری طور پر معافی مانگیں، ورنہ سکھ قوم اپنی تاریخ کے مطابق سخت ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔