پاکستان اس وقت نازک صورتحال کا شکار ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت کے پہلے 23 مہینوں کے دوران قرضوں میں 14ہزار 512ارب روپے کا خطرناک اضافہ ہوا ہے جومارچ 2024 سے جنوری 2026 کے عرصے میں کیا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت نے قرضوں کے پہاڑ کھڑے کر دیئے ہیں اور ہر پاکستانی تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے، جوانتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کروائے، مہنگائی پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کرے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ اگر عوامی مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے وطن عزیز پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ارباب اقتدار کی غلط پالیسیوںکے باعث ملک مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف قومی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے بلکہ ترقی اور خوشحالی کے امکانات بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
اس وقت حکومت ملک کو چلانے کیلئے اندرونی و بیرونی قرضوں پر انحصار کر رہی ہے، جو کسی بھی صورت دیرپا حل نہیں ۔ بیرونی قرضے لے کر معیشت کو سہارا دینا وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے، مگر اس سے عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری نہیں آ سکتی۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اس وقت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جبکہ ہمارا حکمران طبقہ اپنے اللوں تللوں میں مصروف ہے ۔
مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کیلئےارباب اقتدار کو سب سے پہلے کفایت شعاری کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔ سرکاری اخراجات میں کمی، پروٹوکول کلچر کا خاتمہ اور غیر ضروری مراعات کا سدباب وقت کی اہم ضرورت ہے۔ غربت اور مہنگائی میں پسے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے عوامی بے چینی اور اضطراب میں مزید اضافہ ہوگا۔ پاکستانی عوام پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور بڑی مشکل سے جسم کا رشتہ روح سے برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ایسی پالیسیاں تشکیل دے جو عام آدمی کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ حکومت فوری طور پر مہنگائی پر قابو پانےکیلئے ٹھوس اقدامات کرے، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے عملی منصوبہ بندی کرے۔ اگر حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو عوام کا ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ملک بھر میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی جانب سے وزرا اور بیوروکریٹس کیلئے کروڑوں روپے کی نئی گاڑیاں خریدنے کا حالیہ فیصلہ بھی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
اس سے قبل بھی گیارہ ارب روپے مالیت کاجہاز خرید کر پنجاب حکومت نے اپنی ترجیحات واضح کر دی تھیں کہ انہیں عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ پنجاب حکومت اپنی آسائشوں اور نمود و نمائش میں مگن ہے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک طرف مہنگائی کے ستائے عوام کو کفایت شعاری کے لیکچر دیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہمارا حکمران طبقہ قومی خزانے کو بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔موجودہ حالات میں عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے۔ مزدور، دیہاڑی دار اور متوسط طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے لیکن حکومتی اشرافیہ کی عیاشیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملک کے معاشی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔گرانفروشی اور ناجائز منافع خوری بھی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔ سرکاری انتظامیہ کی نااہلی کے باعث مارکیٹوں میں من مانے ریٹ وصول کیے جا رہے ہیں۔
جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے، نہ کہ ایسے اقدامات کرے جو ان کی پریشانیوں میں اضافہ کریں۔دکھاوے اور نمائشی اقدامات درحقیقت عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شاہ خرچیوں کو کم کریں، سادگی اختیار کریں اور قومی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے ۔حکومت فوری طور پر مہنگائی پر قابو پانے، پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے اور اشرافیہ کے غیر ضروری اخراجات روکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے اور ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔