• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا اس وقت ایک ایسے غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگی تنازعات، معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ مغربی ممالک بھی ان حالات سے کسی حد تک متاثر ہو رہے ہیں، تاہم اصل اور شدید دھچکا ایشیائی ممالک کو لگا ہے۔ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، ویتنام، جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن اور دیگر علاقائی معیشتیں اس بحران کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں اور انکی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔عالمی سیاست میں طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے اور صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل کی سیکورٹی کے علاوہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی ترقی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) اور الیکٹرک وہیکلز سمیت متبادل توانائی کے شعبوں میں پیش رفت، امریکہ کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کی طرف سے چین کو محدود کرنے کیلئے ان ممالک کے گرد دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جو چین کو تیل فراہم کرتے ہیں،اس جارحانہ حکمت عملی کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور اسکے اثرات براہِ راست ایشیائی ممالک پر پڑ رہے ہیں۔خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی فراہمی اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلات زر، ایشیائی ممالک کی معیشتوں کیلئےریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال ، سری لنکا، فلپائن اور انڈونیشیا کے لاکھوں افراد خلیجی ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ ان افراد کا جانی اور مالی تحفظ، نیز ان کا مستقبل، اس جنگ کی طوالت سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو نہ صرف ان افراد کے روزگار کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ انکے ذریعے آنے والا زرِ مبادلہ بھی متاثر ہوگا۔ توانائی کے شعبے میں تیل کے علاوہ جنوبی ایشیائی ممالک کا قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ایل این جی (LNG) کی سپلائی پر انحصار رہا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز کی بندش، سپلائی میں رکاوٹ اور گیس و تیل کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات نے ان ممالک کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ توانائی کی قلت اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ نہ صرف صنعتی پیداوار کو متاثر کرتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی کو بھی مفلوج کردیتا ہے۔ کھاد اور پانی کی کمی بیشتر ممالک میں غذائی قلت کا سبب بن سکتی ہے ۔پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں صورتحال خاصی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف صنعتی سرگرمیوں خصوصاً لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں کمی اور سستی شمسی توانائی (سولر انرجی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی اور ایل این جی کی طلب میں کمی کر دی ہے، جبکہ دوسری جانب طویل المدتی گیس معاہدے جو ایک بوجھ بن چکے تھے اب منسوخ ہو جائیں گے ۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین میں کسی بھی قسم کا تعطل ملک میں مہنگائی کے طوفان کو جنم دے سکتا ہے، جو معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ جنگ کے اثرات سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک نے غذائی اور توانائی کے تحفظ (انرجی کنزرویشن) کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس سلسلے میں اسکولوں اور کالجوں کی بندش، دفتری اوقات میں کمی، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ،لاک ڈاؤن اور راشننگ جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات وقتی طور پر ضروری محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کے منفی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ، کاروباری و تعلیمی سرگرمیوں میں کمی اور بیروزگاری میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر سکتے ہیں۔ جب لوگوں کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے تو معیشت کا پہیہ مزید سست پڑ جاتا ہے۔ چھوٹے کاروبار بند ہونے لگتے ہیں اور صنعتی پیداوار میں کمی آتی ہے، جس سے مجموعی معاشی صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم نہ صرف ان چیلنجز کو سمجھیں بلکہ ان کا مقابلہ کرنے کیلئے مؤثر حکمتِ عملی بھی اختیار کریں۔ انفرادی سطح پر سادگی کو اپنانا، غیر ضروری اخراجات سے بچنا اور بچت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجتماعی سطح پر حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دے ، سرکاری دفاتر ، گھروں اور گاڑیوں میں بجلی و پیٹرول کا مصرف کم کرے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ مزید برآں، مقامی صنعتوں کو سہارا دینا، زراعت کے شعبے کو مضبوط کرنا ،برآمدات میں اضافہ کرنا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ایسے اقدامات ہیں جو معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ عالمی بحران محض وقتی ہلچل نہیں بلکہ ایک گہری تبدیلی کا پیش خیمہ ہے، جو آنے والے برسوں میں عالمی معیشت اور طاقت کے توازن کو ازسرِنو تشکیل دے سکتی ہے۔ ایسے حالات میں کسی خوش فہمی میں رہنا یا وقتی اقدامات کافی نہیں بلکہ طویل المدتی سوچ، مضبوط پالیسی سازی اور اجتماعی بصیرت کی اشد ضرورت ہے۔ مستقبل میں عالمی طاقتوں کی معاشی مدد اور حفاظتی چھتری پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک کو میسر نہیں ہو گی ، ان ممالک کو اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر خود انحصاری، علاقائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی۔ توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی صنعتوں کی بحالی ، انسانی وسائل کی ترقی اور عالمی تعلقات و تجارت میں اضافہ وہ ستون ہیں جن پر ایک مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ آنے والے گھمبیر حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ دیا جائے، کیونکہ کسی بھی بحران سے نکلنے کیلئے قومی یکجہتی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر پالیسی ساز بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کریں اور عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو شدید سے شدید حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، محض وقتی اقدامات اور غیر مربوط حکمتِ عملی ہمیں مزید مشکلات کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ یہ وقت حقیقت پسندانہ اپروچ، مضبوط ارادے اور عملی اقدامات کا ہے۔ اگر ہم نے اپنی کمزوریوں کو پہچانا اور بروقت اصلاحات کیں تو یہی مشکل وقت ایک نئے، مضبوط اور خود کفیل پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، تاخیر اور غفلت یا حد سے بڑھی خود اعتمادی ہمیں ایک ایسے معاشی اور سماجی بحران میں دھکیل سکتی ہے جس سے نکلنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

(صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)

تازہ ترین