حسن جہانگیر کے گیت ہوا ہوا کو 40 برس مکمل ہوگئے، ساتھی فنکاروں نے جشن منایا اور کیک کاٹا۔ نامور کامیڈین ایاز خان اور افضال اڈھیہ نے یادیں تازہ کیں۔
1986 کا یہ زمانہ تھا، جب گھر گھر وی سی آر کے ذریعے بالی ووڈ فلمیں دیکھی جاتی تھیں، ایسے میں پاکستان کے پاپ سنگر حسن جہانگیر نے ایک ایسا گیت گایا، جو بھارت میں اتنا سنا گیا کہ مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔
1986 میں ریکارڈ کیے گئے اس گانے کو 2026 میں 40 برس مکمل ہوگئے۔ 40 برس قبل ایسی ہوا چلی جس نے پورے ساﺅتھ ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ گانا اب تک بالی ووڈ کی درجنوں فلموں میں شامل کیا جا چکا ہے۔ بالی ووڈ کے سپر اسٹار سنجے دت پر مختلف فلموں میں تین بار فلمایا جاچکا ہے۔
2025 کی پاکستان مخالف متنازع بھارتی فلم دھریندر میں سنجے دت کے سین پر فلمایا گیا۔
صدارتی ایوارڈ یافتہ پاپ گلوکار حسن جہانگیر نے جنگ ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 1989 سے 2025 تک درجنوں بالی ووڈ فلموں میں شامل کیا گیا، ابتدا میں میرے اس گیت کا مذاق بنایا گیا۔
بقول حسن جہانگیر کہ اس دھریندھر میں گانا شامل کرنے کے لیے پیشگی اجازت اور 50 ہزار ڈالر مجھے ادا کیے گئے۔
شاید ہی کوئی گیت ایسا ہوگا کہ جو 40 برس سے مختلف بھارتی فلم اسٹارز پر فلمایا جارہا ہو۔ امیتابھ بچن، گووندا، سنی دیول، نصیر الدین شاہ، ارجن کپور اور دیگر اسٹارز پر یہ سونگ فلمایا گیا۔
کبھی کبھی اس کے بول بھی بدل دیے گئے، مگر میوزک وہی رکھا گیا۔ 1989 میں ریلیز ہونے والی فلم بلو بادشاہ میں گووندا نے فرمائش کرکے ہوا ہوا گیت اپنی آواز میں گا کر فلم میں شامل کیا۔
1990 میں سنی دیول کی فلم آگ کا گولہ میں یہ گیت شامل کیا گیا۔ 2012 میں نصیر الدین شاہ کی فلم چالیس چور اسی میں اور 2017 میں نئی نسل کے اداکار ارجن کپور کی فلم مبارکاں میں میکا سنگھ کی آواز میں شامل کیا گیا۔
حسن جہانگیر نے کہا کہ ابتدا میں جب میں نے اس گانے کو اپنے ریکارڈنگ انجینئر کو سنایا تو انہوں نے میرا مذاق بنایا۔ میں ان کو یہی کہتا تھا کہ دیکھنا یہ گانا پوری دنیا میں دھوم مچائے گا اور پھر وہی ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس گانے کی مقبولیت کے بعد جب میں بھارت کے دورے پر گیا تو وہاں کے ایک کنسرٹ میں رش کی وجہ سے پہنچنا مشکل ہوگیا تھا۔ شو کی انتظامیہ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میری کنسرٹ میں انٹری کروائی۔
نامور گلوکار نے کہا کہ مجھے جو بھی عزت ملی، وہ سب میرے ملک پاکستان سے ملی۔ مجھے پاکستان حکومت نے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا اور کراچی میں میرے نام سے ایک اسٹریٹ بھی قائم کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فنکار کو کوئی سرحد نہیں ہوتی، میری آواز امن و محبت اور مٹی کی خوشبو سے معطر ہے۔