ایک گزارش پر توجہ دیجئے، آج کا قصہ صرف وہ لوگ پڑھیں جو کرکٹ کھیل سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ آپ خواہ مخواہ حیران، پریشان نہ ہوں۔ دنیا کے کئی ممالک کےلوگ دیوانہ وار کسی نہ کسی کھیل سے خاص طور پر فٹبال کھیل سے محبت کرتے ہیں۔ برازیل کا نام سنا ہے آپ نے؟ ارجنٹینا کا نام سنا ہے آپ نے؟ اسی طرح کے کئی ممالک کے لوگ فٹ بال کھیل کی محبت میں مرمٹنے کو تیار رہتے ہیں۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ہم بات نہیں کرتے۔ ہم پاکستان اور ہندوستان کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستان والے کرکٹ کھیل کے جنون میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ انہوں نے کرکٹ کھیل کو اپنے عقیدے کا حصہ بنالیا۔ پچھلے دنوں ورلڈکپ جیتنے کے بعد ٹرافی احمد آباد کے مندر میں بھگوان کو دکھانے کے لیے لے گئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹرافی بھگوان کو دکھانے کے لیے مندر لے جانے والی بات پر ہندوستان کی ٹیم کو دنیا بھر سے ملامت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مگر میں نے ہندوستان کی ٹیم کو اس بات پر برا بھلا نہیں کہا تھا، سب جائز ہوتا ہے، پچاس رنز بنانے کے بعد ہمارے بیٹسمین ہزاروں لوگوں کے سامنے اسٹیڈیم میں سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ حالانکہ وہ یہ کام میچ کے بعد تنہائی میں بھی کرسکتے ہیں، جیسے کہہ رہے ہوں، دیکھو میں کس قدر اچھا اور نیک مسلمان ہوں، مگر جب کبھی ہمارا بیٹسمین زیرو پر آئوٹ ہوجاتا ہے، تب وہ آسمانوں کی طرف نہیں دیکھتا۔ وہ ندامت سے سر جھکائے پویلین کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ میں نے آج تک ایسا کوئی کھلاڑی نہیں دیکھا کہ جو زیرو پر آئوٹ ہونے کے بعد سجدے میں گر پڑا ہو اور اس نے رو، رو کر رب العزت سے معافی مانگی ہوکہ اے اللّٰہ میری خطائیں معاف کر، مجھ سے ضرور کوئی ایسا گھنائونا گناہ سرزد ہوا ہے کہ جس کی پاداش میں تونے مجھے زیرو پر آئوٹ کروا دیا ہے۔ سجدے میں گر کر گڑگڑاکر معافی مانگتے ہوئے میں نے آج تک کسی بیٹسمین کو نہیں دیکھا۔ ہندوستان میں کرکٹ کے حوالے سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے، وہ کتاب لاکھوں کی تعداد میں بکی ہے، کتاب کا عنوان ہے۔ ’’اگر کرکٹ دھرم ہے، تو پھر سچن ٹنڈولکر بھگوان ہیں۔‘‘ کتاب انگریزی میں شائع ہوئی ہے، کتاب دو صحافیوں، وجے سنتھا نام اور بالا سبرامینین نے لکھی ہے۔ فارورڈ کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے لکھا ہے۔
یہ تو ہوئیں کرکٹ سے والہانہ محبت کے بعد عقیدے کی باتیں، کسی کے عقیدے کے بارے میں کچھ کہنا میں مناسب نہیں سمجھتا، خاص طور پر ہندوستان سے میچ جیتنے کے لیے دعائیں مانگنا اور منتیں مانگنا اب ہمارے یہاں مقدس رواج بن چکا ہے۔ مقدس رواج کے بارے میں ٹیکا ٹپنی کرنےسے میں گریز کرتا ہوں، مگر میری یہ تمنا ہے کہ ایک ایسا بیٹسمین دیکھوں کہ جو بری طرح سے زیرو پر آئوٹ ہونے کے بعد اسٹیدیم میں ہزاروں کی تعداد میں موجود لوگوں کے سامنے سجدہ میں گر پڑے اور رو رو کر رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اعتراف کرے کہ ضرور میں نے کوئی ایسا گناہ کردیا ہے کہ جس کی پاداش میں میںذلت سے آئوٹ ہوا ہوں اور وہ بھی صفر پر، کرکٹ کھیل میں ذلت آمیز طریقے سے آئوٹ ہونے کے کئی نمونے ہوئے ہیں۔ مثلاً نو بال پر رن آئوٹ ہونا۔ آپ نے نوبال کھیلی اور فوراً ایک رن بنانے کے لیے دوڑ پڑے۔ سامنے والے کھلاڑی نے بھاگنے سے انکار کردیا اور اپنی جگہ جم کر کھڑا رہا تب تک آپ آدھی پچ پار کرچکے تھے اور نوبال پر رن آئوٹ ہوچکے تھے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا طریقہ بھی بڑا ہی ذلت آمیز ہوتا ہے آئوٹ ہونے کا۔ مثلاً رن آئوٹ سے بچنے کے لیے آپ نے آخرکار وکٹوں تک پہنچنے کے لیے چھلانگ لگا دی اور تیزی سے قلا بازیاں کھاتے ہوئے سیدھے جاکر وکٹوں سے لگے اور آئوٹ ہوگئے۔ مضحکہ خیز طریقے سے آئوٹ ہونے کے بعد کبھی کبھار آپ کے زخموں پر نمک پاشی بھی ہوجاتی ہے۔ آئوٹ ہونے کے فوراً بعد آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ چھلانگ لگاکر وکٹوں تک پہنچنے کی کوشش میں آپ اپنی ٹانگ اور بازو تڑوا بیٹھے ہیں۔
جب کبھی معقول بات سمجھ میں آجائے، تب اس بات کو مزید سمجھنے کے لیے خواہ مخواہ دہرانا نہیں چاہیے۔ سن لیجئے کہ ٹی ٹوئنٹی یعنی بیس بیس over کا کرکٹ میچ کسی بھی صورت میں کرکٹ کا جدید طریقہ کار نہیں ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو میری عمر کے کھڑوس کرکٹروں سے مل کر تصدیق کروالیجئے۔ ستر، اسی برس پرانی بات ہے، نوے برس پرانی بات بھی ہوسکتی ہے، تب شہر کراچی کی سڑکیں ویران پڑی رہتی تھیں، خاص طور پر رات کے وقت، روزہ کھولنے کے بعد کرکٹ کے نوجوان کھلاڑی اور ہونہار بچے اپنے گھروں کے سامنے سڑک پر کرکٹ کھیلنے نکل پڑتے تھے۔ کھیل کا ٹائم بانٹ کر آپس میں میچ کھیلتے تھے اور ڈھائی تین گھنٹوں میں میچ اپنے اختتام کو پہنچ جاتے تھے۔ یہی ٹوئنٹی کرکٹ کی ابتدا تھی۔ بیٹنگ کرنے کے سارے اصول بدل جاتے تھے۔ آف اسٹمپ سے باہر پھینکی ہوئی گیند کو آپ باہر نکل کر قدم بڑھاکر آف اسٹمپ سے گیند کو لپیٹ کر اسکوائر لیگ سے اوپر چھکا لگا سکتے تھے، کرکٹ کے اصولوں کو ہم لوگ ملیامیٹ کردیتے تھے۔اپنے دور کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیل ہم سڑکوں اور فٹ پاتوں پر کھیلتے تھے۔ اس لیے فیلڈنگ کرتے ہوئے ہم لوگ آج کل کے کھلاڑیوں کی طرح سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر غوطہ یا ڈبکی نہیں مارتے تھے۔ ہم گیند کو بائونڈری پار کرتے ہوئے صرف دیکھ سکتے تھے۔ جس طرح پانی کے تالاب میں چھلانگ لگاتے ہیں، ہم گیند کے پیچھے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر چھلانگ نہیں لگاتے تھے۔ اس لیے ہم لوگ ہمیشہ کے لیے ان فٹ ہونے سے بچ جاتے تھے۔