• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناظرین مجھے نیچرل گیٹ اپ میں ہی پسند کرتے ہیں، ایوب کھوسہ

 سینئر اداکار ایوب کھوسہ کو جیو کی نئی ڈراما سیریل ہمراہی میں ’لالا‘ کے دبنگ کردار میں بے حد پسند کیا جارہا ہے۔ 

جنگ ڈیجیٹل سے گفتگو میں لاجواب اداکار ایوب کھوسہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہمراہی میں میرا کردار ’لالا‘ کا شاندار رسپانس مل رہا ہے، مجھے مختلف شہروں اور بیرون ملک سے مداحوں کی کالز اور تعریفی پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمراہی میں بابر جاوید نے عمدہ ڈائریکشن دی ہے، تمام فنکاروں سے جم کر اداکاری کروائی ہے، ڈرامے کا پروڈکشن لیول بھی عالمی معیار کا ہے۔

سینئر اداکار نے یہ بھی کہا کہ دانش تیمور اور شہزاد نواز نے اپنے اپنے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابتدائی 2 اقساط کو سوشل میڈیا پر 2 کروڑ سے زیادہ ناظرین نے دیکھا ہے۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار ایوب کھوسہ نے بتایا کہ 2026ء میرے لیے بہت ساری کامیابیاں لے کر آیا ہے، میرے 2، 3 ڈرامے مختلف ٹی وی چینلز پر آن ائیر ہیں، اور ماہرہ خان کی فلم ’’آگ لگے بستی میں‘‘ میرے کام کو سراہا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ تابش ہاشمی کے ساتھ کام کرکے بہت انجوائے کیا۔

آپ کا عام زندگی میں جو گیٹ اپ ہے، وہی ڈراموں اور فلموں میں ہوتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں ایوب کھوسہ نے بتایا کہ ناظرین نے میرے نیچرل گیٹ اپ کو قبول کرلیا ہے، میں نے اپنا گیٹ اپ تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی، کلین شیو بھی ہوا، مونچھوں کے بغیر بھی ڈراموں میں کام کیا، لیکن ناطرین نے مجھے میرے لمبے بالوں کے ساتھ زیادہ پسند کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے بیٹے نے میری طرح لمبے بال رکھے تو میں نے اسے صاف کہہ دیا کہ یا تو تم لمبے بال رکھ لو، یا پھر مجھے رکھنے دو۔

ایوب کھوسہ نے بتایا کہ میں نے ڈائریکشن کے شعبے میں بھی کام کیا، جیو کے ڈرامے ’سوکھے پتے‘ کی ڈائریکشن دی، یہ ڈراما پاکستان اور کینیڈا میں شوٹ کیا گیا تھا، فنکاروں میں عظمیٰ گیلانی، فرح شاہ، سنیتا مارشل، سعود، نیلما حسن اور بھارت کے معروف اداکار سریش اوبرائے بھی شامل تھے، ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرنا مشکل لگا، کیوں کہ فنکار تعاون نہیں کرتے، اس کے باوجود بھی میں نے اچھا رزلٹ دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ میرے مقبول ڈراموں میں چھاؤں، بھنور، ناخدا، دروازہ، دشت، پنجرہ، سسّی، آہن، کشکول، باغی، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں اور دیگر شامل ہیں۔

جن فیچر فلموں میں نے کام کیا، اُن میں جیو ٹی وی کی مشہور زمانہ فلم ’’خدا کے لیے‘ سلطنت، 021، یلغار، ویلکم ٹو کراچی ہجرت، رویج آف دا ورتھ لیس اور آگ لگے بستی میں شامل ہیں۔

میں نے ’’جانو‘‘ ڈراما لکھا تو اسے بہت پسند کیا گیا، اس میں لیڈنگ رول بھی میں نے خود کیا، اس ڈرامے پر مجھے ’بیسٹ رائٹر‘ کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی ملا۔

اس سے قبل مجھے بحیثیت اداکار کئی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا، لیکن مجھے پہلا ایوارڈ بحیثیت ڈراما نگار ملا، اس کے بعد پی ٹی وی کی جانب سے بہترین اداکاری کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید