پاکستانی میوزک انڈسٹری سے وابستہ گلوکار و اداکار علی ظفر نے ساتھی گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنے کے بعد کامیابی پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔
45 سالہ گلوکار نے 31 مارچ کو پاکستانی نژاد کینیڈین گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہائی پروفائل ہتکِ عزت کے مقدمے میں 8 سال پر محیط طویل قانونی جنگ لڑنے کے بعد کامیابی حاصل کر لی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ میشا شفیع پیشیوں کے دوران عدالت میں حاضر نہیں ہوئیں اور نہ ہی وہ اپنے الزامات کے حق میں خاطر خواہ شواہد پیش کر سکیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے تمام گواہان عدالت کے روبرو پیش کیے، جس کے بعد عدالتی فیصلہ ان کے حق میں آ گیا۔
اپنی نمایاں فتح کے 2 روز بعد گزشتہ روز علی ظفر نے فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کر کے اس معاملے پر خاموشی توڑی۔
انہوں نے لکھا کہ میں خدا کا شکر گزار ہوں اور اُن تمام افراد کا بھی جنہوں نے میری زندگی کے مشکل ترین وقت میں میرا اور سچ کا ساتھ دیا۔
اہم قانونی کامیابی کے باوجود علی ظفر کا کہنا ہے کہ میں اس فتح کو جشن کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ میرے دل میں صرف عاجزی و انکساری اور شکر گزاری کے جذبات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر انصاف ہو گیا ہے، مجھے کسی قسم کی فتح کا احساس نہیں، صرف عاجزی اور شکر گزاری ہے، میں کسی کے خلاف کوئی منفی جذبات نہیں رکھتا۔
علی ظفر نے یہ بھی لکھا ہے کہ میرے لیے یہ باب اب بند ہو چکا ہے، میں دعا کرتا ہوں کہ ہم سب وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھیں۔
واضح رہے کہ منگل کے روز لاہور کی ایک عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
علی ظفر نے 2018ء میں میشا شفیع کی جانب سے ہراسانی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد اُن کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جو پاکستان کے نمایاں ترین می ٹو مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔