امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ہونے تک بحری محاصرہ جاری رکھا جائے گا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ محاصرہ بمباری سے زیادہ مؤثر ہے اور اس سے ایران پر دباؤ مزید بڑھے گا۔
ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی بحری محاصرے کے خاتمے کو شرط قرار دیا تھا جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز میں اپنی پابندیاں ختم کرنے کے بدلے امریکی محاصرہ ختم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا۔
امریکی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور تیل کی قیمتیں 119 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ امریکا میں پیٹرول کی قیمت 4.22 ڈالرز فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے الزام لگایا ہے کہ امریکا ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
الجزیرہ کا دعویٰ ہے کہ ایک ایرانی ذریعے نے بتایا ہے کہ ایران نے امریکا کو ’عملی اور غیر معمولی اقدام‘ کی دھمکی بھی دی ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاملے پر تعطل برقرار ہے، ایران یورینیئم افزودگی کے حق پر قائم ہے جبکہ امریکا مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تو ہوئی ہے تاہم کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ایسی صورتِ حال میں روس نے بھی تنازع کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔