برطانوی شاہ چارلس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والی نجی گفتگو منظرِ عام پر آنے کے بعد شاہی محل نے خاموشی توڑ دی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانوی شاہ چارلس ایران کے جوہری عزائم پر میرے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران جوہری بم نہیں رکھ سکتا، امریکا نے ایران کو فوجی شکست دی ہے۔
ٹرمپ کے دعوے پر ردِعمل دیتے ہوئے بکنگھم پیلس کے ترجمان نے کہا ہے کہ بادشاہ اپنی حکومت کے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق دیرینہ اور معروف مؤقف سے باخوبی آگاہ ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان نے اس لیے توجہ حاصل کی ہے کیونکہ انہوں نے بادشاہ کو ایک ایسے سیاسی تنازع سے جوڑا جس پر پہلے ہی امریکی صدر اور برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔
برطانوی شاہی روایت کے مطابق شاہ چارلس حکومتی پالیسیوں پر غیر جانبدار رہتے ہیں اور برطانیہ کے آئینی سربراہِ مملکت کی حیثیت سے سیاسی بیانات سے گریز کرتے ہیں۔
شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا کا یہ 4 روزہ سرکاری دورہ (آج) 30 اپریل کو مکمل ہو رہا ہے، جو امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع سے ہم آہنگ ہے۔