کسی درویش کا ہے خوف طاری، رو پڑے ہیں
بڑا شیطان اور اُس کے حواری رو پڑے ہیں
جسے بچّہ جمُورا سمجھے، اُن کا باپ نکلا
تماشا بن گئے ہیں خُود مداری، رو پڑے ہیں
محَل میں پادری بُلوا کے مروائی ہیں پُھونکیں
صلیبی جنگ کے سب اشتہاری رو پڑے ہیں
دلیری کا نیا سِکّہ ہُوا ہے ایسے رائج
مقدّس ڈالروں کے کاروباری رو پڑے ہیں
علی کے جنگجو بیٹوں کی للکاریں تو سُنیے
سُنا ہے مرحب اور اُس کے پُجاری رو پڑے ہیں
فُراتِ شام کی بندش تو ہم نے ہنس کے سہہ لی
مگر ہُرمز ہے ان پر ضرب کاری، رو پڑے ہیں
یہ منظر دیکھنے والا ہے، جنگل والو! دیکھو
ہرن ہنسنے لگا ہے اور شکاری رو پڑے ہیں
یزیدی لشکری، اہلِ کلیسا، اہلِ مغرب
جو باری باری آئے، باری باری رو پڑے ہیں
لگا کر شرط آئے تھے کہ دو دن کی ہے بازی
مہینہ ہونے کو آیا، جواری رو پڑے ہیں
یہ فارس مومنوں کے صبر کا ہی معجزہ ہے
فسادی رو پڑے ہیں، انتشاری رو پڑے ہیں