دنیا جب ہر سال24مارچ کو’’عالمی یومِ تپِ دق‘‘ مناتی ہے، تو یہ دن صرف ایک علامتی یاد دہانی نہیں، ایک اجتماعی احتساب کا موقع بھی بن جاتا ہے، جہاں یہ سوال شدّت سے اُبھرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ٹی بی جیسے پرانے، مگر مسلسل موجود خطرے کو ختم کرنے کے قابل ہیں؟ سال2026ء میں بھی اِسی سوچ کے تحت یہ دن منایا گیا، جس کا پیغام’’ Yes! we can end TB‘‘ نہ صرف اُمید افزا ہے، بلکہ ایک عملی لائحۂ عمل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں آبادی کا دباؤ، صحت کے وسائل کی محدودیت اور سماجی مسائل ایک ساتھ موجود ہیں، یہ ہدف ایک مشکل چیلنج ضرور ہے، تاہم حالیہ برسوں میں تشخیص، علاج اور آگاہی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت اِس امر کا عندیہ دیتی ہے کہ اگر یہ کوششیں مزید مربوط اور پائے دار بنا لی جائیں، تو یہ خواب حقیقت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
2024 ء کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً10.7 ملین افراد ٹی بی کا شکار ہوئے، جو اِس بیماری کے عالمی سطح پر مسلسل پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے اور اِس بات کی نشان دہی بھی کہ یہ مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اُسی سال تقریباً1.23 ملین افراد ٹی بی کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جو اِس بیماری کی سنگینی اور بروقت علاج کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
اگرچہ، 2015 ء کے بعد اموات میں تقریباً 29 فی صد کمی آئی ہے، تاہم یہ پیش رفت ابھی بھی عالمی ہدف کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جاتی ہے اور مزید تیز اقدامات کی ضرورت ظاہر کرتی ہے۔ دنیا کے چند ممالک میں کیسز کا زیادہ ہونا اشارہ ہے کہ جہاں غربت، غذائی قلّت اور صحت کا کم زور نظام موجود ہو، وہاں ٹی بی زیادہ شدّت سے پھیلتی ہے۔
پاکستان دنیا کے اُن پانچ ممالک میں شامل ہے، جہاں ٹی بی کا بوجھ سب سے زیادہ ہے اور عالمی کیسز کا تقریباً6.3 فی صد حصّہ پاکستان میں پایا جاتا ہے، جو اِس مسئلے کی قومی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔2024ء میں تقریباً670,000کیسز رپورٹ ہوئے، جب کہ تقریباً 47,000 افراد اِس بیماری کے باعث جاں بحق ہوئے۔
ہر سال تقریباً 611,000 افراد ٹی بی کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے لگ بھگ 16,000 مریض ملٹی ڈرگ ریزیسٹنٹ ٹی بی(MDR-TB) میں مبتلا ہوتے ہیں، جو علاج کے ضمن میں زیادہ پیچیدہ اور منہگی ہے، جب کہ غیر تشخیص شدہ، نان رپورٹڈ کیسز اس کے علاوہ ہیں۔
سندھ، خصوصاً کراچی، مُلک کے تقریباً25 سے30 فی صد ٹی بی کیسز کا مرکز ہے۔ زیادہ کیسز کا مطلب صرف بیماری کا پھیلاؤ نہیں، بلکہ بہتر رپورٹنگ، فعال سرویلنس، مؤثر کیس فائنڈنگ اور مضبوط مانیٹرنگ کا نتیجہ بھی ہے، جو محکمۂ صحت کی کارکردگی کی عکّاسی کرتا ہے۔
اِس ضمن میں وزیرِ صحت و بہبود آبادی، سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اور سیکرٹری ہیلتھ، طاہر حسین سانگی کی قیادت اور خصوصی کوششیں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
اِنہی کی خصوصی توجّہ اور حکمتِ عملی کی بدولت سندھ میں کیس فائنڈنگ میں اضافہ، سرویلنس بہتر اور مریضوں کی بروقت تشخیص ممکن ہوئی ہے۔ کراچی کی گنجان آبادی، صحت کی سہولتیں، میڈیا کی رسائی اور عوامی آگاہی نے بھی اِس کام یابی میں مدد دی ہے۔
تاہم شہری دباؤ، کچّی آبادیوں میں رہائش، محدود سہولتیں اور غذائی قلّت جیسے عوامل بیماری کے پھیلاؤ کو پیچیدہ بناتے ہیں، جو اِس مسئلے کو طبّی، سماجی اور معاشی اعتبار سے ایک بڑا چیلنج بناتے ہیں۔
دو ہفتوں سے زیادہ رہنے والی کھانسی ٹی بی کی عام علامت ہے، جو بعض اوقات بلغم یا خون کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور اسے ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بخار، رات کو پسینہ، وزن میں کمی، بھوک کا کم ہونا، مسلسل تھکن اور سانس لینے میں دشواری بھی اِس بیماری کی اہم علامات ہیں۔
یہ بیماری ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے، خاص طور پر جب متاثرہ فرد کھانستا یا چھینکتا ہے، اِس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ اِن تدابیر میں ماسک کا استعمال، منہ ڈھانپنا، گھروں میں ہوا کی بہتر آمد ورفت اور صحت بخش طرزِ زندگی اپنانا شامل ہے۔ بچّوں کو بی سی جی ویکسین لگوانا بھی ایک مؤثر حفاظتی اقدام ہے، جو شدید اقسام سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
مُلک بَھر میں1700سے زائد ٹی بی مراکز پر مفت تشخیص اور علاج کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جو حکومت کی جانب سے اِس بیماری کے کنٹرول کے لیے ایک مضبوط قدم ہے۔2022 ء میں تقریباً424,000مریضوں کا کام یاب علاج کیا گیا، جو اِس امر کی واضح دلیل ہے کہ اگر مریض کی بروقت تشخیص ہو اور وہ مکمل علاج کروائے، تو مکمل صحت یابی ممکن ہے۔
جدید ٹیکنالوجی، جیسے GeneXpert اور ڈیجیٹل ایکس رے کے استعمال سے تشخیص کا عمل تیز اور مؤثر بنایا جا رہا ہے، جس سے بروقت علاج کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ جب کہ صوبائی سطح پر ہر صوبے میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
2018 ء سے2020ء کے دوران کیسز میں کمی دیکھی گئی، تاہم یہ کمی بیماری کے حقیقی خاتمے کی عکّاسی نہیں کرتی، بلکہ کوِوڈ-19 کے دوران کم رپورٹنگ اور محدود رسائی کا نتیجہ تھی۔ اِس عرصے کے دوران بڑی تعداد میں مریض صحت کے نظام تک نہیں پہنچ سکے، جنہیں’’Missing Cases‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ افراد معاشرے میں بیماری کے پھیلاؤ کا خاموش ذریعہ بنے رہے۔2021 سے 2023 ء کے دوران کیسز میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا اور 2023 میں کیسز کی تعداد475,761 تک پہنچ گئی، جو ایک نمایاں اضافہ تھا۔
یہ اضافہ دراصل بہتر سرویلنس، اسکریننگ اور فعال کیس فائنڈنگ کا نتیجہ ہے، جو اِس امر کی نشان دہی ہے کہ صحت کا نظام زیادہ مؤثر انداز میں مریضوں تک پہنچ رہا ہے۔ اِس رجحان کو منفی کی بجائے مثبت انداز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، کیوں کہ زیادہ کیسز کی تشخیص کا مطلب ہے کہ زیادہ افراد کو علاج فراہم کیا اور بیماری کا پھیلاؤ روکا جا رہا ہے۔
٭غیر تشخیص شدہ کیسز ایک بڑا مسئلہ ہیں، کیوں کہ بہت سے مریض نجی یا غیر رجسٹرڈ مراکز سے علاج کرواتے ہیں، جس کے باعث بیماری کا اصل بوجھ سامنے نہیں آ پاتا۔٭ملٹی ڈرگ ریزیسٹنٹ ٹی بی ایک سنگین خطرہ ہے، جو عموماً ادھورے یا غلط علاج کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، جس کا علاج طویل، منہگا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔٭معاشرتی بدنامی(Stigma )،سماجی تفریق(Discrimination) اور غلط تصوّرات(Myths) مریضوں کو بیماری چُھپانے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے نہ صرف اُن کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیماری دوسروں تک بھی منتقل ہوتی ہے۔
٭غربت، غذائی قلّت اور غیر صحت بخش رہائشی حالات اِس بیماری کا پھیلاؤ تیز اور مدافعتی نظام کم زور بناتے ہیں۔ ٭صحت کے نظام میں وسائل کی کمی(خاص طور پر دیہات میں)بروقت تشخیص اور علاج کی فراہمی کو متاثر کرتی ہے۔
٭جلد تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ جدید ٹیسٹ، جیسے GeneXpert اور موبائل ایکس رے یونٹس مُلک کے دُور دراز علاقوں تک پہنچائے جائیں۔ ٭علاج کی تکمیل یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ مریض ادھورا علاج نہ چھوڑیں اور بیماری دوبارہ یا مزید خطرناک شکل اختیار نہ کرے۔ ٭پھیپھڑوں کی ٹی بی کے مریضوں کے قریبی افراد کی اسکریننگ لازمی ہونی چاہیے تاکہ بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ ٭سماجی بدنامی کے خاتمے کے لیے میڈیا، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی کی سطح پر آگاہی مہمّات چلانا ضروری ہے تاکہ لوگ بغیر خوف ٹیسٹ کروائیں۔ ٭ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز مضبوط بنا کر کیسز کی بروقت نشان دہی اور فوری ردّ ِعمل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ٭مریضوں کو غذائی اور مالی معاونت فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ بلارکاوٹ اپنا علاج مکمل کر سکیں۔
ٹی بی ایک قابلِ علاج بیماری ہے، بشرطیکہ بروقت تشخیص اور مکمل علاج یقینی بنایا جائے۔ اِس ضمن میں آگاہی کو فروغ دینا ہوگا۔ اصل چیلنج دوا کی دست یابی نہیں، علاج تک رسائی، سماجی رویّوں میں تبدیلی اور نظامِ صحت کی مضبوطی ہے۔ پاکستان نے2030 ء تک ٹی بی کے خاتمے کا ہدف مقرّر کیا ہے، جو ایک مشکل، مگر قابلِ حصول ہدف ہے۔ اگر تمام متعلقہ فریق مل جُل کر کام کریں، تو ’’ہاں! ہم واقعی ٹی بی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔‘‘ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)